جب فوجیوں نے پولیس کا سرعام چالان کاٹا

جب فوجیوں نے پولیس کا سرعام چالان کاٹا
جب فوجیوں نے پولیس کا سرعام چالان کاٹا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تحریر۔شاہدنذیر چودھری

وردی کی طاقت عوام پر دھاک بٹھادیتی ہےتو اب یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ وردی کس ادارے کی طاقتور ہوتی ہے اور کس وردی والے کوقانون شکنی پر آمادہ کس طاقتور بغیر وردی والے کو سلیوٹ کرنا چاہئے۔بغیر وردی فوج کے دوکپتانوں کا چالان کٹنے پر فوج کے ایک میجر اور مسلح جوانوں کا کمک کی صورت پہنچ جانا اس مخصوص وردی کی بالادستی کا اشارہ دیتا ہے۔اور اس سے کئی سبق بھی لئے جاسکتے ہیں۔عقل والوں کے لئے کھلی نشانیاں ہیں کہ یہ پاکستان میں عدل و انصاف اور قانون کے احترام کی وہ گھناو¿نی شکل ہے جو قانون کو اپنے ہاتھ اور پاو¿ں میں مسلنے کا اشارہ دیتی ہے۔

پہلی نظر میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ تصاویر موٹروے پولیس کی وردی میں ملبوس کسی جعلی فرد کی نہیں لگ رہیں ۔تصاویر سے اندازہ ہورہا ہے کہ پاک فوج کے مسلح جوانوں کی موجودگی میں اُس فرد کو جوکہ موٹروے پولیس کا ایک انسپکٹر بیان کیا جاتا ہے اسکی پٹائی کی جارہی ہے۔دوسری نظر میں بھی دیکھا جائے تو لگے گاکہ یہ تصاویر فرضی نہیں ہیں اوروقوعہ بھی فرضی نہیں ہوسکتا کیونکہ جو وقوعہ منظر عام پر آیا ہے پولیس کے ایک انسپکٹر عاطف خٹک نے اسکی ایف آئی آر لکھوارکھی ہے اور بیان کیا ہے کہ اسے پاک فوج کے دوکپتانوں قاسم اوردانیال نے گاڑی کا چالان کاٹنے پر تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں فوجی چھاﺅنی میں بند کردیا گیا۔میڈیا رپورٹس میںایف آئی آر کے مطابق دونوں کپتانوں پر تعزیرات پاکستان کی آٹھ دفعات عائد کی گئی ہیں ۔ان دفعات کا مطلب ہے کہ انہوں نے ڈیوٹی پر موجود سرکاری اہلکار کو سرعام مارا،اسے کام سے روکا،مسلح حالت میں اس پرتشدد کیااور اغوکرکے حبس بیجا میں رکھا وغیرہ۔اس وقوعہ کی صداقت پر تودورائے نہیں ہوسکتیں البتہ یہ وقوعہ کیونکر ہوااسکی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن تادم تحریر سوشل میڈیا پر موٹروے پولیس کے مبینہ فین پیج سمیت کئی نجی پیجز پر پاک فوج کے مبینہ افسروں کے خلاف زہر اگلا اور پولیس افسروں کو مظلومیت کی تصویر قراردیا جارہا ہے۔جو موضوع ڈسکس ہورہا ہے وہ یہی ہے کہ پولیس انسپکٹرنے تیز رفتاری پر سادہ لباس میں ملبوس دونوں کپتانوں کی گاڑی کا چالان کیا تھا۔پہلے وہ اشارہ دینے پرنہیں رکے تو موٹر وے پولیس نے تعاقب کرکے انہیں روکا اور پھر چالان کاٹاتو فوجی افسروں نے انہیں مارا پیٹااور اغواکرلیا۔