شام کے صدر بشارالاسد اچانک ایک ایسے شہر میں عید کی نماز پڑھنے کیلئے منظر عام پر آگئے کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی، کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا کہ وہ اُدھر موجود ہیں کیونکہ۔۔۔

شام کے صدر بشارالاسد اچانک ایک ایسے شہر میں عید کی نماز پڑھنے کیلئے منظر عام ...
شام کے صدر بشارالاسد اچانک ایک ایسے شہر میں عید کی نماز پڑھنے کیلئے منظر عام پر آگئے کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی، کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا کہ وہ اُدھر موجود ہیں کیونکہ۔۔۔

  

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک) شام کے صدر بشارالاسد ملک میں جاری بدترین خانہ جنگی کے باعث ایک مدت سے دارالحکومت سے باہر قدم نہیں رکھ پائے تھے لیکن عید الاضحی کی نماز ادا کرنے کے لئے وہ درایہ شہر کی مرکزی جامع مسجد پہنچ گئے، جو ابھی چند دن قبل تک باغیوں کے قبضے میں تھا۔

ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق صدر بشارالاسد نے عیدالاضحی کی نماز درایہ شہر کی سعد بن معاذ مسجد میں ادا کی۔ یہ شہر کچھ عرصہ قبل تک باغیوں کے قبضے میں تھا مگر حال ہی میں شامی افواج نے اسے باغیوں سے آزاد کروالیا۔ اس شہر کا حکومتی افواج نے کئی سال تک محاصرہ کئے رکھا اور بالآخر گزشتہ ماہ باغی اسے چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

’ہمارے ملک کی فوج نے چن چن کر ملک سے مسلمانوں کا صفایا کرنے کی تیاری کرلی ہے اور اب اسرائیل سے۔۔۔‘ بڑے یورپی ملک سے ایسی خبر آگئی کہ جان کر ہر مسلمان کا خون کھول اٹھے

صدر بشارالاسد کے ساتھ ان کی بعث پارٹی کے متعدد رہنماﺅں، وزراءاور پارلیمنٹ کے ارکان نے بھی درایہ میں نماز عید ادا کی۔ باغی جنگجوﺅں کا کہنا ہے کہ انہوں نے شہر کے باسیوں کی حالت زار کے باعث ہتھیار ڈالنے پر رضامندی ظاہر کی کیونکہ حکومتی محاصرے کی وجہ سے شہر کا رابطہ باقی ملک سے کٹ چکا تھا۔

واضح رہے کہ شام میں گزشتہ پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران تقریباً تین لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ملک کی آدھی سے زائد آبادی نقل مکانی پر مجبورہوچکی ہے۔

مزید : بین الاقوامی