عید شاپنگ کیلئے رقم نہ ملنے پر دو نوجوانوں کی خودکشی

عید شاپنگ کیلئے رقم نہ ملنے پر دو نوجوانوں کی خودکشی

ایسی معاشرتی برائیاں جن سے افراد کے کسی نقصان کا اندیشہ ہو جہاں انکے تدارک کے اسباب اورروک تھام کیلئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے وہاں ایسی برائیاں جن سے اس کے مرتکب کو ذاتی طور نقصان لاحق ہو ان کے بھی تدارک کی اشد ضرورت ہے مگر لاپرواہی اور عدم توجہی کی انتہا ہے کہ خود کشی جیسا گناہ کبیرہ اور نا قابل برداشت عمل ہمارے معاشرہ کا حصہ ہے بلکہ آئے روز اجتماعی و انفرادی خود کشیوں کے رونما ہوتے واقعات ثابت کررہے ہیں کہ اس رجحان میں اضافہ ہورہا ہے حالانکہ اسلام میں اس کی سخت ممانعت ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺنے ایسا کرنے والوں کیلئے سخت عذاب کی وعید سنائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود کشی کو ناقابل معافی فعل قرار فرمایا ہے اور ایسا فرد کو جو اپنی زندگی اپنے ہاتھوں ختم کردے اس کیلئے سخت عذابات وکڑی سزائیں بھی متعین ہیں ،یہاں تک علمائے کرام نے بعض روایات کے رو سے خودکشی کے مرتکب انسان کی نماز جنازہ کی بھی ممانعت بیان کی ہے بلکہ ایسے شخص کا عالم یہ بیان کیا گیا ہے کہ خود کشی کرنے والے کی نعش جب قبر کی نظر کردی جاتی ہے تو جس طریقہ سے اس نے خود کشی وہ عمل قبر میں اس کے ساتھ بار بار دھرایا جاتارہے گا جس کی تکلیف اسے قیامت تک برداشت کرنا پڑتی ہے یہی نہیں بلکہ بروز حشر بھی اس کے اس ایک عمل کے باعث اسکی زندگی کے وہ اعمال جو اسکے لئے ثواب و جزاء کے حامل تھے وہ اسکے لئے کارگر نہیں رہتے اور اسے عذاب جہنم کا حقدار ٹھہرایا جاتا ہے مگر نہایت بدبختی ہے کہ آج معمولی معمولی بات پر لوگ ذہبنی طور پر مایوسی کا شکار ہو کر خود کشی کے رجحانات کا شکار ہورہے ہیں جس کی واضح مثالیں گزشتہ روز پیش آنے والے دو دلخراش واقعات ہیں جن میں گھریلو ناچاقی اور عید کی خریداری کیلئے پیسے نہ ملنے پر دو نوجوانوں نے گندم میں رکھنے والی زہریلی گولیاں نگل کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا، پہلا واقعہ سٹی فاروق آباد کے علاقہ شمس آباد میں پیش آیا جس میں مقامی رہائشی نوجوان منیر احمد نے والدین کی طرف سے عید کی خریداری کیلئے پیسے نہ ملنے پر دلبرداشتہ ہو کر زیریلی گولیاں کھاکر موت کو گلے لگایا جبکہ دوسرا افسوسناک واقعہ تھانہ صدر کے علاقہ ڈیرہ گجراں میں پیش آیا جہاں ایک 22سالہ نوجوان محمد اعظم نے گھریلو ناچاکی اور والدین کی ڈانٹ ڈپٹ سے دلبرداشتہ ہو کر زہریلی گولیاں کھا لیں جبکہ تھانہ فیکٹری ایریا کے علاقہ کوٹ عبدالمالک میں ایک 18سالہ دوشیزہ (ش) نے والدین کی ڈانٹ ڈپٹ سے دلبرداشتہ ہو کر گندم میں رکھنے والی زہریلی گولیاں کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا واقفان حال کے مطابق دوشیزہ کے والد عمر حیات نے اسکی کسی بات پر ڈانٹ ڈپٹ کی تو اس نے اسی شام دلبرداشتہ ہو کر گندم میں رکھنے والی گولیاں کھا کر زندگی جیسی انمول نعمت کو اپنے ہی ہاتھوں ختم کرڈالا، اسی طرح رواں سال میں متعدد ایسے دلخراش واقعات رونما ہوئے جن میں مختلف عمر کے مرد و خواتین نے مایوس اور دلبرداشتہ ہو کر موت کو گلے لگایا البتہ ان واقعات کی بھینٹ چڑھنے والوں میں زیادہ تر تعداد نوجوان لڑکے لڑکیوں کی ہے اور کہنے کو گھریلو تنازعات کی وجوہات زیادہ تر واقعات میں سامنے آئیں مگر پسند کی شادیاں نہ ہونا، رشتے سے جواب اور معاشقہ وغیرہ جیسی وجوہات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا یہ امر بھی واضح ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں