فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 209

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 209
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 209

  

دوسرے دن ’’کنیز‘‘ کے سیٹ پر پہلی شوٹنگ تھی۔ یہ وحید مراد‘ صبیحہ خانم کے گھر کا سیٹ تھا۔ صبیحہ ایک غریب اور بے سہارا عورت ہیں۔ محنت مزدوری کر کے اپنے بیٹے کو تعلیم دلا رہی ہیں۔ اس روز زیبا کو ذرا دیر سے سیٹ پر آنا تھا اس لئے طارق صاحب نے وحید مراد‘ صبیحہ خانم اور محمد علی کے چند سین فلمانے کا پروگرام بنایا تھا۔ منظر یہ تھا کہ وحید مراد کمرے میں کھڑے شیو بنا رہے ہیں کہ باہر سے کار کے ہارن کی آواز آتی ہے اور وہ چہرے پر لگا ہوا صابن کا جھاگ تولیے سے پونچھتے ہوئے دروازے کی طرف جاتے ہیں۔ باہر محمد علی اپنی کار میں بیٹھے مسلسل ہارن بجا رہے ہیں۔ وحید کو دیکھ کر شور مچاتے ہیں ’’ اتنی دیر ہوگئی اور تم تیار نہیں ہوئے۔ ‘‘

وحید مراد اُن سے کہتے ہیں ’’ تم اندر تو آؤ۔ امّی نے بہت اچھّی چائے بنائی ہے۔ میں اتنی دیر میں تیار ہو کر آتا ہوں۔‘‘ محمد علی کار سے باہر نکلتے ہیں۔ گھر میں داخل ہو کر صبیحہ خانم کو سلام کرتے ہیں۔ وہ انہیں دعائیں دیتی ہیں۔ اس سین میں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ محمد علی اور وحید مراد کلاس فیلو ہیں۔ بہت گہرے اور بے تکلف دوست ہیں اور محمد علی کبھی کبھی وحیدمراد کے گھر آتے رہتے ہیں جہاں صبیحہ خانم ان سے بے حد پیار اور شفقت آمیز سلوک کرتی ہیں۔ محمد علی ایک دولت مند جاگیردار (طالش) کے بے حد لاڈلے پوتے ہیں اور درحقیقت صبیحہ ہی کے بیٹے ہیں جنہیں بچپن ہی میں دادا نے چھین لیا تھا مگر اس حقیقت کا ان میں سے کسی کو علم نہیں ہے۔ وہ تعلیم کی غرض سے اس شہر میں آئے ہیں اور ایک شاندار کوٹھی میں رہتے ہیں۔ ایک مالدار جاگیردار ہونے کی حیثیت سے کار‘ ملازم‘ شاندار فرنیچر سبھی کچھ موجود ہے۔ نوّ ابانہ مزاج رکھنے کے باوجود ان کی وحید سے دانت کاٹی دوستی ہے۔ زیبا بھی ان دونوں کی کلاس فیلو ہیں اور شہر کے ایک خوش حال اور اعلیٰ خاندانی شخص کی اکلوتی بیٹی ہیں۔ اگرچہ ان تینوں میں گہری دوستی ہے اور وہ عموماً اکٹّھے نظر آتے ہیں لیکن محمدعلی یہ نہیں جانتے کہ زیبا اور وحیدمراد ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ وحید کی ماں کی حیثیت سے صبیحہ خانم بھی اس سے لاعلم ہیں۔ ان کے گھر میں زیبا بھی آتی رہتی ہیں اور ان سے بہت بے تکلف ہیں۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 208 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

گزشتہ روز رات گئے تک اس سیٹ کی تیاری ہوتی رہی تھی۔ تمام ضروری گھریلو سامان سجا دیا گیا تھا اور ہم مطمئن ہو کر دفتر میں بیٹھے تھے۔ شوٹنگ شروع ہونے پر ہمارا کام ختم ہو چکا تھا اور اب طارق صاحب کی باری تھی۔ وہ صبح سویرے ہی سے سیٹ پر موجود تھے اور فلم بندی کے انتظامات کر رہے تھے۔ صبیحہ خانم سیٹ پر پہنچ چکی تھیں۔ وحیدمراد اپنا لباس تبدیل کرنے کے بعد سادہ سوتی کرتہ اور تنگ موری کا پاجامہ پہن چکے تھے اور ہمارے ساتھ بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ ’’علی صاحب ابھی تک نہیں آ ئے؟‘‘ انہوں نے ہم سے پوچھا۔