لہذا قانون کی رٹ قائم کرنے کی پاداش میں سوشل میڈیاپرمذکورہ پولیس انسپکٹرکو حمایت حاصل ہورہی ہے اور سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ ہمارے ہاں دیانتداراورفرض شناس پولیس والوں کو جب بھی کوئی طاقتور ادارہ یا شخصیت تشدد کا نشانہ بناتی ہے تواسکی شنوائی نہیں ہوتی۔بلکہ اسکو ڈی مورالائز کیا جاتا ہے جس سے اسکی فرض شناسی اور دیانتداری ہی نہیں ملک کا قانون بھی مرجاتا ہے اور وہ پولیس والا ستائش و تحسین کی بجائے نشان عبرت بنادیا جاتا ہے۔جہاں تک مذکورہ احساس کا سوال ہے تو پاکستان میں عملاً ایسا ہورہا ہے،ایم پی اے،ایم این اے اور سرکاری افسروں کے بیٹوں کے ہاتھوں بالخصوص ٹریفک پولیس کا پٹ جانا ایک معمول بن چکا ہے اور اسکی کئی مثالیں ہر دوسرے تیسرے روز منظر عام پر آتی ہیں۔ لیکن آج تک فوج کے کسی افسر یا جوان کوڈیوٹی کے دوران پبلک مقام پراسطرح کے تشددکا نشانہ بنانے کی جرا¿ت کسی میں نہیں ہوئی ۔انفرادی طور پر ذاتی حیثیت میں فوجی بھی غلطیاں کرتے ہیں لیکن کوئی ان پر اس لئے ہاتھ نہیں اٹھاتا کیونکہ انکے پیچھے فوج کے ادارے کا خوف ہوتا ہے ۔پولیس انکے لئے ترنوالہ بن جایا کرتی ہے۔اسکی وجہ پولیس اور فوج کے مابین ساکھ اور کارکردگی کا فرق ہے جس نے معاشرے میں قانون کے رکھوالوں کے ساتھ امتیازی رویئے اختیار کرنے کی روایت قائم کردی ہے۔حالانکہ قانون سب کے لئے ایک ہے۔ملک جتنا فوج کا ہے ،اتنا ہی پولیس کا بھی ہے۔ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو عام حالات میں پولیس کا کام فوج سے زیادہ ہے لیکن نہ عوام اسکی قدر کرتی ہے نہ سٹیٹ اور نہ سٹیٹ کے عسکری ادارے۔ایسی صورتحال میں پولیس اور فوج میں جب بھی انفرادی طور پرٹکراو¿ ہوتا ہے تو بدنام ہونے کے باوجود پولیس کو عام طور پرمعاشرے کی حمایت حاصل ہوجاتی ہے ۔اسکاایک منظر ان دنوں ہم دیکھ رہے ہیں اور یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ عوام ظلم اور ناانصافی کرنے والوں کے خلاف احتجاج کرنے سے گریز نہیں کرتی ۔اچھا کام کرنے والوں کی اچھائی کا چرچا بھی کرتی ہے اور برے کام پر ان کا محاسبہ بھی۔فوج کا عوامی محاسبہ جنرل مشرف اورجنرل کیانی کے دور میں کیا جاچکا ہے اور فوج کو دوبارہ عوام کے دلوں میں اتارنے کے لئے جنرل راحیل شریف نے جو کام کیئے ہیں وہ اظہر من الشمس ہیں۔انہوں نے فوج کو پھر سے باوقار اور وردی کا احترام کرنے والا ادارہ بنایا اور قانون کی رٹ قائم کرنے لئے پولیس کا نظام بہتر بنانے کے لئے پیشہ وارانہ سہولیات فراہم کی ہیں ۔

