’اگر بُدھا آج زندہ ہوتا تو۔۔۔‘ روہنگیا مسلمانوں پر بُدھ شدت پسندوں کی جانب سے بدترین تشدد کے بعد بُدھوں کے سب سے بڑے رہنما دلائی لامہ بھی خاموش نہ رہ سکے، مسلمانوں کے دل کی بات کہہ ڈالی

’اگر بُدھا آج زندہ ہوتا تو۔۔۔‘ روہنگیا مسلمانوں پر بُدھ شدت پسندوں کی جانب ...
’اگر بُدھا آج زندہ ہوتا تو۔۔۔‘ روہنگیا مسلمانوں پر بُدھ شدت پسندوں کی جانب سے بدترین تشدد کے بعد بُدھوں کے سب سے بڑے رہنما دلائی لامہ بھی خاموش نہ رہ سکے، مسلمانوں کے دل کی بات کہہ ڈالی

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) میانمار میں فوج، پولیس اور بدھ دہشت گردوں کے ہاتھوں روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف بدھ مت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ بھی بول پڑے ہیں اور مسلمانوں کے دل کی بات کہہ ڈالی ہے۔ ویب سائٹ channelnewsasia.comکی رپورٹ کے مطابق بھارت میں خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے تبتی بدھوں کے لیڈر دلائی لامہ نے کہا ہے کہ ”آج اگر بدھا زندہ ہوتے تو وہ یقینا روہنگیا مسلمانوں کی مدد کرتے۔ میانمار میں جس طرح روہنگیا مسلمان تشدد سے فرار ہو کر ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں اس صورتحال نے مجھے دکھی کر دیا ہے۔ یہ ہمارے مذہب’بدھ مت‘ کی تعلیمات کے خلاف ہے۔“

’رات کے اندھیرے میں ہم آئی ایس آئی کی اس عمارت میں داخل ہوگئے اور ساتھ ہی۔۔۔‘ بھارتی فوج نے جھوٹ بولنے کا نیا ریکارڈ قائم کردیا، ہنس ہنس کر پاکستانیوں کے پیٹ میں بل پڑگئے

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دلائی لامہ کا مزید کہنا تھا کہ ”وہ لوگ جو مسلمان اقلیت کو ہراساں کر رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ ’بدھا‘ کو یاد کریں اور ان کی تعلیمات پر عمل کریں۔ وہ اگر آج ہوتے تو ان مسلمانوں کی مدد کرتے۔ “ واضح رہے کہ لگ بھگ تین لاکھ روہنگیا مسلمان میانمار فوج، پولیس اور بدھ دہشت گردوں کے مظالم کے باعث اپنا وطن چھوڑ کر بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ میانمار میں روہنگیا مردوخواتین اور بچوں کا بلاتفریق قتل عام کیا جا رہا ہے اور پورے کے پورے دیہات صفحہ¿ ہستی سے مٹائے جا رہے ہیں۔اقوام متحدہ کی طرف سے اس ظلم کو باقاعدہ نسل کشی قرار دیا جا چکا ہے۔

مزید : بین الاقوامی