پنجاب میں پٹواریوں کی قلم چھوڑ ہڑتال!

پنجاب میں پٹواریوں کی قلم چھوڑ ہڑتال!
 پنجاب میں پٹواریوں کی قلم چھوڑ ہڑتال!

  

صوبہ پنجاب میں جون2017ء سے تاحال پٹواری ہڑتال پر ہیں اور پنجاب میں عملاً محکمہ مال کا کام تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے،کیونکہ شہری اور دیہی حلقوں میں زمین کا لین دین، قرضہ جات کے حصول کے لئے اور دیوانی و فوجداری کیسوں کے لئے فرد تقسیم زمین کے لئے پٹواری بہت اہم ہیں۔ہر اُس آدمی کو جس کے پاس شہری یا دیہی جائیداد ہے، پٹواری سے ہر روز واسطہ پڑتا ہے اور پٹواری کی مہربانی کے بغیر کام نہیں بنتا۔

مثال کے طور پر زمین کی خریدو فروخت، مکان کی خرید و فروخت، قرضہ جات کے حصول کے لئے فرد تقسیم اور خسرہ گرداوری کے کاغذات پٹواری سے ملیں گے وغیرہ وغیرہ۔۔۔جناب قدرت اللہ شہاب نے اپنی کتاب ’’شہاب نامہ‘‘ میں ایک پورا مضمون ’’رپورٹ پٹواری مفصل ہے‘‘ کا تذکرہ بڑے خوبصورت انداز میں کیا ہے، جن لوگوں نے شہاب نامہ پڑھا ہے یا حقیقت میں پٹواریوں سے کبھی واسطہ پڑا ہے وہ لوگ پٹواری کی طاقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔

گزشتہ 9سال سے پنجاب میں میاں محمد شہباز شریف کی حکومت ہے،مَیں پنجاب کا ایک کسان بھی ہوں اور آئے روز پٹواری سے رابطہ رہتا ہے۔میاں محمد شہباز شریف نے پنجاب کے وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے کسانوں کے لئے تو کوئی قابلِ قدر کام شاید نہیں کیا ہے، لیکن کسانوں، زمینداروں کی پٹواریوں سے کافی حد تک جان چھڑوا دی ہے، اِسی لئے پٹواری حضرات گزشتہ تین ماہ سے قلم چھوڑ ہڑتال پر ہیں۔

میاں محمد شہباز شریف نے پنجاب میں زرعی اور سکنی زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کروا کر پٹوار کلچر کا ستیاناس کر دیا ہے۔اب تک پورے پنجاب میں تقریباً 80فیصد زمینیں کمپیوٹر ریکارڈ پر آ گئی ہیں، 20فیصد ریکارڈ ابھی تک کمپیوٹرائز نہیں ہوا ہے اور اب بھی کچھ کام مثلاً قرضہ جات کے لئے زرعی پاس بک، خسرہ گرداوری کا کام پٹواری ہاتھ سے کرتے ہیں۔ امید ہے یہ کام بھی پٹواریوں سے لے کر کمپیوٹر سنٹر کے حوالے جلد کر دیا جائے گا تو پھر پنجاب کا کسان پٹوار کلچر سے مکمل آزاد ہو جائے گا،جو حلقے پنجاب میں کمپیوٹرائز ہو گئے ہیں، وہاں پر ایک ادارہ اراضی سنٹر کے نام سے وجود میں آ گیا ہے۔

اراضی سنٹر میں سارا کام بذریعہ کمپیوٹر ہو رہا ہے۔آپ نے قرضہ لینا ہے یا زمین کی خرید و فروخت کرنی ہے، وراثتی انتقال کروانا ہے، آپ اپنے شناختی کارڈ کے ہمراہ اراضی سنٹر پر تشریف لے جائیں۔ اراضی سنٹرز پر کمپیوٹر کے پیچھے پڑھے لکھے لڑکے لڑکیاں آپ کے منتظر ہوتے ہیں۔نمبر آنے پر آپ کا کام بغیر رشوت اور سفارش بخوبی سرانجام پاتا ہے۔ اراضی سنٹر بننے اور لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائز ہونے سے پٹواری حضرات کا بھتہ تقریباً بند ہو گیا ہے۔اراضی سنٹر سے قبل پٹواری منہ مانگی رشوت لیتے تھے۔ پٹواری کی رشوت میں محکمہ مال کے بڑے افسر بھی برابر کے حصہ دار تھے۔

اب جبکہ رشوت کا بازار تقریباً ختم ہو گیا ہے،پٹواری حضرات کا صرف تنخواہوں سے گزارہ نہیں ہو رہا۔پنجاب حکومت نے پٹواری حضرات کے ساتھ ایک دوسرا ظلم یہ کیا ہے کہ ہر وہ پٹواری جس کی عمر 50سال ہو جاتی ہے، اُس کو ریٹائر کر رہے ہیں،یعنی پنجاب کے باقی ملازمین تو60سال کی عمر میں ریٹائر ہوتے ہیں، جبکہ پٹواریوں کو 50 سال کی عمر میں ریٹائر کر دیا جانا طے پایا ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے۔پٹواریوں کی ہڑتال کی یہ دو وجوہات ہیں، اس کی بنا پر وہ قلم چھوڑ ہڑتال پر ہیں،یعنی رشوت بھی ختم ہو گئی اور جبری ریٹائرمنٹ بھی، پٹواریوں کی ہڑتال کی وجہ سے پٹواری تو پریشان ہیں ہی،عام انسان اُن سے بھی زیادہ پریشان ہیں۔پنجاب حکومت نے جو بھی کرنا ہے فوری کرے،کیونکہ سارے پنجاب، خصوصاً محکمہ مال کا کام ٹھپ ہے۔

مزید : کالم