پنجاب وبلوچستان اسمبلی : برمی مسلمانوں پر تشدد کیخلاف مذمتی قرار دایں منظور

پنجاب وبلوچستان اسمبلی : برمی مسلمانوں پر تشدد کیخلاف مذمتی قرار دایں منظور

لاہور،کوئٹہ(اے این این،این این آئی) پنجاب اور بلوچستان اسمبلیوں میں برمی مسلمانوں پر بہیمانہ تشدد کے خلاف قرار دادیں متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں ۔ اس کے علاوہ پنجاب اسمبلی میں امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کے خلاف بھی قرار منظور کی گئی۔ صوبائی وزیر خلیل طاہر سندھو نے کہا ہے کہ این اے120میں کوئی پری پول رگنگ نہیں ہو رہی نہ ہی الیکشن کنڈکٹ کی کوئی خلاف ورزی ہو رہی ہے یہ مخالفین کے اندر کی شکست کا خوف ہے جو انہوں نے ایک جلسی کی تھی اس کی ناکامی کی وجہ سے یہ پری پول رگنگ کا الزام لگا رہے ہیں ،سیکرٹریز ٹو چیف منسٹر ز کے اوپر پری پول رگنگ کا یہ الزام، حقائق پر مبنی نہیں ہے،الیکشن کمیشن ایک اتھارٹی ہے یہ اپنی شکایات لیکر ان کے پاس جائیں، پیپلز پارٹی نے پچھلے الیکشن میں1400ووٹ حاصل کئے تھے یہ بلا مقابلہ شکست خوردہ ہیں اور یہ ان کے اندر کا شکست کا خوف ہے اجلا س کورم پورا نہ ہونے کی صورت میں آج صبح10بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔پنجاب اسمبلی کے ایوان میں اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید اور سردار شہاب الدین کے نکتہ اعتراض کا جواب دے رہے تھے،پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے40منٹ کی تاخیر سے سپیکر رانا محمد اقبال کی صدارت میں شروع ہوا ، اجلاس میں دو محکموں سپیشل ایجوکیشن اور ڈیری ڈویلپمنٹ اینڈ امور پرورش حیوانات کے بارے میں چوہدری محمد شفیق اور آصف سعید منہیس نے سوالوں کے جوابات دیئے۔قبل ازیں لیڈر آف دی اپوزیشن میاں محمود الرشید نے نکتہ اعتراض پر وزیر اعلیٰ کے دو سیکرٹریز سجاد ظفر اور عطاء تارڑ پر الزام لگایا ہے کہ وہ این اے 120کے ضمنی الیکشن میں وزیر اعلیٰ کے احکامات پر عمل کرواتے ہیں اور ضمنی الیکشن میں حکومت پنجاب پری پول رگنگ کررہی ہے، ہمارے پاس وڈیوثبوت موجود ہیں، سردار شہاب الدین نے بھی اس موقع پر این اے120میں حکومت کی جانب سے پری پول رگنگ کاالزاام لگایا گیا۔اس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے نعرے بازی بھی شروع ہو گئی پری پول رگنگ نا منظور ۔ وقفہ سوالات کے دوران محمد ارشد ملک کے سوال کے جواب میں آصف سعید مہنیس نے کہا کہ ڈیری ڈویپلمنٹ کے شعبہ میں جانوروں کی صحت کے لئے ڈورٹو ڈور فوکس کررہی ہے،محکمہ خالی پوسٹین آئندہ دو ماہ تک فل کر لی جائیں گی چوہدری محمد شفیق کے ایوان کو یقین دھانی کرائی کہ ٹیوٹا میں1100سے اوپر خالی پوسٹیں ایک ماہ تک مکمل کر لی جائیں گی۔پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں دو قراردادیں بھی آؤٹ آف ٹرن رولز کو معطل کرکے ایوان میں پیش کی گئیں پہلی قرارداداپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے روہنگیا کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم وستم کے خلاف پیش کی جس میں انہوں نے کہا برما میں آنگ سان سوچی کی حکومت نے وہاں کی وہاں کی فوج کے ساتھ ملکر مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے اس بربریت پر بین الاقوامی اداروں سمیت اسلامی ممالک کے ادارے اور تنظیمیں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جس سے پاکستان سمیت پوری دنیا میں بسنے والے مسلمانوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے یہ ظلم چنگیزخان اور ہٹلر کو بھی مات دے گیا ہے ،پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ برما کے مسلمانوں کی زندگی کے حق کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں