حکومت، ہائی کورٹ اور آئی جی پولیس

حکومت، ہائی کورٹ اور آئی جی پولیس
 حکومت، ہائی کورٹ اور آئی جی پولیس

  

سندھ ہائی کورٹ نے چھہ ماہ کے بعد اے ڈی خواجہ کو پولیس کے صوبائی سربراہ کی حیثیت سے اپنی مدت مکمل کرنے کا فیصلہ صادر کیا ہے۔ خواجہ کو حکومت نے اپریل کے مہینے میں تبدیل کر دیا تھا ۔ انہیں اس عہدے پر کام کرتے ہوئے چند ماہ ہی گزرے تھے کہ پولیس سربراہ اور صوبائی حکومت کے کرتا دھرتا کے درمیاں پولیس کو من مانے طریقے سے استعمال کرنے کے معاملے پر اختلافات اتنی شدت اختیار کر گئے تھے کہ حکومت نے ان کو رخصت کرنا ہی بہتر سمجھا تھا۔

کراچی میں کام کرنے والے بعض ممتاز شہریوں نے پولیس سربراہ کی بقول ان لوگوں کے اس طرح رخصتی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں حکومت کے فیصلے کے خلاف مقدمہ دائر کردیا تھا۔ ہائی کورٹ نے حکم امتناعی دیا تھا ،جس کا حتمی فیصلہ اسی ماہ صادر کیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو حکومت نے پسند نہیں کیا ہے، لیکن متبادل راستہ نہ ہونے کی صورت میں اس پر اس وقت تک تو عمل کرنا ہی پڑے گا ،جب تک حکومت ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرے اور اپنے حق میں فیصلہ حاصل کرے۔ یہ تو اے ڈی خواجہ کا معاملہ ہے کہ بعض شہری عدالت میں چلے گئے ورنہ سندھ میں تو افسران کے ساتھ جس طرح کا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ وہ زمینداروں کے ذاتی ملازمین کے ساتھ رویہ کے کسی طرح بھی برعکس نہیں ہوتا۔ تمام صوبوں میں چیف سیکریٹری اور آئی جی کی تقرری وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے کرتی ہے ۔ جب آئی جی کے ساتھ رویہ اختیار کیا گیا تو وفاقی حکومت نے بھی سخت موقف اختیار کر لیا۔ پیپلز پارٹی کا ایک حلقہ یہ بھی کہتا ہے کہ آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ صوبے کا ہی استحقاق ہے کہ جسے چاہے مقرر کرے ۔ یہ حلقے اس بات کو نہیں سمجھ رہے ہیں کہ اعلی عہدوں یا کسی بھی عہدے پر تقرری ایک مقررہ مدت کے لئے ہوتی ہے، جسے پورا ہونا چاہئے اور اگر کوئی جائز شکایت ہے تو افسر کو اس سے آگاہ کیا جانا چاہئے۔

عدالت کے حکم امتناعی کے باوجود حکومت نے جس طرح آئی جی کو کام کرنے سے روکا، اور ان کے اختیارات کم سے کم کرتی گئی۔ اپنی پسند کا وزیر داخلہ بھرتی کرکے اسے آئی جی کے بالمقابل کھڑا کر دیا گیا۔ وزیر داخلہ سہیل سیال ایک حکم کے بعد دوسرے حکم کے ذریعہ آئی جی کے اختیارات سے کھیلتے رہے۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد آئی جی نے وہ تمام تبادلے منسوخ کر دیئے جو ان کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے محکمہ داخلہ نے کئے تھے۔

وہ آئی جی کو بے دست و پا کرنے پر اس لئے تلے ہوئے تھے کہ انہیں وزیر داخلہ مقرر کرنے والوں کی خواہش ہی یہ تھی کہ آئی جی کو اس کے دفتر تک محدود کردیا جائے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد آئی جی نے تمام ایس ایس پی اپنے سابقہ اضلاع میں واپس کر دیئے گئے۔ محکمہ پولیس میں حکومت سے وابستہ سیاسی لوگوں کی مداخلت اس حد تک ہے کہ وہ اپنی پسند کے مطابق اپنے اپنے علاقوں کے تھانوں میں سربراہ مقرر کراتے ہیں۔ بعض واقعات تو ایسے بھی دیکھنے اور سننے میں آئے ہیں کہ سیاست دانوں نے پولیس کا ایک عام سپاہی بھی اپنی پسند سے مقرر کرایا ہے۔ آئی جی نے اپنی تقرری کے بعد جب بھرتیوں کا معاملہ پیش آیا تھا تو سختی کے ساتھ اہلیت اور قابلیت کی بنیاد پر بھرتیاں کی تھیں جسے سخت ناپسندیدگی سے دیکھا گیا تھا۔ ان کے ان اقدامات پر کھلے عام تنقید کی گئی تھی۔ بعض لوگوں نے تو یہاں تک کہا تھا کہ انہیں الیکشن بھی لڑنا ہے اگر آئی جی اس طرح بھرتیاں کریں گے تو وہ لوگ کیا کر سکیں گے۔ اے ڈی خواجہ خود بار بار اپنے اس خیال کا اظہار کر چکے ہیں کہ انہیں یہ ناگوار گزرتا ہے کہ پولیس والے ذاتی ملازمین کی طرح سیاست دانوں کی گاڑیوں کے پیچھے لٹکے ہوئے ہوتے ہیں۔ اسی طرح کے دیگر معاملات پر اختلافات بڑھتے چلے گئے تھے ۔

آئی جی اور حکومت کے کرتا دھرتاؤں کے درمیاں کشیدگی اس وقت اپنی انتہاپر پہنچ گئی تھی جب آئی جی نے ٹنڈد محمد خان کی ایک شوگر مل میں جانے والے گنے کی گاڑیوں کا رخ موڑنا چاہا تھا۔ سندھ کی شوگر ملوں کی اکثریت اومنی گروپ کے ماتحت چلتی ہیں۔ اس کے منتظم انور مجید ہیں۔ انور مجید پیپلز پارٹی کے شریک چئیر مین آصف علی زرداری کے مشیر مالیات کی حیثیت سے مشہور ہیں اور حکومت سندھ پر خاصا اثر رکھتے ہیں۔

آئی جی نے پولیس افسران کو ہدایت کی تھی کہ اس قسم کے معاملات میں استعمال نہ ہوں ۔ بس پھر کیا تھا ، انور مجید برہم ہوگئے ۔ ان کی برہمی کا مطلب آصف زرداری کی برہمی لیا گیا اور آئی جی کو کہا گیا کہ وہ اپنا بوریا بستر سمیٹ لیں۔ اس طرح تو بوریا بستر اکثر افسرا ن کا سمٹوایا جاتا ہے۔ چوں کہ آئی جی کے معاملے پر بعض شہری کھڑے ہوگئے اور ہائی کورٹ چلے گئے تو معاملہ حکم امتناعی کے سبب ٹلتا رہا۔

آئی جی ایک سرکاری ملازم ہوتا ہے جو حکومت سے ٹکراؤ برداشت نہیں کر سکتا اس لئے اے ڈی خواجہ نے کوشش بھی کی کہ وہ کسی ٹکراؤ کی بجائے اس عہدے سے ہی خلا صی کر ا لیں۔ وہ کمبل اتارنا چاہتے رہے، لیکن کمبل ان کی جان نہیں چھوڑ رہا تھا۔ اب حکومت سندھ کمبل سے ان کی جان چھڑانے کے لئے سپریم کورٹ جائے گی پھر دیکھا جائے گا کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ جب تک آئی جی اس عہدے پر مقرر ہیں، انہیں اپنے اختیارات پوری طرح استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔

وفاق، پنجاب اور سندھ میں حکومتوں کو کسی اصول، نظام ، ضابطوں کے بغیر فرد واحد کی صوابدید پر ہی چلایا جاتا رہا ہے۔ نواز شریف اور آصف زرداری ہی ڈوریاں ہلاتے رہے ہیں۔ افسران کٹھ پتلیوں کی طرح ناچتے ہی رہتے ہیں۔ سندھ میں تو پولیس کیا، تمام ہی محکموں کے اعلیٰ ا فسران کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں۔ ملازمتوں میں بھرتیوں سے لے کر علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے لئے رقومات کا مختص کیا جانا، حکومت کا کام نہیں رہا ہے، پارٹی کے چیئر مین یا پھر شریک چیئر مین یا ہمشیرہ یہ فرائض انجام دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے تمام افسران نے ان ہی لوگوں کو اپنا قبلہ جانا ہے۔ کیا کمشنر، کیا ڈپٹی کمشنر، کیا دیگر محکموں کے انجینئروں کی تقرری، غرض تما م ہی افسران حکومت کے نہیں، شخصیات کے ماتحت تصورکئے جاتے ہیں۔ ان کا ہی حکم بجا لاتے ہیں۔ بعض افسران تو چپراسی بھی ان کے ہی حکم پر لگاتے اور ہٹاتے ہیں۔اعصاب کی جنگ لڑنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوا کرتی۔ اس طرح کے نظام حکومت میں بدعنوانیوں کی جو پرورش ہوئی ہے۔ اس سے دامن چھڑانے میں وقت لگے گا۔ ضابطوں، اصولوں اور کتابوں میں درج قوانین کے برعکس جو بھی نظام چلایا جائے گا، اس کا تو جو حشر ہونا ہوگا وہ ہوگا، لیکن ملک یا صوبے کو جو نقصان پہنچے گا، وہ ناقابل تلافی ہوگا۔

مزید : کالم