انصاف کی فراہمی میری اولین ترجیح ہے

انصاف کی فراہمی میری اولین ترجیح ہے

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شیخوپورہ سرفراز خان ورک ایک محنتی اور محکمانہ معاملات سے متعلق جدید مہارتوں کے حامل پولیس آفسر ہیں پولیس ڈیپارٹمنٹ کو موثر اور بہتر چلانے کے لیے ان کی خدمات گراں قدر ہیں ۔بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے CSSکا امتحان پاس کیااور پولیس سروس اور پاکستان میں اپنی خدمات کا آغاز کیا۔

روزنامہ پاکستان سے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ وہ 14نومبر1979 ؁ء کو ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم آبائی علاقے سے حاصل کرنے کے بعد گریجویشن کی ڈگری گورنمنٹ کالج لاہور سے امتیازی نمبروں میں حاصل کی ۔ لاء کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی۔ پھر ہیومن رائٹس میں ماسٹر ڈگری یونیورسٹی کالج لندن سے کی ۔ سول سروس کا امتحان پاس کرنے کے بعدستمبر 2005 ؁ ء میں پولیس سروس بطور ASPجوائن کی اور32 ویں کامن ٹرینگ پروگرام میں تربیت حاصل کی جبکہ2005 ؁ء میں نیشنل پولیس اکیڈمی میں زیر تربیت رہے ۔ان کی پہلی پوسٹنگ2006 ؁ء میں بطور ASPاسلام آباد ہوئی ۔2008 ؁ء میں ASPڈیفنس لاہور خدمات سرانجام دیں اور پھر2009 ؁ء میں ASPسول لائن لاہوررہے 2009 ؁ء میں SPکے عہدے پر ترقی پانے کے بعد ان کی پہلی پوسٹنگ SPمجاہد سکواڈ لاہورتعینات ہوئے پھر2010 ؁ء میں SPٹریفک لاہوراورسیکیورٹی آفیسر ٹو پرائم منسٹر اسلام آباد رہے۔2011 ؁ء SPآپریشن کینٹ اور SPانوسٹی گیشن سرگودہا تعینات ہوئے۔2012 ؁ء میں برطانیہ سے سکالر شپ پر ماسٹر ان ہیومن رائٹس کی ڈگری حاصل کی برطانیہ سے واپس آنے پر ان کی پوسٹنگ بطور SPانوسٹی گیشن سٹی لاہور اور SPآپریشن سول لائن لاہور تعینات ہوئے۔2014 ؁ء میں SPکینٹ آپریشن لاہور تعینات ہوئے اور اگست 2014 ؁ء میں DPOجہلم پوسٹنگ ہوئی 2015 ؁ء میں DPOمیانوالی رہے اور مارچ 2016 ؁ سے ڈسٹرکٹ پولیس شیخوپورہ میں بطور DPOخدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اسکے علاوہ UNO مشن پر 2008 ؁ء میں اٹلی، 2011 ؁ء میں جاپان اور 2014 ؁ء میں ہنگری رہے۔

انہوں نے مارچ 2016 ؁ء میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شیخوپورہ کا چارج سنبھالا اپنے اعلیٰ اخلاق اور پروفیشنل صلاحیتوں کے بل بوتے پر ہر کسی کو اپنا گرویدہ بنا لیا انہوں نے چارج سنبھالتے ہی پولیس افسران و اہلکاران پر واضح کر دیا کہ انہیں حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کرنے والے پولیس افسران کی ضرورت ہے ۔ بد دیانتی اور کرپشن میں ملوث پولیس اہلکاران ہمارے معاشرے پر بد نما داغ ہیں میرٹ اور انصاف کی فراہمی میری اولین ترجیح ہے اور شیخوپورہ کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کرنااور یہاں امن کا قیام ہر صورت یقینی بنانا ہے انہوں نے سب سے پہلے پولیس شہدا اور پولیس ملازمین اور ان کی فیملیز کے لیے میڈیکل اور تعلیمی میدان میں ایسا کام کیا جو محکمہ کی تاریخ میں آج سے پہلے کوئی نہ کر سکا۔ فیملیز شہدا پولیس کے لیے مفت طبی سہولیات اور تعلیم شہرکے اچھے پرائیویٹ ادارے و ہسپتال سے معاہدہ کے زریعے کروائی نہ کہ شہدا پولیس کی فیملیز بلکہ پولیس ملازمین کے بچے و فیملیز کے لیے 50%ڈسکاؤنٹ پر یہ سہولیات دیں۔ اب DPOشیخوپورہ سرفراز خان ورک کی اس کاوش کو دوسرے افسران بھی ایسے اقدامات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے بعد عوام کی سہولت او رانکی شکایات سننے کے لیے انہوں نے روزمرہ کی بنیاد پر ڈی پی او آفس میں کھلی کچہری کا آغاز کیا جو ابھی تک جاری ہے۔ نومبر 2016 ؁ء میں تھانہ فیکٹری ایریا میں چند نامعلوم ملزمان نے سرگودھا کے ایک تاجر سے نقلی ایف آئی اے کی ٹیم بن کر ساڑھے نو کرڑور روپے لوٹ لیے ۔ ڈی پی او شیخوپورہ سرفراز خان ورک نے اس واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دی۔ جس نے دوسرے روز ہی ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضہ سے اس تاجر کی رقم واپس کروائی۔ دسمبر 2016 میں تھانہ ہاوسنگ کالونی کے ایریا میں پولیس کو اطلاع ملی کہ چند منشیات فروش گاوں غازی مدکے میں سرعام منشیات فروشی کر رہے ہیں۔ جس پر تھانہ ہاوسنگ کالونی کی پولیس نے ریڈ کیا ۔ ریڈ کرتے ہی منشیات فروشوں نے پولیس پر فائرنگ کر دی۔جس سے ایک پولیس کا جوان موقع پر شہید ہوگیا۔ ڈی پی او شیخوپورہ کو جیسے ہی اطلاع ملی۔ خود موقع پر چلے گئے اور ریڈنگ ٹیم کو خود لیڈ کیا۔ ان منشیات فروشوں کا خود سے تعاقب کیا اور پولیس مقا بلے میں ان کو واصل جہنم کیا۔