ان کے قتل عام کی بھر پور مذمت کی جائے اور آنگ سانسوچی سے امن کا نوبل انعام واپس لینے کا مطالبہ کیا جائے اقوام متحدہ اور او آئی سی سے بھی مطالبہ کیا جائے کہ برما کے مسلمانوں کی نسل کشی روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ صوبائی وزیر خلیل طاہر سندھو نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کے خلاف مذمتی قرارداد ایوان میں پیش کی جس میں کہا گیا کہ صوبائی اسمبلی پنجاب کا یہ ایوان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے بارے میں حالیہ بیان کی پر زورالفاظ میں مذمت کرتا ہے، یہ دونوں قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔ ابھی اجلاس کی کارروائی جاری تھے کہ اپوزیشن کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی گئی ، اور پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجانے پر کورم پورا نہ پوا جس پر سپیکر رانا محمد اقبال خان نے اجلاس آج بروز منگل صبح10بجے تک کے لئے ملتوی کردیا۔بلوچستان اسمبلی میں بھی میا نمار میں رو ہنگیا مسلمانو ں پرمظا لم کے خلاف مشترکہ قرارداد منظور کر لی گئی ، سابق وزیر اعلی ٰ ڈاکٹر عبدا لما لک بلوچ کی جانب سے گوادر میں اراضی الاٹمنٹ کے الزامات پر قرار داد استحقاق کمیٹی کے سپر د کردی گئی، بلوچستان اسمبلی کا اجلاس آدھے گھنٹے کی تاخیر سے سپیکر راحیلہ حمید درانی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنی تحریک استحقاق پیش کرتے ہوئے کہا کہ معزز رکن اسمبلی عبدالمجیدخان اچکزئی نے 25اگست2017ء میں اسمبلی میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے مجھ پر الزام لگایا کہ میں نے بحیثیت وزیراعلیٰ گوادر میں اکتیس ہزار ایکڑ اراضی الاٹ کی ہے جس کی میں پرزور تردید کرتا ہوں میں نے گوادر میں31ہزار ایکڑ اراضی اپنے دور حکومت میں الاٹ نہیں کی معزز رکن اسمبلی کے بیان سے میرا استحقاق مجروح ہوا ہے لہٰذا میری تحریک استحقاق کو باضابطہ قرار دیتے ہوئے اس پر مزید کارروائی عمل میں لائی جائے ۔سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے 2013ء کے انتخابات میں اپنے منشور میں واضح طور پر لکھا تھا کہ گوادر کی زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کو منسوخ کیا جائے گا جب میں وزیراعلیٰ بنا تو پہلی ترجیح اپنے منشور پر عملدرآمد تھا جس پر عمل کرتے ہوئے پسنی میں ایک لاکھ60ہزار ایکڑ اراضی پر غیر قانونی الاٹمنٹ کو منسوخ کیا اس کے علاوہ گوادر میں ایک لاکھ اور ڈیڑھ لاکھ ایکڑ پر مشتمل زمینوں کی الاٹمنٹ منسوخ کی انہوں نے کہا کہ ہم نے گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی پر پابندی عائد کی کہ ایک بھی پلاٹ کسی کو الاٹ نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہاکہ میرے اوپر لگائے گئے الزامات سے میرا استحقاق مجروح ہوا ہے اس معاملے کو استحقاق کمیٹی کے سپرد کیا جائے تاکہ وہ اس معاملے کی تفصیلات کو دیکھتے ہوئے اس کی تحقیقات کرے ۔جمعیت العلماء اسلام کے رکن سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ مجیدخان اچکزئی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین ہیں انہوں نے پی اے سی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں الزامات عائد کئے ذمہ دار پوسٹ پر فائز شخص کے بات کرنے کی اپنی اہمیت ہوتی ہے جب تک کسی پر تحقیقات میں الزام ثابت نہ ہو انہیں الزام نہیں لگانا چاہئے بحیثیت اپوزیشن رکن گزارش کرتا ہوں کہ جس پر بھی الزام لگا ہے پہلے اسے ثابت کرے پھر اس معاملے کو پریس میں لائیں ۔