سعودی وزارت دفاع کے ہیڈ کوارٹر پر حملے کا منصوبہ ناکام،دو ملزمان گرفتار

سعودی وزارت دفاع کے ہیڈ کوارٹر پر حملے کا منصوبہ ناکام،دو ملزمان گرفتار
سعودی وزارت دفاع کے ہیڈ کوارٹر پر حملے کا منصوبہ ناکام،دو ملزمان گرفتار

  

ریاض (صباح نیوز)سعودی عرب میں حکام نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے وزارت دفاع کے ہیڈ کوارٹر پر مبینہ خودکش حملے کا منصوبہ ناکام بنانے کا دعوی کیا ہے۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد دارالحکومت ریاض میں وزارتِ دفاع کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ حکام کے مطابق خود کش حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث 2یمنی افراد اور 2سعودی شہریوں کو حراست میں لیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں مقیم یہ دونوں یمنی شہری مبینہ طور پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے رکن ہیں۔

دنیا بھر میں موجود 64 لاکھ مہاجر بچوں میں سے نصف سے زیادہ کو بنیادی تعلیمی سہولیات میسر نہیں‘ گذشتہ سال کے دوران 5 سے 17 سال کے درمیان عمر کے 35 لاکھ مہاجر بچے ایک دن بھی سکول نہیں جا سکے‘ اقوام متحدہ

حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دارالحکومت ریاض میں وزارتِ دفاع کی 2عمارتوں پر خودکش جیکٹوں کی مدد سے 2حملوں کے منصوبے ناکام بنائے گئے ہیں۔ گرفتار کیے گئے افراد سے قبضے سے ہینڈ گرنیڈ اور دیگر اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب کی کمان میں یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف جنگ جاری ہے۔حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے دونوں یمنی شہری ملک میں جعلی ناموں کے ساتھ مقیم تھے۔ اس حوالے سے 2سعودی شہریوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد کسی دوسرے ملک کی ایما پر سعودی عرب میں خود کش حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔یاد رہے کہ ماضی میں دولتِ اسلامیہ نے سعودی عرب میں بم حملے کیے ہیں جن میں سیکیورٹی حکام اور شیعہ اقلیت کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ دولتِ اسلامیہ نے کئی مرتبہ سعودی حکومت کے مغربی ممالک سے تعلقات پر تنقید کی ہے۔

مزید : عرب دنیا