جنوری 2017 ؁ ء میں ڈی پی او شیخوپورہ کو ان کی روزمرہ کی بنیاد پر لگائی جانے والی کھلی کچہری میں گھریلو خواتین پر تشدد کی شکایات بہت زیادہ آتی تھی۔ اس کی وجہ سے انہوں نے پاکستان میں پہلا ڈومیسٹک وائلنس سیل قائم کیا۔ جس میں مرد و خواتین سٹاف پروفیشنل سٹاف لگایا گیا۔ سٹاف کو مختلف اداروں سے ٹریننگ بھی کروائی گئی۔ اب تک یعنی آٹھ ماہ میں چار سو سے زائد درخواستیں سیل میں موصول ہو چکی ہیں۔ جس میں سے تقریباً ساڑھے تین سو درخواستیں حل کروا کر یعنی گھروں کو لوٹنے سے بچا لیا گیا ہے۔

ضلع شیخوپورہ میں بڑھتے ہوئے کرائم کو پہلے کی نسبت کم کیا جس میں4130ڈکیتی ، راہزنی، راہبری و منشیات فروشی کے ملزمان اور60کے قریب خطرناک گینگز کو گرفتار کر کے ان کے قبضہ سے ناجائز اسلحہ ، موٹر سائیکلیں، ٹریکٹر،کاریں، ویگینیں و مویشی گائے بھینسیں اورہزاروں کی تعداد میں موبائل فونز برآمد کروائے۔ تقریباً 60 کروڑ روپے کا مال مسروقہ ملزمان سے برآمد کر کے ان کے ورثان کو واپس کیا۔

پولیس ملازمین کے وئلفئیر کے لیے انہوں نے تعلیمی اور طبی پرائیوئٹ اداروں اور ہسپتالوں کے علاوہ ان کی بچیوں کی شادی کے لیے

ڈسٹرکٹ پولیس شیخوپورہ کا خود سے قائم کردہ جہیز فنڈ سے 50 ہزار روپے اور شادی کا کھانا فری اور ہر ماہ کی یکم تاریخ کو بذریعہ قرعہ اندازی ایک پولیس ملازم کا عمرہ کا ٹکٹ اور ایک شہید کی فیملی کے لیے ٹکٹ بھی نکالا جاتا ہے۔ جو کہ اب تک 12 ٹکٹ نکلنے والے خوش تصیب عمرہ کی سعاد ت حاصل کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ تھانہ جات ، افتخار پولیس لائن ، دفتر DPO،میں واٹر فلٹر یشن کا قیام عمل میں لا یا گیا۔تھانوں میں پولس ملازمان کی سہولت کے لئے یو پی ایس، گیزر اورٹائل باتھ رومز کی تعمیرشامل ہے۔ افتخار پویس لائن میں سرکاری میس اور فیملی کوارٹر کی تعمیرکی گئی ہے۔بدنام زمانہ کئی منشیا ت فرو شوں کو گر فتا ر بھی کیا گیا جو کہ علاقے میں چر س ہیرو ن اور شرا ب فرو شی مکروہ دھندہ کرنے میں مصروف تھے اور نو جو انو ں نسل کی ز ند گیوں سے کھیل ر ہے تھے ۔ پو لیس افسرا ن کو اس با ت کا خیا ل رکھنا چا ہیے کہ یہ عہدہ ان کے پا س ایک اعزاز ہے انھیں ہمیشہ دیا نت داری اور جا نفشا نی سے کا م کر نا چا ہیے۔ان کا کام مثا لی ہو گا تو ان کی آخر ت بھی اچھی ہو گی اورآنیو الی نسلیں بھی انھیں یا د رکھیں گی انھو ں نے ایک تا ریخی واقعہ بیان کر تے ہو ئے کہا کہ

