سی پیک منصوبہ کے منفی نتائج کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا : افضل شاہ خاموش

سی پیک منصوبہ کے منفی نتائج کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا : افضل شاہ ...

چارسدہ (بیورو رپورٹ) مزدو کسان پارٹی کے مرکزی صدر افضل شاہ خاموش نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبہ کے منفی نتائج کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ امریکہ اور روس نے خطے کو بارود کا ڈھیر بنا کر پاکستان کے قدرتی وسائل پر قبضے کی ناکام کو شش کی مگر چین کو سی پیک منصوبہ کے آڑ میں قدرتی وسائل اور معدنیات طشتری میں پیش کئے جا رہے ہیں۔ مذہب کو سیاست سے ختم کئے بغیر جمہوریت پروان نہیں چڑھ سکتی ۔ وہ چارسدہ پریس چیمبر میں "میٹ دی پریس " پرو گرام میں اظہار خیال کر رہے تھے ۔ افضل خاموش نے کہاکہ جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کی موجودگی میں جمہوری نظام سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا ۔ قائد اعظم محمد علی جناح سیکولر سوچ کے مالک تھے ۔ تقسیم برصغیر کے مخالف قوتیں قیام پاکستان کو اسلام اور مذہب سے جوڑ رہے ہیں مگر دوسری طرف وطن عزیز میں انگریز کے قانون کی تابعداری بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملا او ر جاگیر دار نے مل جل کر قوم کو تعلیم اور ترقی سے محروم رکھا ۔ بھارت ترقی کے منازل طے کر کے بام عروج پر ہے اور دنیا کو جدید سافٹ وےئر سپلائی کر رہا ہے جبکہ دنیا کی طرف سے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگ رہے ہیں۔ بھارت میں ریاستی ادارے ، حکومت اور عوام کو جوابدہ ہو تے ہیں جبکہ پاکستان میں حکومت اداروں کو جوابدہ ہو تی ہے ۔لیاقت علی خان کے قتل کے بعد ملٹری بیوروکریسی نے سول بیورو کریسی سے اختیارا ت چھین لئے ہیں ۔ پاکستان کے منتخب وزیر اعظم کے پاس اتنا اختیار بھی نہیں کہ وہ فوج کے بجٹ کاآڈٹ کرائے ۔ انہوں نے کہاکہ قومی خزانے کو ہڑپ کرنے کیلئے مقتدر قوتیں آئے روز نت نئے ایشوز پیدا کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت روز اول سے آزاد کشمیر میں نام و نہاد انتخابات کے ذریعے اپنے مرضی کے لوگوں کو اقتدار میں لا رہی ہے ۔ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے لوگ پاکستان اور نہ بھارت سے الحاق چاہتے ہیں ۔بھارت اور پاکستان کشمیر ایشو پر آپس میں بے جا لڑ نا چھوڑ دے اور آزاد و مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اپنا فیصلہ خود کرنے دیں ۔ افضل شاہ خاموش نے کہا کہ سی پیک منصوبہ کے حوالے سے پاکستان میں خوشی کے شادیانے بج رہے ہیں مگر سی پیک کے منفی اثرات اور نتائج کو کسی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ روس اور امریکہ نے پاکستان کے قدرتی وسائل پر قبضہ کیلئے خطے کو بارود کا ڈھیر بنا دیا مگر کامیاب نہ سکے مگر چین کو سی پیک منصوبہ کے آڑ میں قدرتی وسائل اور معدنیات طشتری میں پیش کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بے شک سی پیک سے سڑکیں ، پل اور کارخانے لگ جائینگے مگر افرادی قوت چین سے آئیگی جس سے پاکستان کے انجینئر سے لیکر مزدور تک سب بے روزگار ہو نگے ۔انہوں نے کہاکہ جب تک مذہب کو سیاست سے علیحدہ نہیں کیا جاتا اورپارلیمنٹ کے در وازے جاگیر داروں اور سر مایہ داروں پر بند نہیں کئے جاتے پاکستان کے 95فی صد لوگ جمہوریت کے ثمرات سے مستفید نہیں ہو سکتے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر