تعلیمی اداروں سے انتہا پسندی کا خاتمہ: ایک قابلِ عمل تجویز

تعلیمی اداروں سے انتہا پسندی کا خاتمہ: ایک قابلِ عمل تجویز
 تعلیمی اداروں سے انتہا پسندی کا خاتمہ: ایک قابلِ عمل تجویز

  

یہ پچھلے سال کی بات ہے۔ اس وقت کے سی پی او ملتان محمد احسن یونس میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ ہم ایک آئیڈیے پر کام کررہے ہیں اور اس کا مقصد تعلیمی اداروں سے انتہا پسندی اور منشیات فروشی کا خاتمہ کرنا ہے۔ بات بہت اہم تھی، اس لئے میں نے بڑے انہماک سے سنی۔احسن یونس کا کہنا تھا کہ خصوصاً پوسٹ گریجویٹ سطح کے ادارے یعنی یونیورسٹیاں اور بڑے کالج، جہاں کو ایجوکیشن ہے، اس حوالے سے سافٹ ٹارگٹ بنے ہوئے ہیں، انہوں نے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کی مثال دی، جہاں منشیات فروشی ایک وبا کی شکل اختیار کرگئی تھی اور چیف منسٹر کو بھی اس کا نوٹس لینا پڑا تھا۔ انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ ہم آپ کے کالج سے سوطالب علموں کوVIP کا درجہ دیں گے، یعنی۔۔۔ Volunteer in Policing ۔۔۔یہ طالب علم پولیس کے مددگار ہوں گے اور کالج میں کسی بھی غیر قانونی سرگرمی، انتہا پسندی کی کسی ترغیب اور منشیات فروشی کے عمل کی بابت براہ راست سی پی او ملتان کو اطلاع دیں گے۔مجھے ان کی یہ تجویز بہت اچھی لگی۔ احسان یونس نے یہ بھی بتایا کہ وہ ملتان کے اکثر تعلیمی اداروں جن میں یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں، وی آئی پی سٹوڈنٹس بناچکے ہیں اور اس کے نہایت ہی مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کی مثال دی، جہاں منشیات فروشی کی وبا ختم ہو کر رہ گئی۔

آج کل اس بات کا بڑا شور ہے کہ تعلیمی اداروں میں انتہا پسندی کا رجحان زور پکڑ رہا ہے، خاص طور پر جب سے کراچی میں انصارالشریعہ کے دہشت گردوں کا انکشاف ہوا ہے اور ان میں اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں اور اساتذہ کی نکلی ہے، ہر طرف سے یہ آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ تعلیمی اداروں کی سخت نگرانی کا بندوبست کیا جائے۔ ان عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے جو یہ کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔۔۔اس کا ایک طریقہ تو یہ ڈھونڈا گیا کہ تعلیمی ادارے کے تمام طالب علموں کا ڈیٹا حساس اداروں کو فراہم کردیا جائے، تاکہ وہ اس کی چھان بین کریں، لیکن یہ بذاتِ خود ایک خوف و دہشت پھیلانے والی بات ہے، اس لئے کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اسے مسترد کردیا ہے۔ اس کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ تعلیمی اداروں کے اندر خود طلبہ و طالبات کے ذریعے نگرانی کا ایک جال بچھا دیا جائے، یعنی وہی طریقہ جو ملتان میں سابق سی پی او محمد احسن یونس نے اختیار کیا۔ ہر پوسٹ گریجویٹ سطح کے تعلیمی ادارے میں ایسے طلبہ وطالبات منتخب کئے جائیں، جو مضبوط کردار کے حامل ہوں اور بہتر آنکھ اور دماغ رکھتے ہوں، انہیں براہ راست پولیس افسران تک رسائی حاصل ہو اور وہ کسی بھی غیر معمولی بات یا عمل کو فوراً کالج انتظامیہ یا پولیس کے نوٹس میں لاسکیں۔

کالجوں اور یونیورسٹیوں کی اپنی سیکیورٹی بھی ہوتی ہے، گاہے بہ گاہے حساس ایجنسیوں اور پولیس کے اہلکار بھی تعلیمی اداروں کی نگرانی کرتے رہتے ہیں، تاہم یہ جزوقتی کام ہوتا ہے، طالب علم ہر وقت ادارے میں موجود رہتے ہیں اور اندر کی ہرسرگرمی اور واقعہ سے واقف ہوتے ہیں، اس لئے جب وہ فرینڈز آف پولیس کا کردار ادا کریں گے تو کیمپس کے اندر ہونے والی معمولی بات بھی انتظامیہ کے نوٹس میں آجائے گی۔۔۔آج ہم سب اس چیز کو مانتے ہیں کہ جب تک پورا معاشرہ اپنی آنکھیں اور کان کھلے نہیں رکھے گا، دہشت گردی ختم نہیں ہوگی۔ آرمی چیف تو آئے روز یہ کہتے ہیں کہ فوج یہ جنگ اکیلے نہیں جیت سکتی۔ گلی محلے میں نئے آنے والوں پر نظر رکھنے کی ہمیشہ تلقین کی جاتی ہے، اسی طرح کسی گھر کے مکینوں کی غیر معمولی سرگرمیوں کی خبر بھی ہمسایوں کو ہی ہوتی ہے، اس لئے یہ آئیڈیا برا نہیں کہ خود تعلیمی اداروں کے اندر سے ایسی فورس تیار کی جائے جو غیر محسوس طریقے سے اس کے روزمرہ معاملات پر نظر رکھے۔عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ پولیس اور عوام میں اشتراک عمل نہ ہونے کا فائدہ جرائم پیشہ افراد اٹھاتے ہیں۔ لوگ عام طور پر ڈرتے ہیں کہ کسی جرم کی پولیس کو اطلاع دی گئی تو نہ صرف پولیس، بلکہ شاید وہ مجرم بھی ان کے پیچھے لگ جائے گا۔

احسن یونس نے ان دنوں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے بڑی اچھی بات کی تھی کہ پولیس کے بارے میں عوام کا تاثر نوجوان ہی تبدیل کرسکتے ہیں اور یہ تبھی ممکن ہے، جب نوجوان کو قانون کی مدد کا موقع فراہم کیا جائے اور ان میں یہ جذبہ پیدا کیا جائے کہ وہ معاشرے سے انتہا پسندی اور بدامنی کے خاتمے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ساتھ دیں۔۔۔ اس لئے یہ ایک اچھا خیال ہے کہ تعلیمی اداروں کے اندر منتخب طالب علموں کو ایسی ذمہ داریاں سونپی جائیں، جو وہاں انتہا پسندی اور منشیات فروشی و دیگر جرائم پر نظر رکھیں اور کسی بھی ایسے واقعہ کی صورت میں پولیس اور انتظامیہ کو اطلاع دیں۔ جیسا کہ کراچی یونیورسٹی کے افراد کی پس پردہ کہانی سامنے آئی ہے کہ کس طرح پہلے ایک ، پھر دو اور پھر بہت سوں تک انتہا پسندی کا پیغام پہنچایا گیا۔۔۔ اگر یونیورسٹی میں طلبہ کا کوئی ایسا ہی نیٹ ورک ہوتا تو اسے لازماً اس کی خبر ہوجاتی اور معاملہ بروقت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نوٹس میں آجاتا۔۔۔ جیسے حالات ہوں، ویسے ہی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں۔ ہم اپنی نئی نسل کو انتہا پسندوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام میں بے اعتمادی کی خلیج حائل ہے، جس کا فائدہ قانون شکن عناصر اٹھاتے ہیں۔ ہر تعلیمی ادارے کے طالب علموں کو اپنے اردگرد ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں کا علم ہوتا ہے، مگر وہ اس لئے لاتعلق رہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہوتا۔اگر اُن میں یہ اعتماد پیدا کردیا جائے کہ قانون ان کی ایک کال پر ان کے ساتھ کھڑا ہوگا تو وہ اپنے اداروں میں پُرامن تعلیمی ماحول کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

ایک زمانے میں ہر تعلیمی ادارے کے اندر پراکٹرز کا ایک نظام ہوتا تھا۔ جو کالج، یونیورسٹی میں غیر تعلیمی اور غیر قانونی سرگرمیوں پر نظر رکھتا تھا۔ اب اس نظام کو جدید ضرورتوں کے مطابق ازسر نوترتیب دے کر براہ راست قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے اور جدید انفرمیشن ٹیکنالوجی نے رابطے کے جو نئے ذرائع پیدا کئے ہیں، انہیں استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ یہ کام ضلع ملتان کی سطح پر محمد احسن یونس بڑی کامیابی سے کرچکے ہیں اور اس کے مثبت نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف جو ہر اچھے کام کی سرپرستی کرتے ہیں، اگر تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ان میں انتہا پسندی اور اسے فروغ دینے والے عناصر پر بروقت گرفت کے لئے ایک کمیٹی بناکر پولیس، سی ٹی ڈی، خفیہ ایجنسیوں اور تعلیمی اداروں کے سربراہوں کو یہ ٹاسک دیں کہ وہ طلبہ کی شمولیت سے ایک ایسا ایس او پی بنائیں جس کے ذریعے صرف باہر سے آنے والے دہشت گرد پر ہی نظرنہ رکھی جائے، بلکہ وہ عناصر، جو تعلیمی اداروں کے اندر کہیں استاد، کہیں طالب علم، کہیں ملازم اور کہیں کنٹین والے کی شکل میں منفی سرگرمیوں کو فروغ دیئے ہوئے ہیں، گرفت میں آسکیں، اس کے لئے اُسی ادارے کے طلبہ وطالبات کا پولیس اور انتظامیہ سے مضبوط اور واضح اشتراک عمل اشد ضروری ہے۔

مزید : کالم