فاٹا ارکان پارلیمنٹ نے رواج ایکٹ مسترد کر دیا،ایک ماہ میں متفقہ نظام دیں:عبدالقادر بلوچ

فاٹا ارکان پارلیمنٹ نے رواج ایکٹ مسترد کر دیا،ایک ماہ میں متفقہ نظام ...

اسلام آباد( آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران کے اجلاس میں فاٹا ارکان پارلیمنٹ نے رواج ایکٹ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے ارکان پارلیمنٹ کو پیشکش کی ہے کہ ایک ماہ کے اندر متفقہ طورپر نظام دیا جائے تاکہ فاٹا میں اسے نافذ کیا جائے۔ اگر فاٹاکے عوام کو رواج ایکٹ منظور نہیں تو حکومت زبردستی نہیں کرے گی۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران کا اجلاس چیئرمین جمال الدین کی زیر صدارت ہوا۔ارکان کمیٹی نے فاٹا اصلاحات کے حوالے سے رواج ایکٹ کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ رواج ایکٹ پر انتہائی سوچ سمجھ سے کام کرنے کی ضرورت ہے ہے، یہ قبائلی عوام کے مستقبل کا سوال ہے، آج فاٹا کے لئے اگر اصلاحات لائی جا رہیں ہیں تو وہ مکمل طور پر کیوں نہ لائی جائیں ، رواج ایکٹ ہماری نظر میں ایف سی آر کی دوسری شکل ہے، جب تک ہمیں مکمل طور پر مطمئن نہیں کیا جاتا رواج ایکٹ منظور نہیں ،حکومت کی جانب سے فاٹا کے اٹھائے گئے تمام تر اقدامات کی عزت کرتا ہوں ، عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ اگر فاٹا ارکان پارلیمنٹ کو رواج ایکٹ پر اعتراض ہے تو لکھ کر دے دیں، فاٹا ارکان پارلیمنٹ ایک ماہ میں اکثریت سے ایک نظام طے کرکے حکومت کو پیش کرلیں ،آپ لوگوں کی متفقہ نظام کو لاگو کیا جائے گا، فاٹا ارکان پارلیمنٹ متفقہ نظام پر دستخط لکھ کردے دیں ، عمل درآمد ہم کرائیں گے، گزشتہ روز وزیر اعظم کی صدارت میں ہونے والے اس بات پر اتفاق ہوا کہ فاٹا ریفارمز پرمزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے ، اجلاس میں ایف سی آر کے فوری خاتمے کا فیصلہ بھی کیا گیا ، عبد القادر بلوچ نے کہا کہ فاٹا کے عوام کے پاس انصاف سے متعلق دو آپشن ہوں گے، قبائلی عوام بیک وقت رواج ایکٹ اور پی پی سی کو آپس کے معاملات حل کرنے کے لئے استعمال کر سکیں گے، انہوں نے کہا کہ جب تک فاٹا خیبر پختونخواہ میں ضم نہیں ہوتا اس وقت تک قبائلی عوام کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں جانے کی اجازت ہوگی ، اور جب فاٹا مکمل طور پر خیبر پختونخواہ میں ضم ہو جائے تو اس کے بعد پشاور ہائی کورٹ سے مستفید ہوسکیں گے۔ عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ وزیر اعظم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں فاٹا اصلاحات سے متعلق ایڈوائزری کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کا فیصلہ گورنر خیبر پختونخواہ کے لئے ماننا ضروری ہوگا، فاٹا میں رائج ٹیکس نظام کا خاتمے کیا جائے گا، اعلی سطح کے اجلاس میں فاٹا ریفارمز کے لئے سی ای او تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ہے، سی ای او فاٹا ریفارمز پر عمل درآمد کا ذمہ دار ہوگا، سی ای او کے تحت ریسرچ اور عمل درآمد سیل کام کریں گے، فاٹا کی ترقی کے لئے سالانہ 10 ارب روپے دیے جائیں گے، جبکہ تعلیم اور دیگر شعبوں میں فاٹا کا کوٹہ ڈبل کردیاجائے گا،بعض فاٹا ارکان پارلیمنٹ نے رواج ایکٹ پر اعتراض کیا اور کہا کہ فاٹا کو خیبر پختونخواء میں ضم کیا جائے جبکہ بعض ارکان کا کہنا تھا کہ فاٹا کو فوری طور پر خیبر پختونخوائمیں ضم کرنے سے فاٹا کے لئے شروع ہونے والے ترقیاتی منصوبے بری طرح متاثر ہوں گے۔ فاٹا ریفامز اور رواج ایکٹ پر حتمی مشاورت کے لئے کمیٹی اجلاس آج تک ملتوی کردیا گیا۔

فاٹا

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر