حکومت ، میڈیا میں دراڑڈالنے والوں کو سزا دی جائیگی : مریم اورنگزیب

حکومت ، میڈیا میں دراڑڈالنے والوں کو سزا دی جائیگی : مریم اورنگزیب

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے کہا ہے حکومت اور میڈیا کے درمیان دراڑ ڈالنے والے عناصر کیخلاف انکوا ئر ی کا حکم دیدیا، قصورواروں کو سزا دی جائے گی، پرنٹ میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے میرے نام سے منسو ب جعلی خط جاری ہوئے ہیں، اس قسم کے کسی بھی خط سے میرا یا وزارت اطلاعات کا کوئی تعلق نہیں ۔ وزارت اطلاعات کے کہنے پر کوئی قا نو ن نہیں بنایا جا رہا، ایسے ہر ڈرافٹ کو مسترد کرتی ہوں اوراس کی کوئی لیگل حیثیت نہیں ۔ وزارت اطلاعات کا کام میڈیا کو فرائض کی ادائیگی میں آسانیاں فراہم کرنا ہوتا ہے نہ کہ روڑے انکانا۔ گزشتہ روزپارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں انکا مزید کہنا تھا پریس کونسل پاکستان کے آرڈیننس سے متعلق خبریں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں، پرنٹ میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے میرا نام استعمال کر کے تین سے چارجعلی خطوط لکھے گئے ،جن کے ذریعے وزارت کے اندر وزیر کے دفتر کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، متعلقہ ڈائریکٹر کو او ایس ڈی بناتے ہوئے متعلقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو معطل کر نے سمیت معاملے کی تحقیقات کیلئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دیدی ہے ،جس کی انکوائری رپورٹ آنے کے بعد پریس کانفرنس کروں گی۔میڈیا اور صحافیوں کو سہولت فراہم کرنا میری ذمہ داری ہے، اطلاعات تک رسائی کا بل ہماری حکومت نے منظور کرایا، ان کا کہنا تھا پریس کونسل آف پاکستان کی ایک بریفنگ کے دوران انہوں نے اپنی رائے کا اظہا رکرتے ہوئے کہا تھا میڈیا کی سہولت کی خاطر اور وزارت اطلاعات تک براہ راست رابطے کیلئے آڈٹ بیورو آف سرکولیشن ، پریس رجسٹرار اور پریس کونسل آف پاکستان کا انضمام کردیا جائے تاہم ا س حوالے سے کوئی مزید حکم نہیں دیا تھا اور نہ ہی قانون سازی کیلئے کسی آرڈیننس کا مسودہ تیار کیا ، اس حوالے سے وزیر اعظم نے بھی استفسار کیا ہے،میڈیا رپورٹس کے بعد ایک غیر رسمی انکوائری کی گئی جس کے مطابق ایک جونیر آفیسر نے ذاتی حیثیت میں پریس کونسل آف پاکستان کو آرڈیننس کے تیاری کیلئے خطوط لکھے ہیں ، اس دوران متعلقہ آفیسر نے نہ تو ہائیر اتھارٹیز کو مطلع کیا اور نہ ہی قانون سازی یا آرڈیننس کی تیاری کیلئے ضروری مروجہ طریقہ کار اختیار کیا۔ وزارت کی فائلز میں اس حوا لے سے کوئی بھی ریکارڈ موجود نہیں ہے اور میں مجوزہ آرڈیننس سے متعلق میڈیا رپورٹس پڑھ کر حیران ہوگئی حالانکہ کسی بھی قانون سازی کیلئے وزارت قانون سے اجازت لینا پڑتی ہے۔

مریم اورنگزیب

مزید : صفحہ اول