خواجہ آصف کی آزاد خارجہ پالیسی

خواجہ آصف کی آزاد خارجہ پالیسی
 خواجہ آصف کی آزاد خارجہ پالیسی

  

خدا تعالیٰ نے کل کائنات میں تمام مخلوق میں سب سے زیادہ خصوصیات انسان کو عطا کی ہیں سب سے بہتر علم انسان کو عطا کیا ہے جس کے بہتر استعمال سے زمین آسمان کی تسخیر میں جتا رہتا ہے ماں کی آغوش سے نکلنے کے بعد جب سن بلوغت میں داخل ہوتا ہے تو اسے جتنا آزادانہ فیصلے کرنے کا اختیار ہوتا ہے وہ اتنی تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کرتا ہے جمہوری اور بادشاہی نظام میں سب سے بڑا فرق یہی ہے کہ ملک کے عوام اور اس کے نمائندے آزادانہ طور پر اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہیں اور ملک ترقی کی جانب گامزن رہتا ہے جبکہ بادشاہی نظام میں فرد واحد کا حکم چلتا ہے جس سے حقیقی ترقی رک جاتی ہے برطانوی حکومت کا سورج دنیا میں غروب نہیں ہوتا تھا جس کی وجہ برطانیہ میں جمہوری بادشاہت تھی اور ہے ۔تمام زیر تسلط ملکوں کا گورنر جنرل خود مختار ہوتا تھا اور حکومتی نظام احسن طریقے سے چلاتا تھا پاکستان میں جمہوری نظام رائج ہو تو گیا لیکن سیاست دانوں نے ملک کو اپنی جاگیر بنا لیا وزراء ہر وقت وزیراعظم کی خوشنودی میں لگے رہتے ہیں تاکہ ان کی وزارت بچی رہے۔

نواز شریف بطور وزیر اعظم اکثر محکمے بشمول وزارت خارجہ اپنے پاس رکھے ہوئے تھے ان کے پاس سعودیہ ، برطانیہ کے دوروں کے بعد کم وقت بچتا تھا جہاں ان کی فیملی کے بزنس موجود ہیں۔ کمزور خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان چار سال تنہائی کا شکار ہوتا چلا گیا ایران، افغانستان، سعودیہ جیسے دوستوں کی دوستی سے محروم ہو گیا انڈیا ہمارے اوپر حاوی ہوتا چلا گیا اور امریکی صدر نے ہمارے خلاف مکمل پالیسی کا اعلان کر دیا۔ ان تمام حالات کی وجہ صرف یہ ہے کہ نواز شریف نے اپنی ٹیم کے وزراء کو اپنی صلاحیتوں کے استعمال سے محروم رکھا ہوا تھا اور وزراء اپنی خدا داد صلاحیتوں کو استعمال کرنے سے قاصر تھے نواز شریف کے بعد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے وزراء کی ٹیم کو کچھ حد تک آزادی دی کہ وہ حکومتی معاملات میں اپنی صلاحیتوں کا استعمال کریں۔

خواجہ آصف کے وزارت خارجہ کا قلم دان سنبھالتے ہی انہیں امریکی صدر کی پاکستان مخالف پالیسی کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے اپنی خدا داد صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے امریکہ کے پیر پکڑنے کے بجائے اس کا سیاسی مقابلہ کرنے کی پالیسی اپنائی۔ خواجہ آصف کے جارحانہ اقدام کی وجہ سے امریکہ نے مزید دباؤ بڑھانے کے بجائے چپ سادھ لی۔ وزیر خارجہ کو پہلی مرتبہ اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرنے کا موقع ملا۔ خواجہ صاحب کے والد خواجہ صفدر مشہور سیاستدان تھے۔ خواجہ صاحب نے سیاست وراثت میں پائی ہے۔خواجہ آصف کی چین، ترکی، ایران اور روس کی حمایت حاصل کرنے کی پالیسی سے امریکہ کو سمجھ آ گئی کہ پاکستان تنہا نہیں ہے وزیر خارجہ نے فوری طور پر سفیروں کی کانفرنس بلا کر سفیروں کو پاکستان کی نئی پالیسی کے مطابق کام کرنے کی ہدایت جاری کی ہیں جس سے اچھے نتائج حاصل ہونے کی توقع ہے ہمارے حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی ٹیم کو اپنی صلاحیتوں کے استعمال کی آزادی دیں۔ حقیقی جمہوری طریقے سے حکومت چلائیں تاکہ ملک ترقی کرے عوام خوشحال ہوں ہمارے سیاست دانوں ، وزیروں کی صلاحیتوں پر کوئی شک نہیں بشرطیکہ اس کا استعمال عوام کے مفاد میں کریں۔

مزید :

کالم -