سلطان محمود غزنوی نے دنیا میں تینتیس 33 سال حکومت کی اور اس وقت کا دنیا کا شجاعت اور دنیا پر اثر و رسوخ رکھنے والا دوسرے نمبر کا بادشاہ تھا۔ پہلے نمبر پر چنگیز خان تھا دوسرے نمبر پر محمود غزنوی تھا تیسرے نمبر پر سکندر یونانی تھا چھوتھے پر تیمور لنگ تھا اور یہ دوسرے نمبر کا بادشاہ تھا سلطان محمود غزنوی۔ 410 ہجری میں سلطان محمود غزنوی کی وفات ہوئی اور دنیا پر تینتیس سال حکومت کی ہے یہ واقعہ سچا اور انفرادی حثیت رکھتا ہے کہ 1974 میں شہر غزنوی میں زلزلہ آیاجس سے سلطان محمود غزنوی کی قبر پھٹ گئی اور مزار بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا تو اس وقت کے افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ مرحوم نے دوبارہ مزار کی تعمیر نو کی اور قبر کو مرمت کروایا۔ تعمیر کے مقصد کے لئے قبر کو پورا کھول دیا گیا کیونکہ قبر نیچے تک پھٹ گئی تھی جب قبر کو کھولا گیا تو قبر کے معمار اور قبر کی زیارت کرنے والے حیران رہ گئے کہ قبر کے اندر سے ہزار سال سے مرے ہوئے اور تابوت کی لکڑی صحیح سلامت ہے سب لوگ حیران اور ورطہ حیرت کا شکار ہوگئے تابوت صحیح سلامت ، ہزار سال گزرنے کے باوجود ، حکام نے تابوت کو کھولنے کا حکم دیا تو جس آدمی نے کھولا تو پلٹ کر پیچھے گرا اور بیہوش ہوگیا تو جب پیچھے لوگوں نے آگے بڑھ کر دیکھا تو وہ سلطان جو تینتیس سال حکومت کرکے مرا اور مرے ہوئے ہزار سال گزر چکے ہیں وہ اپنے تابوت میں ایسے پڑا تھا جیسے کوئی ابھی اس کی میت کو رکھ کے گیا ہے اور اس کا سیدھا ہاتھ سینے پر تھا الٹا ہاتھ اور بازو جسم کے متوازی سیدھا تھا اور ہاتھ ایسے نرم جیسے زندہ انسان کے ہوتے ہیں اور ہزار سال مرے بیت چکے ہیں یہ اللہ تعالیٰ نے ایک جھلک دیکھائی کہ جو میرے محبوب کی غلامی اختیار کرتے ہیں وہ بادشاہ بھی ہو گئے تو وہ اللہ کے محبوب بن کے اللہ کے پیارے بن کے اللہ کے دربار میں کامیاب ہو کر پیش ہوں گے۔

زندگی مختصر ہے اور وقت تیزی سے گزر رہا ہے وقت کے آگے طاقت ور سے طاقت ور بادشاہ کمزور اور بے بس ہے وقت کو کوئی نہیں روک سکتا لیکن وقت پر جس شخص نے اللہ کی مخلوق کی بہتری، بھلائی اور اللہ کی خوشنودی کو مقدم رکھا وہی شخص مرنے کے بعد بھی لافانی ہے۔ ہم سب دو ستو ں کو اس طر ح سے کا م کر نا ہو گا اور زند گی کو اس طر یقے سے بسر کر نا ہو گا کہ ا نھیں اللہ کے حضور پیش ہتے ہو ئے کسی ندا مت کا سا منا نہ کر نے پڑے وہ اسی خیا ل سے زندہ ہیں اور ان کے دروازے ہمہ وقت انصا ف کے لیے کھلے ہیں ۔آخر میں انھو ں نے بتا یا کہ تما م مکتب فکر کے معززین با لخصوص جر نلسٹ میرے لیے انتہائی قا بل احترام ہیں اور ان کے زاتی کا موں کو میں دلچسپی لیکر حل کروانے کی پوری کو شش کر تا ہوں۔

مزید : ایڈیشن 2