متنازعہ آرڈیننس، اسسٹنٹ ڈائریکٹر انٹرنل پبلسٹی معطل

متنازعہ آرڈیننس، اسسٹنٹ ڈائریکٹر انٹرنل پبلسٹی معطل

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) وزارت اطلاعات و نشریات، قومی ورثہ نے مجوزہ پاکستان پرنٹ میڈیا ریگولیٹری آرڈیننس اتھارٹی ڈرافٹ آرڈیننس 2017ء کے بارے میں وضاحت کی ہے۔ اس حوالے سے سردار محمد نواز سکھیرا کے دستخطوں سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات اور سیکرٹری کے نوٹس میں لایا گیا۔ یہ معاملہ مختلف ٹی وی ٹاک شوز کا بھی موضوع بنا، تاہم نہ تو وزیر مملکت اور نہ ہی سیکرٹری اس حوالے سے کسی تجویز سے آگاہ تھے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال وزارت کے لئے پریشانی کا باعث تھی۔ یہ تاثر قائم ہوا کہ وزارت جیسے موجودہ ریگولیٹری فریم ورک کے تحت پرنٹ میڈیا کے گرد شکنجہ کس رہی ہے۔ یہ حکومت کے آئین کے تحت کئے گئے کمٹمنٹ کے بالکل برعکس ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر یہ اقدامات کئے گئے ہیں۔ یہ احکامات فوری نافذ العمل ہونگے۔ معاملے کی تحقیقات کے لئے ڈائریکٹر جنرل ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ شفقت جلیل کو تحقیقات پر مامور کیا گیاہے، جو حقائق کا پتہ چلائیں گے اور ذمہ داری کا تعین کریں گے۔ وہ تین روز میں رپورٹ پیش کریں گے۔ ڈائریکٹر جنرل انٹرنل پبلسٹی ونگ ناصر جمال کو تاحکم ثانی فوری طور پر او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے اس کے علاوہ طاہر حسین ڈائریکٹر انٹرنل پبلسٹی کو بھی تاحکم ثانی او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر انٹرنل پبلسٹی ونگ سعداللہ مہر کو فوری طور پر تاحکم ثانی معطل کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ ملنے کے بعد مزید ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

افسر معطل

مزید : صفحہ اول