رینجرز نے کراچی کو امن کا گہوارہ بنا دیا ، دنیا پاکستان کا امن تسلیم کر رہی ہے : احسن اقبال

رینجرز نے کراچی کو امن کا گہوارہ بنا دیا ، دنیا پاکستان کا امن تسلیم کر رہی ...

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے ملک میں نسل پرستی ‘ مذہب اور فرقہ واریت کی لہر بڑھ گئی ہے کچھ مخصوص گروپ سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے ہم نے دنیا کے ساتھ قتل و غارت کا نہیں بلکہ نوبل انعام کے لئے مقابلہ کرنا ہے آج کا پاکستان 2013 کے پاکستان سے بہت بہتر ہے ۔ رینجرز نے کراچی کو امن کا گہوارہ بنایا ہے دنیا پاکستان کے امن کو تسلیم کر رہی ہے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ کرکٹ گراؤنڈ دوبارہ آباد ہو رہے ہیں ورلڈ الیون پاکستان کی طرف سے خوش آمدید کہتے ہیں ۔ واضح کر دو کہ یہ پٹیچر نہیں بلکہ دنیاکے بہترین کھلاڑی ہیں ۔ پیر کے روز کراچی مزائد قائد پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہاہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلایا جا رہا ہے بدقسمتی سے ملک میں نسل پرستی مذہب ‘ فرقہ واریت اور انتہا پسندی کی لہر پھیلی ہوئی ہے ان ساری چیزوں کو ختم کرنے کے لئے ہمیں قائد اعظم کے وژن کو دوبارہ زندہ کرنا ہے ۔ وزیر داخلہ نے کراچی کے متعلق بات کرتے ہوئے کہ اکہ رینجرز نے کراچی میں امن کے لئے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔ آج کراچی پرامن شہر ہے آج کا پاکستان 2013 سے مختلف پاکستان ہے ۔ 20 ‘ 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ اور دہشتگردی کا خاتمہ ہو چکا ہے دنیا پاکستان کے امن کو تسلیم کر رہی ہے احسن اقبال نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک بندہ ایسا ہے جسے منلک میں ہر چیز کا بیڑہ غرق نظر آتا ہے پاکستان ورلڈ الیون کے کھلاڑیوں کو خوش آمدید کہتا ہے پاکستان مین کھیل کے میدان آباد ہو رہے ہیں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ یہ کوئی پھٹیچر کھلاڑی نہیں بلکہ دنیا کے بہترین کھلاڑی ہیں پاکستان ترقی کی طرف گامن ہے ہمیں دنیا کے ساتھ قتل و غارت نہیں بلکہ نوبل انعام کے لئے مقابلہ کرنا ہے ۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ انصارالشریعہ کے متعلق بہت اہم کامیابی ملی ہے ہم کالعدم تنظیموں کو تسلیم نہیں کرتے ہمیں آج بہت سارے اندرونی تضادات کا سامنا ہے ہمیں سب کو مل کر باہر کے خطرات سے نمٹنا ہے ہمیں اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کے لئے بہت کچھ کرنا ہے ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ الیکشن 2018 میں بھی ہوں گے ۔ اپوزیشن جماعتوں سے مطالبہ ہے کہ وہ ہمارے مل کر کام کریں ۔

احسن اقبال

مزید : صفحہ آخر