میانمار میں مسلمانوں پر مظالم کیخلاف بحث ، او آئی سی سے کوئی توقع نہیں وہ خود او آئی سی یو میں ہے : اراکین قومی اسمبلی

میانمار میں مسلمانوں پر مظالم کیخلاف بحث ، او آئی سی سے کوئی توقع نہیں وہ خود ...

اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی میں روہنگیامسلمانوں پر میانمارحکومت کے جاری مظالم اور ملک بدری کیخلاف جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے جمعیت علماء اسلام (ف)کے سربراہ مولانافضل الرحمن نے مطالبہ کیاکہ آنگ سان سوچی سے نوبل انعام واپس لیاجائے ،اوآئی سی سے کوئی توقع نہیں رکھنی چاہئے ،وہ خودآئی سی یومیں ہے ،ان کاکہناتھاکہ آج کادن بہت اہمیت کاحامل ہے جب برماکے صوبہ اراکان کے روہنگیامسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے آج اس حدتک یہ بات قابل اطمینان ہے کہ پورے ملک میں ہرسطح اورہرشعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراداپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف اٹھائے جانے والے مظالم کے خلاف آوازبلندکئے ہوئے ہیں ،نائن الیون سے لیکرآج تک درجنوں مسلم ممالک میں آگ برس رہی ہے ،اورامت مسلمہ خون کے دریاکوعبورکررہی ہے ۔انہوں نے بتایاکہ سینیٹرطلحہ محمودنے ویڈیوپیغام میں روہنگیامسلمانوں کے قریب پہنچنے اوروہاں کے حالات کی نشاندہی کی ،حالات بہت تلخ ہیں ،برماحکومت کے مظالم کامسئلہ انسانیت کامسئلہ بن گیاہے ،وہاں انسانیت کی تذلیل ہورہی ہے ،کوئی ایک بھی غیرمسلم قتل ہوتاہے تودنیاچیخناشروع کردیتی ہے ،آج مسلم دنیاکوگھاس کے دورمیں دھکیلاجارہاہے ،ہمیں دیکھناہوگاکہ آج دنیانے کیوں منہ بندکئے ہوئے ہیں ،کیوں انہیں مسلم کمیونٹی اورمیانمارحکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے مظالم نظرنہیں آتے ،صوبہ اراکان کی 12لاکھ نفوس پرمشتمل مسلمان آبادی سے جینے کاحق چھیناجارہاہے ۔میری رائے کے مطابق ہمیں دنیاکوبعدمیں پکاراہے پہلے ہمیں اپنی حکومت اورمقتدرقوتوں کوپکارناہے ،جس دوقومی نظریے کے مطابق ہندوستان کے مسلمانوں نے آزادی حاصل کی اسی نظریئے کے مطابق میانمارکے مسلمانوں کوآزادی دلانے کیلئیے ہمیں آوازاٹھاناہوگی ۔برمامیں انسانی حقوق کی جدوجہد کیلئے نوبل انعام حاصل کرنے والی اقتدارمیں آنے کے بعدمسلمانوں کی نسل کشی پراترآئی ہے ،ہماراسب سے پہلامطالبہ ایسی خاتون سے نوبل انعام واپس لیاجائے ،ہم خودان حالا ت سے گزرے ہیں ،ہمیں برماکے معاملات کودوسری نظرسے دیکھناہوگا،امریکن صدرکی پاکستان کودھمکیاں اوردہشتگردی کے خلاف عالمی اتحادان سب پرنظررکھے ہوئے ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں پاکستان کوآگ کی طرف دھکیلاجارہاہے ،امریکہ اپنے مفادات کیلئے دنیامیں ایک نئی جغرافیائی تقسیم کے نظریئے پرکاربندہے ۔آج دنیامیں ایک بارپھرسردجنگ شروع ہوچکی ہے ،امریکہ دنیاپرطاقت کے ذریعے حاکمیت قائم رکھناچاہتاہے ،سی پیک کے بعدہم نے وطن عزیزکوعدم استحکام کانشانہ بنانے کی نشاندہی سب سے قبل میں نے کی۔پاکستان کوبرمااورچائنہ کے تعلقات پراپناکرداراداکرناچاہئے ،پاکستانی افواج کے براکے ساتھ بہترین تعلقات ہیں ان تمام راستوں کواختیارکرناہوگا،جس سے برماحکومت مسلمانوں کی جانب اپنی پالیسیوں پرنظرثانی پرمجبورہے ۔اوآئی سی سے کوئی توقع نہیں رکھنی چاہئے اوآئی سی خودآئی سی یومیں ہے ،ہمیں اردگان جیساکرداراداکرناہوگا،جوہماراحق تھاوہ کوئی اوراداکررہاہے ،اردگان کی اہلیہ برماپہنچ چکی ہیں ،موجودہ پاکستان ایسی پوزیشن میں جوپوری امت مسلمہ کی قیادت کرسکتاہے لیکن ہم بطریق احسن اپناکرداراداکرنے میں ناکام رہے ہیں ،ہمیں اس ایوان سے ایک جامع اورمضبوط قراردادپاس کرناہوگی تاکہ حکومت برماحکومت سے فوری بنیادوں پربات کرنے پرمجبورہو۔