’’فی الحال آپ کا اور صبیحہ بھابھی کا کام ہے۔ وہ کچھ دیر بعد آئیں گے۔‘‘

وحیدمراد نے چائے ختم کرنے کے بعد پیالی میز پر رکھی۔ کرسی پر پڑا ہوا تولیہ اٹھا کر اپنے کندھے پر ڈالا اور ہم سے پوچھا۔

’’اس لباس میں کیسا لگ رہا ہوں؟‘‘

’’بہت اچھّے‘‘ ہم نے جواب دیا۔ ’’مگر اب آپ سیٹ پر تشریف لے جائیں۔‘‘

وہ ہنستے ہوئے رخصت ہوگئے۔ ہم بھی اُٹھ کر سیٹ پر جانے کا ارادہ کر رہے تھے کہ وحید مراد دوبارہ ہنستے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔

ہم نے انہیں حیرت سے دیکھا ’’سیٹ پر نہیں گئے؟‘‘

بولے ’’آپ نے گیٹ پر جو چوکیدار بٹھایا ہے وہ مجھے اندر نہیں جانے دیتا۔‘‘

ہم سمجھے کہ مذاق کر رہے ہیں مگر انہوں نے بتایا کہ واقعی چوکیدار انہیں شوٹنگ دیکھنے کا شوقین سمجھ رہا ہے اس لئے سیٹ پر جانے کی اجازت نہیں دے رہا۔

ہم نے کہا ’’وہ آپ کو پہچانتا نہیں ہوگا۔ آپ نے بتایا کیوں نہیں کہ آپ کون ہیں؟‘‘

کہنے لگے ’’میں نے تو اس سے کہا تھا کہ بھئی ہم اس فلم کے ہیرو ہیں مگر اس نے کہا ’’جاؤ بھائی‘ اپنا کام کرو۔ یہاں ایسے ہیرو بہت آتے ہیں‘‘ میں نے کہا کہ اندر سے طارق صاحب یا یونٹ کے کسی آدمی کو بلا دو تو وہ ناراض ہوگیا اور کہا ’’جاؤ بھائی ہمارا مغز مت کھاؤ۔ ہم کسی کا نوکر نہیں ہے کہ تمہارے لئے ڈائریکٹر کو بلاتا پھرے۔‘‘یہ قصّہ سنا کر انہوں نے کہا ’’اس کے بعد میں واپس نہ آتا تو اور کیا کرتا۔ اب آپ میرے ساتھ چل کر چوکیدار سے سفارش کر دیں۔‘‘

ہم نے وحید مراد پر ایک نگاہ ڈالی۔ وہ سادہ سا سفید کرتہ پاجامہ پہنے ہوئے تھے۔ پیروں میں ربڑ کی ہوائی چپل تھی۔ کندھے پر ایک چھوٹا سا تولیہ پڑا ہوا تھا۔ دیکھنے میں وہ ایک معمولی سے عام لڑکے نظر آ رہے تھے۔ اس وقت تک لوگ وحید مراد کے چہرے سے مانوس نہیں ہوئے تھے اس لئے اگر چوکیدار دھوکا کھا گیا تو حیرت کی بات نہ تھی۔

ہم نے کہا ’’چوکیدار بھی ٹھیک ہی کہہ رہا ہے۔ آپ ہیرو تو نظر نہیں آتے۔‘‘

’’اچھّا آپ بھی یہی کہہ رہے ہیں؟‘‘ انہوں نے شکوہ کیا۔ ہم نے کہا ’’مگر ہو بہو ہماری فلم کا کردار لگ رہے ہیں اور یہی کسی اداکار کا کمال ہے کہ وہ اپنے کردار کے روپ میں ڈھل جائے۔‘‘

’’اس کا مطلب یہ ہے کہ میں امتحان میں پاس ہوگیا؟‘‘ وہ ہمارے ساتھ چلتے ہوئے بولے۔

سیٹ سٹوڈیو کے دوسرے کنارے پر تھا۔ ہم دونوں دروازے پر پہنچے تو سیٹنگ والے نے جو دروازے پر متعین تھا بڑے زور و شور سے سلام کیا۔

ہم نے پوچھا ’’تم نے ہمارے ہیرو صاحب کو سیٹ پر جانے سے کیوں روک دیا؟‘‘

وہ پریشان سا ہوگیا ’’میں نے تو نہیں روکا سر‘‘

وحید مراد مذاق کے موڈ میں تھے بولے ’’یار‘ جھوٹ کیوں بول رہے ہو۔ روکا تو تھا۔‘‘

سیٹنگ والے نے انہیں غور سے دیکھا اور بولا ’’اوئے‘ تم پھر آگئے ہو؟‘‘

ہم نے کہا ’’تمیز سے بات کرو‘ یہ وحید مراد صاحب ہیں۔ ہماری فلم کے نئے ہیرو‘ کراچی سے آئے ہیں۔‘‘