اجتماعی و انفرادی خود کشیوں کے زیادہ تر واقعات کا تعلق بے روزگاری اور تنگ دستی سے جوڑا گیا تھا تاہم رواں برس اس نوعیت کے واقعات کی تعداد خاصی کم ہے مگر خود کشیوں کی شرح کم نہیں ہوئی بلکہ اضافہ دیکھا گیا ہے اور بظاہر خود کشی کسی ایک انسان کا اپنی جان پر کھیل جانا ہے مگر درحقیقت یہ ایک ایسا معاشرتی المیہ ہے جس کے تدارک کیلئے آج تک کسی طرح کے موثر اقدامات نہیں اٹھائے گئے حالانکہ کونسلنگ اور ڈبیٹ ایسے کارگر ہتھیار ہیں جن کے ذریعے ایسے واقعات کی شرح میں کمی یقینی ہے مگر اس اہمیت طلب ایشو پر کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا اور اشتعال اور عدم برداشت کے بڑھتے رجحانات کی روک تھام یقینی بنانے کے حوالے سے بھی کسی معاشرتی سیکٹر نے کوئی اقدام نہیں اٹھایا دیکھا جائے تو علماء کرام اپنے فکر انگیز خطبات کے ذریعے ، اساتذہ کرام تدریسی عمل کے ذریعے ، حکومت کونسلنگ کی سہولت کی فراہمی کے ذریعے اور عوامی سماجی و فلاحی اداروں سے وابستہ سرکردہ و صاحب فکر افراد ڈبیٹ کے ذریعے یہ واضح کرنے میں حتمی طور پر کامیاب ہوسکتے ہیں کہ خود کشی کسی بھی صورت قابل برداشت عمل نہیں اور نہ ہی یہ اپنے مطالبات پر توجہ دلانے یا اپنی مایوسی کے اظہار کا کارگر ذریعہ ہے ، اللہ تعالیٰ نے انسان کو زبان دی ہے جس سے وہ اپنے مطالبات بیان کرسکتا ہے عقل دی ہے جس سے وہ سوچ سکتا ہے کہ اسے جو چاہئے اس کا آسان راستہ کیا ہے اور اتنی قوت دی ہے کہ اگر اس کا مطالبہ کوئی دوسرا شخص پورا نہیں کرتا تو وہ خود سے اس قابل ہو کہ اسے کسی سے کوئی ایسی امید لگانے کی ضرورت نہ پڑے کہ جس کے بارآور نہ ہونے پر وہ شدید مایوسی اور اشتعال کی راہ پر چل نکلے ، ووسری طرف اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ریاستی حکام کی بے حسی کے باعث ملکی معاشی حالات خراب ہیں جن کی وجہ سے موجودہ دگرگوں حالات اور محرومیاں بڑھ رہی ہیں مگر اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ انسان تدبیر کی بجائے مایوس ہو کر موت کو گلے لگا لے تاہم ان محرومیوں کے ازالہ کی ذمہ داری بھی بلا شبہ حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے مگر ایسے واقعات جو معاشرے میں مزید مایوسی کے فروغ کا باعث بنیں اور خود کشیوں کی شکل میں سامنے آتے رہیں یقیناًباعث تشویش ہیں جبکہ ایسے واقعات سے بچاؤ کی ذمہ داری براہ راست ایسے افراد کے اہلخانہ، پڑوسیوں اور مجموعی معاشرے کی ہے جو ایسے لوگوں کوانکے حال پر چھوڑ دینے کی بجائے ان کی اصلاح و احوال کیلئے اپنا کردار اداکریں تو بلاشبہ اس رجحان میں کمی لائی جاسکتی ہے جبکہ مذکورہ واقعات ایک طرف خود کشی جیسے ناقابل معافی و تلافی جرم کے پائے جانے والے رجحان کی وضاحت ہیں تو دوسری طرف بے راہ روی کے باعث آج کے نوجوانوں کی زہنی و اخلاقی حالت کا بھی آئینہ دار بھی ہیں جبکہ خودکشیوں کے واقعہ میں ایک غور طلب بات زہریلی گولیوں کا استعمال ہے جو اس لحاظ سے نہایت باعث تشویش ہے کہ خود کشیوں کے واقعات میں ان زہریلی گولیوں کے استعمال کے پائے جانے والے شدید رجحان کے باوجود گندم میں رکھنے والی ان زہریلی گولیوں کی آزادانہ فروخت کااب تک کوئی نوٹس نہ لیا گیا ہے حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ انتظامی ادارے ان گولیوں کے فروخت کنندگان کو پابند کرنے کریں کہ وہ بغیر تصدیق گولیوں کی فروخت ممکن نہ بنائیں اور اس سلسلہ میں اگر گندم کے آڑھتی حضرات یامحکمہ ایکسائز جیسے ذمہ دار ادارے کو ان کی فروخت کا حامل قرار دیا جائے تو اس سے بھی صورتحال میں بہتری آسکتی ہے۔

مزید : ایڈیشن 2