قومی اسمبلی میں جاری بحث میں بولتے ہوئے شازیہ مری نے کہا کہ 11ستمبر بانی پاکستان کا یوم وصال اہمیت کا حامل ہے۔ 9/11کے حوالے سے الگ اہمیت ہے۔ لیکن آج ان اولین ترجیح میانمار کی مخدوش صورتحال قابل تقلید عمل ہے۔ بہت افسوس ناک ہے جس طرح سے روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے اس ظلم پر جتنی چاہے آواز بلند کریں وہ کم ہے۔ پاکستان روہنگیاں مسلمانوں کے رکھے جانے والے شرمناک برتاؤ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ دنیا میں بجمہوریت کا راگ الاپنے والے مودی نے آج تک میانمار حکومت کے اس ظلم کیخلاف ایک لفظ نہیں بولا آج تو یو این کی طرف سے بھی میانمار حکومت سے معصوم مسلمانوں کے ساتھ کردار کے جانے والا سلوک بند کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ وزیراعظم برما کی طرف سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری رکھی جانے والی اذیتوں کو مسترد کر رہا ہے۔ رواں برس مجھے برما کے دورے کے دوران وہاں کی عوام نے بتایا کہ آمریت کے بعد گزشتہ4سالہ جمہوری دور حکومت میں بھی ان کے مسائل اور پریشانیوں کا سد باب نہیں ہو سکا۔ مزید برآں قومی اسمبلی کو بتایاگیاکہ ایران میں25پاکستانی قیدہیں ان کے خلاف منشیات سمگلنگ رکھناغیرقانونی داخلہ ،جعل ،پاسپورٹ کااستعمال ،اغوا،چوری اورقتل کے الزامات میں منشیات سمگلنگ کی سزادس سال عمرقیدیاسزائے موت بھی دی جاسکتی ہے ،پارلیمانی سیکرٹری برائے وزارت اوورسیز پاکستانی سردار شفقت بلوچ نے اعتراف کیاکہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں اوروہاں یہ3400پاکستانی قیدتھے جن میں سے 2200کورہاکروالیاگیااورابھی1200قیدی رہتے ہیں جن کورہاکروانے کیلئے کوششیں جاری ہیں ۔وفاقی وزیربرائے کامرس پرویزملک نے کہاکہ یونان کے ساتھ پاکستان کی تجارت کاحجم کم ہواہے ،پہلے یہ89.5ملین امریکی ڈالرتھی جوکہ اب 72.3ملین ڈالرہے ،پاکستانی سوتی کپڑے ،چاول ،کیماوی مصنوعات اورمصنوعی کپڑے سے یونان کی مارکیٹ میں اپنے قدم جمالئے ہیں ،ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری بحران کاشکارہے ،جس کوبحران سے نکالنے کیلئے خصوصی پیکج بھی دیاگیاہے ،جس کے تحت9ارب روپے کی رقم تقسیم کی گئی ہے اورباقی6ارب اوربھی تقسیم کریں گے ۔وہ پیرکوقومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے جوابات دے رہے تھے ۔انہوں نے ایکسپورٹ کوبڑھانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ،جس سے ملکی ایکسپورٹ میں خاطرخواہ اضافہ ہوگا،وزارت تجارتی اتاشیوں کی مجموعی کارکردگی کی وقتاًفوقتاًجائزہ لیتی ہے ،وزیراعظم کی منظوری سے وزارت تجارت نے گزشتہ سال تجارتی افسران کی کارکردگی کی تحقیق کیلئے کلیدی کارکردگی اعتباریوں کی شکل میں سخت معیاربتایاگیا۔ٹیکسٹائل کی زیادہ ترانڈسٹری ٹھیک ہے کچھ میں جوکہ نقصان میں جارہی ہے جلدٹیکسٹائل کے حوالے سے مشکلات سے باہرنکل جائیں گے ۔ایم کیوایم رہنمارشیدگوڈیل نے سوال کیاکہ حکومت ٹیکسٹائل کی بہتری کی بات کرتی ہے لیکن کراچی میں 1250ایکڑپربنائی جانے والی ٹیکسٹائل سٹی جوکہ تکمیل کے آخری مراحل میں تھی بندکردی گئی جس پروفاقی وزیرپرویزملک نے کہاکہ اس حوالے سے کوئی بھی انفارمیشن نہیں ہے ،ٹیکسٹائل پرحکومت کی جانب سے دیئے جانے والے پیکج پربھی اپوزیشن ممبران کی جانب سے شدیدتنقیدپیکج کے بعدبہت ساری ٹیکسٹائل ملیں بندہوگئی ہیں ۔