اردو پرنٹ میڈیا مالکان سے ایک گزارش!

اردو پرنٹ میڈیا مالکان سے ایک گزارش!
اردو پرنٹ میڈیا مالکان سے ایک گزارش!

  

پاکستان میں جب سے نجی ٹی وی چینلوں کا آغاز ہوا ہے، اخبارات کی قدر و قیمت، وقعت اور پذیرائی شدید طور پر متاثر ہوئی ہے۔

الیکٹرانک میڈیا کی بعض ایسی مقدورات (Capalities) ہیں جن کا مقابلہ پرنٹ میڈیا کرنے سے قاصر ہے۔ پرنٹ میڈیا کی سب سے بڑی معذوری رئیل ٹائم خبروں کی قارئین تک ترسیل ہے۔ کوئی اخبار کسی بھی اہم، اہم تر یا اہم ترین واقعے، سانحے یا حادثے کی رئیل ٹائم کوریج شائع نہیں کر سکتاجبکہ اخبار کے قارئین کا المیہ یہ بنا ہوا ہے کہ انہیں تازہ ترین خبروں سے آگہی پانے کے لئے ای میڈیا کا رخ کرنا پڑتا ہے اور یہی چیز پرنٹ میڈیا کی کم پذیرائی کا باعث بنی ہوئی ہے۔

ہر دور کا انسان واقعاتِ عالم کا رئیل ٹائم مشاہدہ کرنے کا آرزو مند رہا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ جو واقعہ بھی وقوع پذیر ہو رہا ہو اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اس سے متاثر ہو۔ جب نو گیارہ کا حادثہ ہوا تھا تو اگر ای میڈیا نہ ہوتا تو لوگوں کو اس حادثے کی اہمیت اور تفصیلات کا وہ علم نہ ہوتا جو اس کو ٹی وی سکرینوں پر فی الفور دیکھنے سے ہوا۔ ہماری ٹی وی سکرین (بلکہ آج تو سمارٹ فونوں کی سکرین) گویا جامِ جم ہے جو واقعات کو وقوع ہوتے ہوئے اسی لمحے دکھاتا ہے۔

لیکن یہی تعجیل اس کی معذوری بھی ہے۔ ہر مشاہدہ، مطالعہ کا محتاج ہوتا ہے۔ یعنی مطالعہ، مشاہدے کو پری سیڈ Preceed نہیں کر سکتا، Suceed کرتا ہے اور یہی مطالعے کا پلس پوائنٹ ہے اور یہی پلس پوائنٹ ہمیں پرنٹ میڈیا کی اہمیت و افادیت کا احساس دلاتا ہے۔ علاوہ ازیں رئیل ٹائم کوریج میں چند دشواریاں اور بھی حائل ہیں۔

مثال کے طور پر 6اگست 1945ء کو جب ہیروشیما پر پہلا امریکی جوہری بم گرایا گیا تھا تو اس کی تصویر کشی ابھی تک کسی ای میڈیا پر نہیں دکھائی گئی۔ امریکہ نے وہ مناظر ابھی تک خفیہ رکھے ہیں جب بی۔29طیارے سے ایٹم بم گرایا گیا تھا اور اس سے انسانی جانوں کی جو تباہی ہوئی تھی اور عمارات وغیرہ کو جو شدید نقصانات پہنچا تھا اس کو اگر آج بھی سلو موشن میں دکھایا جائے تو امریکہ کو عالمی لعن طعن اور ملامت کا ہدف بننا پڑے گا۔

دوسری طرف امریکہ نے 2001ء میں، 56 برس گزرجانے کے بعد اپنے جڑواں ٹاورز پر نو گیارہ کے سانحے کی مکمل کوریج دکھائی کہ یہ کوریج امریکی عوام میں بالخصوص اور اقوامِ عالم میں بالعموم ان لوگوں کے خلاف جذبہ ء انتقام بھڑکاتی تھی جو اس سانحے کے معمار تھے۔ لیکن اگر آپ 56 برس پیچھے لوٹ کر اگست 1945ء میں ہیروشیما پر ایٹمی حملے کو یاد کریں تو اس کی سلوموشن کوریج جاپانیوں کو بالخصوص اور اقوامِ عالم کو بالعموم امریکیوں کے خلاف بھڑکانے کا ایک بڑا سبب بن سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر رئیل ٹائم جوہری حملوں کی فلمیں ابھی تک صیغہء راز میں رکھی ہوئی ہیں۔ پھر کچھ ایسا ہی سلوک اسامہ بن لادن کے ’’انجام‘‘ کے مناظر دکھلانے کے ساتھ بھی کیا گیا ۔ مطلب یہ ہے کہ ای میڈیا جہاں ناظرین کو رئیل ٹائم آگاہی فراہم کرکے ان کے علم و فضل میں اضافہ کرتا ہے وہیں یہی رئیل ٹائم آگہی، بلائے جان بھی بن جاتی ہے!۔۔۔ یعنی ای میڈیا کی یہی مقدوریت اس کی محدودیت بھی ہے!