’’جی!‘‘ حیرت سے اس کی آنکھیں پھٹ گئیں ’’سرجی‘ معاف کر دیں میں آپ کو پہچانا نہیں تھا۔‘‘

’’کوئی بات نہیں‘‘ وحیدمراد نے مسکرا کر کہا ’’اب تو اندر جانے کی اجازت ہے نا؟‘‘

’’کیوں شرمندہ کرتے ہیں جناب!‘‘ وہ واقعی شرمندہ نظر آنے لگا۔

ہم نے کہا ’’انہیں اچھی طرح پہچان لو اور دوسرے لوگوں کو بھی بتا دو۔‘‘

’’فکر ہی نہ کریں سر۔ آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی۔ ’’پھر وہ وحید مراد سے مخاطب ہو کر بولا ’’غلطی ہوگئی سر‘ مجھے معاف کر دیں۔‘‘

وحید مراد نے اس کے کندھے پر تھپکی دی اور کہا ’’شروع شروع میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ تمہارا قصور نہیں ہے۔‘‘

وحید مراد کا یہ واقعہ ہمیں آج بھی روز اوّل کی طرح یاد ہے اور ان کا یہ فقرہ کہ ’’شروع شروع میں ایسا ہی ہوتا ہے‘‘ اس وقت بھی ہمارے کانوں میں گونج رہا ہے۔ یہ واقعہ ہم نے کسی مبالغے کے بغیر بیان کیا ہے اور بعد میں جب زیبا اور دوسرے لوگوں کو سنایا تو سب کا ہنستے ہنستے بُراحال ہوگیا۔ زیبا کو تو وحید پر ہوٹنگ کرنے کا ایک اچھا بہانہ ہاتھ آگیا۔ کون جانتا تھا کہ یہ سانولا سلونا نوجوان فلمی دنیا میں ایک دن اتنی شہرت اور مقبولیت حاصل کرے گا کہ پاکستان کا بچہ بچہ اس کا صورت شناسا ہو جائے گا۔ وہ پاکستان کا سب سے مقبول رومانٹنگ ہیرو اور بہت بڑا فلم ساز بن جائے گا۔ نئی نسل کے نوجوان اس کے لباس‘ چال ڈھال‘ انداز گفتگو اور بالوں کے سٹائل کی نقل کیا کریں گے اور وہ سُپرسٹار کی حیثیت اختیار کرنے کے بعد فلم بینوں کے دلوں میں ایک مستقل جگہ حاصل کر لے گا۔

وحید مراد‘ محمد علی اور زیبا اس زمانے میں شہرت اور عظمت کی دہلیز پر کھڑے اندر داخل ہونے کے لئے دروازہ کھٹ کھٹا رہے تھے۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب اسی ایورنیو سٹوڈیوز میں ان تینوں کے نام کا ڈنکا بج رہا تھا اور جدھر سے وہ گزر جاتے تھے ہر ایک ان کی راہ میں آنکھیں بچھاتا تھا۔ ان تینوں نے صحیح معنوں میں پاکستان کی فلمی دنیا پر سالہا سال تک راج کیا اور ایسے نقش چھوڑ گئے جو آج بھی تابندہ ہیں۔

پہلے دن شوٹنگ بڑے اطمینان اور سکون کے ساتھ شروع ہوئی۔ محمد علی کو دوپہر کے بعد آنا تھا اسلئے طارق صاحب نے ماں بیٹوں صبیحہ خانم اور وحید مراد کے سین فلمانے شروع کر دیئے۔ صبیحہ بھابی وحید مراد سے بے تکلف تھیں۔ وہ ان کی فلم میں کام کرنے کے علاوہ ویسے بھی اس گھرانے سے بہت مانوس تھے۔ صبیحہ بھابی وحید کو بیٹا ہی خیال کرتی تھیں۔ وحید مراد کو فلم کی کہانی کا علم تھا اور اپنے اور محمد علی کے کرداروں کی گہرائی اور اہمیت سے بھی بخوبی واقف تھے۔