پرویزملک نے کہاکہ ٹیکسٹائل کی بہتری کیلئے 14ارب روپے کاپیکج دیاگیاتھاجس میں سے 9ارب روپے کی رقم تقسیم کردی گئی تھی اورمزید5ارب روپے بھی تقسیم کئے جائیں گے تاکہ انڈسٹری کی بحالی ممکن ہوسکے ۔ایکسپورٹ سے قیمتیں نہیں بڑھتی ہیں کچھ ممالک میں گوشت ایکسپورٹ کیاجارہاہے جس کے مثبت نتائج حاصل ہورہے ہیں ،پوری دنیامیں ٹریڈافسران موجودنہیں ہے ،صرف 50ممالک ایسے ہیں جن میں ٹریڈافسران میں بیرون ممالک میں کام کرنے والے ٹریڈافسران کوٹریننگ کے بعدبھیجاجاتاہے ۔انہوں نے کہاکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اورتنگ سطح پرپہنچ چکاہے۔وفاقی وزیربرائے قانون انصاف زاہدحامدنے ایوان کوبتایاکہ اوورسیزپاکتسانیوں کیلئے اقدامات وزارت خارجہ کی پہلی ترجیح ہے ،بیرون ملک پھنسے ہوئے پاکستانیوں کونکالنے میں سب سے بڑامسئلہ وہاں کے ممالک کے قوانین کوفالوکرتے ہوئے قانونی کارروائی کرنے اورقوانین کے مطابق ان لوگوں کوواپس لاناہے ۔ممبرقومی اسمبلی مرادسعیدنے کہاکہ ایوان میں سوالوں کے غلط جوابات دینے کی کوئی سزاہے اگرہے توپھراوورسیزپاکستانی وزارت کوسزادی جائے کیونکہ سوال کیاتھاکہ باہرممالک میں کتنے پاکستانی جیلوں میں ہیں اورجواب آیاکہ کوئی بھی پاکستان میں قیدنہیں ہے ،ڈیٹاموجودہے 7000بندے پاکستانی جیلوں میں موجودہیں اس حوالے سے وزارت کی کارکردگی پرسوالیہ نشان لگ جاتاہے جس پرسپیکرقومی اسمبلی نے وزارت کواحکامات جاری کئے کہ اس حوالے سے ڈیٹاکاجائزہ لیکرجوبھی جواب ہے وہ جمع کرایاجائے ۔ایران میں 25قیدی ہیں جوکہ ڈرگ ٹریفکنگ ،ڈکیتی اورقتل میں ملوث ہیں ۔وفاقی وزیربرائے سیفران عبدالقادربلوچ نے ایوان کوبتایاکہ فاٹاکی7ایجنسیاں اور6ایف آرزکیلئے پی ایس ڈی پی میں 24010ملین روپے مختص کئے گئے ہیں جس میں سے 20فیصد4802ملین پہلی سہ ماہی میں جاری کردیئے گئے ہیں ،جس میں سے 549ملین فاٹاڈویلپمنٹ اتھارٹی کودیئے گئے ہیں ،فاٹامیں یونین سیٹوں کی کنسٹرکشن کاکام جلدمکمل کرلیاجائیگا۔ڈاکٹردرشن ملک میں وومن کرکٹ میں حصہ لینے والی بچیوں کی تعدادبہت ہے جس کی وجہ سے کارکردگی میں کوئی خاطرخواہ اضافہ نہیں ہورہا،ٹیم کی بہتری کیلئے غیرملکی کوچ لائے جائیں تاکہ کسی کوسوال اٹھانے کاموقع نہ ملے بیرون ملک کھلینے والی تمام وومن کھلاڑیوں کوتحفظ فراہم کیاجاتاہے اورابھی تک کسی کھلاڑی سے کوئی شکایت نہیں ملی۔دریں اثناء ممبر قومی اسمبلی چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ میانمار میں مسلمانوں پر مظالم کیخلاف تحریک التواء کی بجائے اس مسئلے پر بحث کی جائے تاکہ اسمبلی اپنی تجاویز پیش کر سکے اور اس پر عمل درآمد بھی ہو سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی اتحادی جماعت جے یو آئی کی رکن ممبر قومی اسمبلی نعیمہ کشور کی جانب سے پی شکی جانیوالی تحریک التواء پر نقطہ اعتراض پر جواب دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر قومی اسمبلی میں تفصیلی بحث کی جائے اور مشترکہ طور پر تجاویز تیار کی جائے تاکہ عملی طور حر حکومت اور اپوزیشن اقدامات اٹھا سکے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام اور ملک بھر میں لائن آف کنٹرول پر شہید ہونے والے افواج پاکستان کے شہداء کے لئے دعائے مغفرت کی گئی جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی صاحبزادہ طارق اللہ نے دعائے مغفرت کرائی۔پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ و اقتصادی امور محمد افضل خان نے وفاقی حسابات برائے مالی سال 2015-16ء اور آڈٹ سال 2016-17ء کو قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ۔

قومی اسمبلی

مزید : صفحہ آخر