”چند سالوں بعد جب میں اپنے گھر والوں کیساتھ بیٹھوں گا تو۔۔۔“ فاف ڈوپلیسی نے پاکستان میں کرکٹ کھیلنے سے متعلق ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ کو بھی ان کی سوچ پر بے حد فخر ہو گا

”چند سالوں بعد جب میں اپنے گھر والوں کیساتھ بیٹھوں گا تو۔۔۔“ فاف ڈوپلیسی نے ...
”چند سالوں بعد جب میں اپنے گھر والوں کیساتھ بیٹھوں گا تو۔۔۔“ فاف ڈوپلیسی نے پاکستان میں کرکٹ کھیلنے سے متعلق ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ کو بھی ان کی سوچ پر بے حد فخر ہو گا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ورلڈ الیون نے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ پر چھائے نحوست کے بادلوں کا خاتمہ کر دیا ہے اور آج پاکستان کرکٹ ٹیم اور ورلڈ الیون پہلے میچ میں قذافی سٹیڈیم میں آمنے سامنے ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان پہلا میچ آج کتنے بجے شروع ہو گا اور کن ممالک میں کون کونسے چینل پر دکھایا جائے گا؟ صحیح وقت اور معلومات جانئے

ورلڈ الیون کی قیادت جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم کے کپتان فاف ڈوپلیسی کر رہے ہیں جنہوں نے اپنے قابل قدر بیانات سے پاکستانیوں کے دل جیت لئے ہیں۔ انہوں نے پاکستان آمد سے پہلے اور لاہور آمد کے بعد چند ایسے بیانات جاری کئے ہیں کہ پاکستانیوں کے دل میں ان کی عزت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔

اور اب ان کا ایک اور بیان سامنے آ گیا ہے جو ان کی اعلیٰ سوچ کی بہترین عکاسی کرتا ہے اور اس پر ان کے ہم وطنوں کے علاوہ پاکستانی بھی بے حد فخر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ”چند سالوں کے بعد جب میں اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھوں گا، تو پاکستان آمد اور بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی میں مدد ہی ایسی چیز ہو گی جس پر میں فخر محسوس کروں گا۔“

ان کے اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ انتہائی زبردست کرکٹر ہی نہیں بلکہ انتہائی اچھے انسان بھی ہیں جنہیں اس بات پر فخر ہے کہ وہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔”پچھلے 24 گھنٹوں سے ایسا لگ رہا ہے جیسے۔۔۔“ ورلڈ الیون کے کپتان فاف ڈوپلیسی کی تو ”دنیا“ ہی بدل گئی، پاکستان آ کر انہیں کیسا محسوس ہو رہا ہے؟ جواب جان کر آپ کیلئے ہنسی روکنا مشکل ہو جائے گا

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل جب انہیں سیکیورٹی خدشات سے متعلق بتا کر ڈرانے کی کوشش کی گئی اور ناکامی پر کہا گیا کہ وہ صرف پیسوں کی خاطر پاکستان جا رہے ہیں تو انہوں نے ناقدین کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پاکستان میں سیکیورٹی حالات بہتر نہ ہوتے تو پیسوں کی ڈھیر بھی انہیں وہاں جانے پر رضامند نہیں کر سکتا تھا۔

مزید : کھیل