مجیدخان اچکزئی ایک پارٹی کے رہنماء ہیں یہ پارٹی کے لئے بھی نقصان دہ ہے لوگوں کی عزتیں اچھالنا اچھی بات نہیں ہمیں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن و صوبائی وزیر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئیں اخباری بیانات کو اتنی اہمیت حاصل نہیں ہونی چاہئے انہوں نے کہا کہ مجیدخان اچکزئی نے یہ الزامات ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ پر نہیں لگا ئے پی اے سی چیئرمین کو پہلے بھی بتاچکا ہوں کہ آپ جو بھی بات کریں پہلے تحقیقاتی اداروں تک معاملے کو پہنچنے دیا جائے پھر اس پر میڈیا میں بات کریں ۔ہماری طرف سے کسی پر الزام نہیں لگایا گیا چیئر مین پی اے سی عبدالمجیدخان اچکزئی نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ہمارے لئے محترم ہیں اور ہماری مخلوط صوبائی حکومت کے ساتھی ہیں ہم نے انہیں اپنی پارٹی کے چیئر مین کے کہنے پر واضح اکثریت سے وزیراعلیٰ بنایا میں نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا بیان اخبار میں پڑھا جیونی گوادر اور ماڑہ میں کتنی زمینوں کی الاٹمنٹ کی گئی ہیں اور کتنی زمینوں کی الاٹمنٹ منسوخ کی گئی ہے اس کا ریکارڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ سے ملنے کے بعد حتمی طو رپر کچھ کہا جاسکے گا ۔ اخبار میں جو بیان چھپا ہے میں نے 31ہزار نہیں31سو ایکڑ کی بات کی ہوگی پشتون بلوچ صوبے میں کوئی زمین حکومت کی نہیں ہے یہ تمام زمینیں ہمارے قبائل کی ہیں کینسل کی گئی زمینوں میں سے 25فیصد سٹیٹ لینڈ ڈکلیئر کی گئیں اور پھر مختلف موضوں میں الاٹمنٹ ہوئی یہ ہماری حکومت ہے اس میں جو بھی ہوا ہم اس کے ذمہ دار ہیں اگر بورڈ آف ریونیو کے ریکارڈ میں میری بات غلط ثابت ہوتی ہے تو میں اس وقت معذرت کروں گاکیونکہ اصل اعدادوشمار تبھی آئیں گے ۔ ڈاکٹر عبدلمالک بلوچ نے کہا کہ مجیدخان اچکزئی 31ہزار اور 31سو ایکڑ میں کنفیوزڈ ہیں جس 31سو ایکڑ کی بات کی جارہی ہے وہ مارچ میں الاٹ ہوئی جبکہ میں نے دسمبر میں ا ستعفیٰ دے دیا تھا میرا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کو استحقاق کمیٹی میں بھیجیں اگر میری کوتاہی ثابت ہوئی تو میں ذمہ دار ہوں اور اگر نہیں ہوتی تو مجیدخان ذمہ دار ہیں مجیدخان اچکزئی نے کہا کہ میں نے کسی پر الزام نہیں لگایا ریونیو ریکارڈ سامنے آنے پر ساری صورتحال واضح ہوجائے گی جس کے بعد سپیکر نے اس معاملے کو استحقاق کمیٹی کے سپرد کرنے کی رولنگ دی ۔مجلس وحدت المسلمین کے آغا سید رضا نے نکتہ عوامی مفاد پر بات کرتے ہوئے ایوان کی توجہ کچلاک میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کی طرف مبذول کرائی انہوں نے کہا کہ کچلاک میں جو اندوہناک واقعہ پیش آیا ہے اس میں ہزارہ قبیلے کے چار نوجوانوں کو قتل کیا گیا جس طرح برمی حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کو اپنا شہری ماننے سے انکار کردیا ہے اسی طرح ہم بھی اسی دور سے گزررہے ہیں ہمارا بھی قتل عام جاری ہے ہم کس منہ سے قرار دادیں پیش کررہے ہیں داعش علاقے میں قدم جمانے کی کوشش کررہی ہے لیکن حکومت کو بارہا بتانے کے باوجود ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی یہ پورے ملک اور خطے کا مسئلہ ہے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے دہشت گردوں کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کی سرکوبی اور جڑیں کاٹنے کی ضرورت ہے پاکستان مسلم لیگ کی ڈاکٹر رقیہ ہاشمی نے کہا کہ 2ہزار میل دور برما کے مسلمانوں کے قتل پر غم کا اظہار کیا جارہا ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ اپنے ملک میں جاری مظالم پر بات نہیں کی جارہی ہمیں پہلے اپنے گھر کا غم کرنے کی ضرورت ہے صوبے میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جائے ۔

پنجاب ؍ بلوچستان اسمبلی

مزید : صفحہ آخر