سوشل میڈیا پر عوام کو ملنے والی آزادی کے نتیجے میں بسا اوقات جھوٹ اور غلط بیانی پر بھی ہمدردیاں حاصل ہوجاتی ہےں اور کوئی ایک طاقت غلط پروپیگنڈے کی بنیاد پر اپنے اداروں پر بھڑاس نکالنے لگتی ہے۔اس واقعہ کے پیچھے بھی یہ امکانات موجود ہوسکتے ہیں کیونکہ کوئی بھی عاقل یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ محض چالان کاٹے جانے پر پاک فوج کے دو ذمہ دار افسروں نے ایسا اقدام نہیں کیا ہوگا۔ہمارے ہاں یہ خیال بری تقویت پاگیا ہے کہ عام پولیس کی نسبت موٹر وے اورہائی وے پولیس انتہائی نر م خواورعادل ہے،فرض شناس ہے لیکن اب یہ خیال بھی باطل ہورہا ہے کیونکہ موٹروے اور ہائی وے پولیس کے رویہ نے بہت سی شکایات پیدا کردی ہیں ،یہ غلط چالان بھی کرتی اور بدتمیزی بھی کرتی ہے۔چالان کے نام پر پندرہ بیس منٹ تک آپ کو سڑک کنارے کھڑا رکھتی ہے،بار بار گاڑی کے اندر بیٹھی خواتین کو تکتی اور گھورتی ہے۔لہذا یہ کہنا کہ موٹروے اور ہائی وے پولیس میں فرشتے سروس کرتے ہیں تو ایساایمان فی الحال قائم نہیں کرنا چاہئے۔

امکان ہے کہ اس واقعہ میں بھی پولیس انسپکٹروںنے کوئی ایسی بات کی ہوگی جس پرکپتان تلملائے اور انکی فون کال پر انکے سینئر میجر زعفران مسلح فوجیوں کے ساتھ وہاں پہنچے اور پھر دونوں پولیس انسپکٹروں کی پٹائی کردی۔لیکن یہ بات بہر حال اپنا وزن رکھتی ہے کہ پولیس افسروں نے فوجی افسروں کے ساتھ بد اخلاقی کا مظاہر ہ کیا بھی تھا تو فوجیوں کوان پرہاتھ اٹھانے کی بجائے قانون کے دروازے پر دستک دینی چاہئے تھی۔کیونکہ یہ بات انہیں مدنظر رکھنی چاہئے تھے کہ اس بات کا تماشا بنے گااور فوج بحثیت ادارہ ملامت کا سامنا کرے گی۔انہین سوچنا چاہئے تھا کہ ممکن ہے پولیس انسپکٹرسادہ لباسی کی وجہ سے ان کپتانوں کا احترام نہ کرسکے اور چالان کاٹ دیا۔لیکن یہ پولیس والے تووردی میںڈیوٹی پر موجود تھے اس لئے قانون کے رکھوالوں کو وردی کا لحاظ کرتے ہوئے انہیں سرعام مارپیٹ کر عوام میں رسوا کرنااور انہیں انکی اوقات دکھانے کے لئے انہیں اٹک قلعہ میں لے جانا کہاں کا انصاف ہے؟۔ اس واقعہ پر آئی ایس پی آر کا ردعمل سامنے آچکا ہے اور فوج نے اسکی تفتیش کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ مبینہ واقعہ میں جرم ثابت ہونے پر کپتانوں سمیت دیگر فوجیوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔امید کرنی چاہئے کہ فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اپنی گڈول سے بیرکوں تک محدود رہنے والی فوج کو عوام کے دلوں میں اتار رکھا ہے تو وہ فوجی افسروں کی جانب سے ہونے والی قانون شکنی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔عوام نہیں جانتی کہ فوج کااحتساب کا نظام کتنا سخت ہے،جنرل راحیل شریف اس سے پہلے کرپشن کے الزامات ثابت ہونے پر کئی افسروں کو فوج سے نکال چکے ہیں ۔وہ اختیارات کی کرپشن کے بھی سخت خلاف ہیں ،اگر اس واقعہ میں ثابت ہوجاتا ہے کہ فوجی افسروں نے وردی کے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا کر وردی کو بدنام کیا ہے تو انصاف ہوگا،اور وردی وردی کا احترام کرے گی۔

مزید : بلاگ