براہ راست ان دونوں میں کوئی کشمکش اور مقابلہ آرائی نہ تھی مگر فن کارانہ چپقلش بہرحال موجود تھی۔ دونوں کو احساس تھا کہ وہ ایک اچھّی کہانی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور فلم دیکھنے والے ان دونوں کی اداکاری کا موازنہ کریں گے۔ دونوں فلمی صنعت میں نووارد تھے اور اعلیٰ ترین مقام حاصل کرنے کے خواہاں۔ محمد علی خواہ وحید مراد کے بارے میں زیبا کے ستانے پر کسی بھی رائے کا اظہار کرتے ہوں‘ اپنے دل کی گہرائیوں میں وہ وحید کی صلاحیتوں کے معترف تھے اور چند سال بعد کھلم کھلا بھی اپنے ان خیالات کا اظہار کرنے لگے تھے۔ انہوں نے وحید مراد کی ہر فلم دیکھی تھی اور وحید کو فن کارانہ کسوٹی پر پرکھا تھا۔ دوسری جانب محمد علی کے بارے میں عام تاثر ولن کا ضرور تھا مگر وحید ایک پڑھے لکھے‘ ذہین اور فہمیدہ انسان تھے۔ محمد علی کی اداکاری اور وجاہت سے بھرپور شخصیت کی سحرکاری ان کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں تھی۔ محمد علی کی آواز میں جو گھن گرج تھی اور انہیں مکالموں کی ادائیگی پر جس طرح عبور حاصل تھا وحید اس سے بھی آگاہ تھے۔

’’کنیز‘‘ کی کہانی میں انہیں پہلی بار محمد علی کے ساتھ ایک اہم کردار کرنے کا موقع مل رہا تھا اور وہ اسے ہاتھ سے گنوانا نہیں چاہتے تھے۔ اس زمانے میں اداکار محض شہرت اور دولت ہی کیلئے کام نہیں کرتے تھے وہ فن کارانہ عظمت بھی حاصل کرنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں اگر مقابلہ سخت تھا تو فن کاروں میں عزم و حوصلے کی بھی کمی نہیں تھی۔ ہر کوئی اپنی فن کاری اور انفرادیت کا لوہا منوانا چاہتا تھا۔ ہیروز ہی پر منحصر نہیں‘ ہیروئنوں کی صفوں میں بھی اسی طرح کی کشمکش اور مقابلہ آرائی کا جذبہ کارفرما نظر آتا تھا۔ ہر ہیروئن اپنا مخصوص اور منفرد انداز منوانا چاہتی تھی۔ اگر مسرت نذیر ہیروئن تھیں تو صبیحہ بھی پہلے ہی سکرین کی فرسٹ لیڈی کا لقب حاصل کر چکی تھیں چنانچہ مسرت اس لقب کو چھیننے کیلئے پوری توجہ اور لگن سے کام کر رہی تھیں۔ شمیم آرا‘ دیبا‘ نیّر سلطانہ‘ رانی‘ بہار اپنے اپنے انداز میں اداکاری کا جادو جگا رہی تھیں اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں کھونا چاہتی تھیں۔

یہ وہ ماحول تھا جس میں محمد علی اور وحید مراد نے فلمی دنیا میں آنکھ کھولی تھی اور وہ بیک وقت ان تمام اداکاروں کو چیلنج کرنے کا عزم رکھتے تھے جنہوں نے فلمی صنعت میں مضبوط اور اہم مقام حاصل کر لیا تھا۔ دونوں نے اس فلم کا سکرپٹ بغور پڑھا تھا۔ ہم سے اور طارق صاحب سے کرداروں کی نوعیت‘ عادات و اطوار‘ نفسیات اور پس منظر کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب شوٹنگ میں حصہ لینے کیلئے سیٹ پر آئے تو وہ دونوں اپنے کرداروں سے پوری طرح آگاہ تھے۔ ہر مکالمہ انہیں یاد تھا اور ہر منظر کی ڈرامائی اہمیت ان کے علم میں تھی۔ شوٹنگ کے دوران میں بھی وہ دونوں اپنے کرداروں کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے رہتے تھے اور اداکارانہ چشمک کا مظاہرہ کرنے سے بھی باز نہیں رہتے تھے۔ ان کو ہم نے نکتہ چینی اور اعتراض کرنے کی پوری آزادی دی تھی اور ان کے ہر سوال کا اطمینان بخش جواب دیا تھا۔ پھر بھی اداکار تو اداکار ہی ہوتا ہے۔ ہر اداکار ’’خود غرض‘‘ ہوتا ہے۔ کہانی کے مجموعی تاثّر کے بجائے اسے محض اپنے کردار کی فکر پڑی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اداکار‘ ہدایت کار بنتا ہے تو وہ کہانی اور فلم کے دوسرے کرداروں میں باہمی توازن قائم رکھنے میں کامیاب نہیں رہتا کیونکہ وہ ڈائریکٹر یا کہانی نویس کے ذہن سے نہیں سوچتا بلکہ اداکار بن کر سوچتا ہے۔(جاری ہے)

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 210 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -