اے این ایف کی کارکردگی پر سپریم کورٹ کے ریمارکس

اے این ایف کی کارکردگی پر سپریم کورٹ کے ریمارکس

پاکستان سپریم کورٹ نے انسداد منشیات فورس کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ منشیات لے جانے والے کو پکڑ لیا جاتا ہے،مگر جہاں منشیات پہنچائی جاتی ہیں،وہاں ہاتھ کیوں نہیں ڈالا جاتا۔انسداد منشیات فورس، ملزموں کی سہولت کار ہے؟کیا سول تحقیقاتی افسر ایماندار نہیں ہوتے؟جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل دو رکنی بنچ کے روبرو منشیات رکھنے کے جرم میں گرفتار شخص کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ اینٹی نارکوٹیکس فورس کے فوجی افسر کو مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں موجود ہونا چاہئے تھا،ثبوت نہ ہونے پر ملزم بری ہو جائے تو کہا جاتا ہے کہ ضمانت منظور ہو گئی اور عدالتِ عظمیٰ نے رہا کر دیا ہے۔سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان کے ریمارکس سے یہ اندازہ تو لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں انسداد منشیات فورس کے معاملات کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل ہیں۔ اِسی لئے یہ نشاندہی کی گئی کہ اے این ایف کے اہلکار منشیات لے جانے والے کو تو پکڑ لیتے ہیں،مگر جہاں منشیات پہنچائی جاتی ہیں،وہاں ہاتھ نہیں ڈالا جاتا۔اِسی طرح یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دہشت گردوں کو 60 فیصد سرمایہ منشیات کی فروخت سے حاصل ہوتا ہے۔اے این ایف کے ذمے داران نے دہشت گردوں کے اِس نیٹ ورک کو توڑنے کے لئے کیا ایکشن لیا ہے؟یہ بات واضح ہے کہ منشیات فروشی اور ان کے استعمال سے بنیادی طور پر نوجوان نسل متاثر ہوتی ہے خصوصاً تعلیمی اداروں میں منشیات کی سپلائی اور استعمال کوئی راز کی بات نہیں،بعض تعلیمی اداروں کے بڑے عہدیدار اس مکروہ دھندے کی سرپرستی اور نگرانی کرتے ہیں۔یہ انکشاف بھی چند روز قبل جسٹس دوست محمد خان نے کیا تھا۔اہم سوال یہ ہے کہ اِس نیٹ ورک کے خلاف انسداد منشیات فورس کے ذمے داران ایکشن کیوں نہیں لے رہے ہیں؟منشیات فروشی سے دہشت گرد بھی فنڈنگ حاصل کر رہے ہیں۔یہ خطرناک اور اہم بات ہے۔اِس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔منشیات اور دہشت گردی، دونوں کے خلاف حکومتی اداروں کو اپنا فریضہ احسن طریق سے ادا کرنا ہو گا۔اے این ایف کا خفیہ نیٹ ورک اِس حوالے سے مصروف عمل ہو گا کیا ہی اچھا ہو کہ اِس کی کارکردگی وقفے وقفے سے منظر عام پر بھی آتی رہے تاکہ بعض حلقے جس مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں وہ بہتر کارکردگی سے آگاہ رہیں۔

مزید : اداریہ