بگرام جیل میں بے گناہ قید کیے گئے پاکستانی امریکی معاوضے کے منتظر

بگرام جیل میں بے گناہ قید کیے گئے پاکستانی امریکی معاوضے کے منتظر
بگرام جیل میں بے گناہ قید کیے گئے پاکستانی امریکی معاوضے کے منتظر

  

واشنگٹن(این این آئی)بگرام جیل میں بے گناہ قید کیے گئے پاکستانی تاحال امریکی معاوضے کے منتظرہیں مگر صعوبتیں برداشت کرنیوالے پاکستانی افراد سے معاوضے کی ادائیگی کاوعدہ تاحال پورا نہیں کیا گیا۔

غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں کھڑے ہوکر سابق امریکی صدر براک اوباما نے ’گوانتاناموبے‘ جیل کو بند کرنے کا عہد کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ اس جنگ کو بھی دیگر تمام جنگوں کی طرح بالاآخر ختم ہونا ہی ہے۔4 سال بعد ایک اور امریکی صدر نے دنیا سے وعدہ کیا کہ ہم اس جیل کو دوبارہ کھولیں گے اور اس میں ان افراد کو قید کریں گے جو دنیا کو غیر محفوظ کر رہے ہیں۔ جب دنیا کی توجہ اس جیل کی طرف ہوئی جسے چلانے کے لیے سالانہ 445 ملین ڈالر کے اخراجات کیے جاتے ہیں تو افغان صوبے پروان میں امریکا کی ایک اور تاریک جیل بھی سامنے آئی جو بگرام‘ کے نام سے مشہور ہے ۔ اس امریکی جیل میں 3 ہزار افراد قیدوبند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔اس جیل میں امریکی فوج نے ہزاروں افغان شہریوں سمیت تیسری دنیا کے3 ممالک کے 60 باشندوں کو بھی قید میں رکھاہے جن میں سے 45 پاکستانی تھے۔بگرام جیل میں 9 سالہ قید کے دوران عبدالحلیم سیف اللہ کو کئی کئی ہفتوں تک مسلسل ذہنی و جسمانی تشدد سمیت دباؤ، پریشانی اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔

آسٹریلیا , کینگروز کی آبادی زیادہ ہونے کے بعد انھیں کھانے کا مشورہ

بگرام جیل میں پاکستان کے متعدد شہری کسی الزام، وکلاء تک رسائی، اہلخانہ سے روابط اور رہائی کے امکانات کے بغیر قید رہے جبکہ قانونی کارروائیوں سے بچنے کے لیے ان قیدیوں میں سے زیادہ تر کو شہری تسلیم کیے جانے کے بجائے گھوسٹ مانا گیا۔تاہم اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے پاکستانی سفیروں نے 2010 سے قبل اس جیل کا صرف ایک بار دورہ کیا۔واضح رہے کہ ’بگرام‘ جیل کو قانون سے بالائے طاق رکھا گیا جہاں امریکیوں کو دہشت گردی کی کارروائیوں کے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں تھی، انہیں بس افراد چاہیے تھے، وہ دنیا کو دکھانا چاہتے تھے کہ وہ اچھائی کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں، انہوں نے 45 پاکستانیوں سمیت دیگر بیگناہ افراد کو قید کرکے محسوس کیا، جیسے وہ یہ جنگ جیت رہے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی