ایہناں دشمناں کولوں کیہ ڈرنا ایہہ موت کولوں وی ڈردے نئیں

ایہناں دشمناں کولوں کیہ ڈرنا ایہہ موت کولوں وی ڈردے نئیں

پاکستانی خواتین سے دل کی باتیں

اس بار یوم دفاع کے ساتھ ساتھ یوم شہدا بھی پورے جوش و خروش سے منایا گیا۔ میرے پیارے وطن پاکستان کی سالمیت اور بقا کے حوالے سے ان ایام کا منایا جانا بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ مردوں کے علاوہ خواتین کی بڑی تعداد نے ان دونوں ایام کی تقریبات میں بھرپور شرکت کی اور گزرے دنوں کی ان یادوں سے محظوظ ہوئے جنہوں نے قوم کو ایک لڑی میں پرو دیا تھا۔ یہی دن تھے جب پاکستانی قوم میں زندگی کی وہ رمق دوڑی تھی جو رب کریم کی خاص عنایت کا ثمر ہوتی ہے۔ سوچا جائے تو یوم دفاع اور یوم شہدا کا تعلق صرف عساکر پاکستان سے ہی نہیں ہے بلکہ ہر اس فرد سے ہے جو اس پاک دھرتی پر پھیلی فضا میں سانس لیتا ہے۔ ان دونوں دنوں کا تعلق صرف ان جانبازوں سے نہیں ہے جو ہتھیلی پر جان رکھ کر میدان کارزار میں اترتے ہیں اور غازیوں کی صورت لوٹتے ہیں بلکہ ان عورتوں سے بھی ہے جو دعاؤں کے ساتھ انہیں الوداع کہتی ہیں، ان کے زندہ لوٹنے پر ان کے ماتھے چومتی ہیں اور ان کی شہادت کی صورت میں اپنے آنسوؤں پر قابو پاتی ہیں۔ کسی بھی ماں نے اپنے بیٹے کی وطن کی خاطر شہادت پر واویلا نہیں مچایا بلکہ یہ کہا کہ بیٹے اور بھی ہوتے تو وہ بھی ملک پر قربان کر دیتی۔ یہی وہ جذبہ ہے جس نے پاکستان کو مستحکم و مضبوط بنا رکھا ہے۔

میرے وطن کی خواتین آزادی کے بعد سے ایک نئے جذبے سے سرشار ہیں۔ حالیہ مردم شماری نے صرف ان کی تعداد کا حساب لگایا ہے۔ ان کے یقین و استقلال اور ہمت و جرأت کا پیمانہ نہیں ناپا۔ کتنے اور کیسے صبر و تحمل سے وہ ان بیٹوں، بھائیوں اور شوہروں کو گھروں سے رخصت کرتی ہیں جو سرحدوں کی حفاظت کے لئے سینہ سپر ہوتے ہیں یا پھر اندرونِ ملک دہشتگردی کے عفریت پر آہنی ہاتھ ڈالتے ہیں۔ میں ان عورتوں سے ملتی ہوں تو ان پر رشک کرتی ہوں اور ان کے لئے دعا گو ہوتی ہوں۔ یقیناًمیرے وطن کی یہ خاموش اکثریت ہے جس کے جذبے سمندر کی طرح ہیں۔سطح آب پر سکون اور زیر آب سینکڑوں طوفان۔ یہ خواتین جن کے گھرانوں کے افراد حالتِ جنگ میں ہیں خود بھی ویسی ہی کیفیت سے دو چار ہوتی ہیں تاہم ان کے قلوب سے اٹھنے والی دعائیں پورے ملک پر عافیت کی چادر تانے رکھتی ہیں۔

میرا دل آج بہت ملول ہے۔ عید قربان کے بعد بہت سے موضوع میرے ذہن میں کلبلا رہے تھے۔ پھر یوم دفاع آیا۔ میرے پیارے قائد محمد علی جناحؒ کی برسی گزری۔ وہ تمام دن بجلی کے کوندے کی طرح ذہن میں چمکے جن کے سورج نے پاکستان کو وجود میں آتے دیکھا تھا۔ وہ ایام بھی میری آنکھوں کے سامنے آئے جب اس مملکت خداداد کے نوجوانوں نے اپنے وطن کی طرف اٹھنے والی گولی اپنے سینوں پر روکی۔ ہمارے محترم فوجی سپہ سالار نے درست کہا ہے کہ دشمن کی گولیاں ختم ہو جائیں گی۔ انہیں روکنے والے سینے کم نہیں ہوں گے۔ لہٰذا میں نے مناسب جانا کہ میں اپنی خواتین سے بات کرنے کے لئے یوم دفاع اور یوم شہدا کے موضوع کا انتخاب کروں۔

ہماری خواتین اس ملک کی آبادی کا تقریباً نصف ہیں۔ حیاتِ ملی کی گاڑی کا وہ دوسرا پہیہ ہیں۔ وہ اپنی ذمہ داریوں کو جانتی اور پہچانتی ہیں۔ ایک نسل ان کی گود میں پروان چڑھتی ہے۔ بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت ان کے فرائض میں شامل ہے اور معاشرے کا بناؤ ان کی ہمت اور حوصلے پر انحصار کرتا ہے۔ میں اپنی خواتین کے بارے میں کبھی بھی مایوسی اور نا امیدی کا شکار نہیں ہوئی۔ معاشرتی فلاح و بہبود اور ملکی بہتری اور ترقی کے حوالے سے جب بھی خواتین کے تعاون کی ضرورت محسوس کی گئی میں نے انہیں ہمیشہ صفِ اول میں پایا ہے۔

بے پناہ مسرت کا امر ہے کہ ہماری خواتین تعلیم و طب، انجینئرنگ اور تعمیرات اور عسکری شعبوں میں اپنے وجود کا نہ صرف احساس دلا رہی ہیں بلکہ مردوں کے شانہ بشانہ اپنے فرائض بہ احسن و خوبی ادا کر رہی ہیں۔

محترم خواتین! جو بات میں نے یوم دفاع سے شروع کی تھی اس کا اختتام بھی یوم دفاع ہی پر کرنا چاہوں گی۔ یوم دفاع ایک علامت ہے۔ زندہ قوموں کی نشانی ہے۔ یہ دن ابتلاء و مصائب کا سامنا کرنے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے۔ ثابت قدمی سکھاتا ہے۔ قوم پر واضح کرتا ہے کہ جارحیت کا سامنا کرنے ہی سے جارحیت کا خاتمہ ہوتا ہے۔ ان سینوں میں ہمت و جرأت پیدا کرتا ہے جو دشمن کی گولیاں روکنے کے لئے میدان میں اترتے ہیں۔ یوم دفاع کا سبق ہمارے بدن میں دوڑتے پھرنے والے لہو کی ایک ایک بوند میں محفوظ ہونا چاہئے۔ یہ سبق سال بھر میں صرف ایک ہی بار منانے سے ازبر نہیں ہوتا، اسے تو ہر روز طلوع ہونے والے سورج کی پہلی کرنوں کے ساتھ دل میں اترتا محسوس کرنا ہوگا۔ جب ہی ہم اس کا حق صحیح طور پر ادا کر سکیں گے۔

مزید : ایڈیشن 1