اس کے مقابلے میں پرنٹ میڈیا کو دیکھیں تو وہ معلومات کی بروقت اور تیز ترین آگہی اور ترسیل نہیں کر سکتا۔ جن حادثات (ہیروشیما، نو گیارہ اور اسامہ بن لادن پر حملہ) کا ذکر سطورِ بالا میں کیا گیا ان پر بعد میں ہزارہا کتب تصنیف کی گئیں اور لاکھوں مضامین سپرد قلم کئے گئے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور قارئین کی تشنگی پھر بھی باقی ہے۔ میرے خیال میں یہی وہ ’’تشنگی‘‘ اور ’’بعداز وقوع‘‘ تحریری کوریج ہے جو الیکٹراک میڈیا پر پرنٹ میڈیا کو ایک تفّوق دلاتی ہے۔

آپ کسی بھی اخبار کو اٹھا کر دیکھ لیں، دنیا کی کسی بھی زبان کا ہو، اس میں واقعاتِ عالم کی کوریج میں کوئی ’’نیاپن‘‘ نظر نہیں آئے گا۔آپ دیکھیں گے کہ آپ نے جو کچھ 24گھنٹے پہلے ٹی وی پر دیکھا ہوتا ہے اسی کا اعادہ اخبار کی سرخیوں اور شہ سرخیوں میں کیا ہوتا ہے۔ البتہ ایک ایسی مقدوریت جو پرنٹ میڈیاکو الیکٹرانک میڈیا پر ایک مستقل برتری عطا کرتی ہے وہ واقعاتِ عالم کا ایک سوچا سمجھا اور سنجیدہ فکر تجزیہ، تبصرہ اور جائزہ ہے جو مختلف لکھاری، اپنے اپنے انداز سے سپرد قلم کرتے ہیں اور جو پرنٹ میڈیا میں ہی پڑھنے کو مل سکتا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہی کام تو الیکٹرانک میڈیا کے ٹاک شوز بھی کرتے رہتے ہیں تو اس میں برتری کی کیا بات ہے؟۔۔۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ایک تو کسی بھی ٹاک شو پر مبصروں کی تعداد بہت محدود ہوتی ہے۔ فرض کیا کسی بھی عالمی اہمیت کے واقعہ کو کوئی چینل موضوعِ بحث بناتا ہے تو اس پر تجزیہ پیش کرنے والوں کی تعداد زیادہ نہیں ہو سکتی۔ صرف چار یا پانچ لوگ ایسے ہوں گے جن کو کسی چینل پر بلا کر ان کا تبصرہ طلب کیاجا سکتا ہے۔ اگر کو ئی قاری چار پانچ چینلوں کا ناظر ہے تو بھی اس کو زیادہ سے زیادہ کسی اہم واقعہ پر 20،25 افراد کی رائے مل سکتی ہے جبکہ پرنٹ میڈیا پر اس تعداد پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ ہفتہ بھر کے اخباروں پر ان تبصروں کی مجموعی تعداد دیکھی جائے اور مختلف ہفتہ واری میگزینوں کو بھی اس میں شامل کر لیا جائے تو قاری کو جو متعدد، مفصل، مستند،ثقہ اور قطعی معلومات حاصل ہوتی ہیں وہ الیکٹرانک میڈیا سے نشر ہونے والی رئیل ٹائم کوریج سے کہیں زیادہ کم وقیع (Valuable)ہوتی ہیں۔

ایک اہم پہلو جس پر اخبار مالکان کو غور کرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ جوں جوں وقت گزررہا ہے، انگریزی زبان کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ آنے والے عشروں میں پاکستان میں جو میگاپراجیکٹ پلان کئے جائیں گے یا جن کو منزلِ تکمیل تک پہنچایا جائے گا وہ انگریزی زبان میں ہوں گے، اردو میں نہیں۔ اس لئے انگریزی زبان میں واقعاتِ عالم پر نقد و نظر کے لئے جس مواد کی ضرورت ہے اس کے حصول کے دوطریقے ہیں۔ پہلا یہ کہ مشرق و مغرب کے جدید ممالک (جاپان، چین، امریکہ، روس، جرمنی، فرانس، برطانیہ وغیرہ) کے پرنٹ میڈیا کو براؤز(Browse)کیا جائے اور دوسرا یہ کہ جو مواد پاکستان کی نژادِ نو کے لئے ضروری ہو، اس کی ان تک ترسیل کا اہتمام کیا جائے۔ مثال کے طور پر سی پیک (CPEC) پاکستان کا ایک میگاپراجیکٹ ہے لیکن اس پر تمام مواد صرف انگریزی زبان میں فراہم ہے۔ اگر چین جو اس پراجیکٹ کا اصل بانی ہے وہ اپنی قومی زبان کی بجائے سارا مواد انگریزی زبان میں دیتا اور ہمارے ساتھ ڈسکس کرتا اور ہم سے انٹرایکٹ کرتا ہے تو پاکستان کی قومی زبان خواہ اردو ہی کیوں نہ ہو، ہم اسی مواد کو انگریزی میں کیوں نہیں دے سکتے؟

البتہ اردو کے اخبارات کے لئے دوراستے اور بھی کھلے ہیں۔ اول یہ کہ اس پراجیکٹ کی تفصیلات اور تدریجی پیشرفت کو اردو میں ترجمہ کرکے قارئین کے سامنے رکھ دیا جائے یا پھر ہو بہو انگریزی میں چھاپ کر قارئین تک پہنچایا جائے۔ موخرالذکرآپشن تیز ترین اور اورجنل ہوگی جو ترجمے سے کہیں زیادہ موثرہو گی، اس لئے اردو زبان کے پاکستانی میڈیا کو اس انگریزی مواد کو اپنے اردو اخبار کے کسی ایک صفحے کی ’’زینت‘‘ بنانا چاہئے۔

اب تو قومی اہمیت کا ہر اخبار میٹروپولیٹن کے چار صفحات شائع کرتا ہے جن میں مقامی خبریں دی جاتی ہیں۔ ان میں مقامی جلسے جلوسوں اور تقریبات کی کوریج بھی ہوتی ہے۔کیا ان چار صفحات میں ایک صفحہ انگریزی کے لئے وقف نہیں کیا جاسکتا؟ ایسا کرنے کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ لاہور، کراچی، کوئٹہ اور اسلام آباد میں چونکہ انگریزی جاننے والوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے اس لئے ان کو اردو اور انگریزی زبان میں دو اخبار دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ خبریں تو انگریزی اور اردو اخباروں میں ایک ہی جیسی ہوتی ہیں۔ البتہ انگریزی زبان کا قاری ان کالموں، تبصروں اور تجزیوں کا محتاج رہتا ہے جو اردواخبارات میں نہیں ملتے۔ اگر اردو کے اخبارات اپنے میٹروپولیٹن صفحات والے حصے کا ایک صفحہ انگریزی کے لئے مختص کردیں تو بالائی نصف حصے میں مختلف انگریزی روزناموں کے منتخب کالم شائع کئے جا سکتے ہیں اور زیریں نصف حصے میں بین الاقوامی پرنٹ میڈیا میں جو تبصرے اور تجزیئے شائع ہوتے ہیں ان کا انتخاب دیا جا سکتا ہے۔

یہ روش پہلے بھی کئی بار آزمائی جا چکی ہے۔ لیکن ایک تو اس کا دائرہ محدود ہوتا تھا۔ صرف آدھ یا چوتھائی صفحہ ہی اس کے لئے مختص کیا جاتا تھا اور دوسرے اس کے پڑھنے والوں کی تعداد بھی کم تھی۔ لیکن اب پاکستان آگے بڑھ رہاہے اور ساتھ ہی انگریزی زبان کی اہمیت و افادیت بھی روزافزوں ہو رہی ہے، اس لئے میری اس تجویز پر از راہِ کرم سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ اخبار مالکان کو اس کے لئے مزید کوئی عملہ بھرتی کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔ صرف ایک باخبر اور انگریزی زبان سے آشنا صحافی یہ کام انجام دے سکتا ہے اور ہماری پاکستانی صحافتی برداری میں ایسے صحافی حضرات کی کوئی کمی نہیں۔

مزید : کالم