آئی ایس آئی ہر بار کامیاب رہی، امریکہ کی ایک نہیں چلنے دی: رپورٹ

آئی ایس آئی ہر بار کامیاب رہی، امریکہ کی ایک نہیں چلنے دی: رپورٹ
آئی ایس آئی ہر بار کامیاب رہی، امریکہ کی ایک نہیں چلنے دی: رپورٹ

  

لندن (ویب ڈیسک) مغرب اور امریکہ میں آئی ایس آئی بارے کہا جاتا ہے کہ یہ کسی کے قابو میں نہیں آتی، بڑی طاقتوں کی ایک عجیب خود پسندانہ نفسیات ہوتی ہے، وہ ترقی پذیر ممالک کو یا تو مکمل اپنا باجگزار بناکر رکھنا چاہتی ہیں یا کسی نہ کسی اندازے سے ان کو اپنا محتاج بنا کر رکھنا چاہتی ہیں تاکہ بوقت ضرورت ان کو بلیک میل کرکے یا طاقت کے ذریعے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا جاسکے، سفید چمڑی والے امریکی جوپینٹا گان اور واشنگٹن میں بیٹھ کر دنیا کے امور کو دیکھتے ہیں اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگاچکے ہیں کہ پاکستان کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کریں۔ اس مقصد کی تکمیل میں آئی ایس آئی اور پاکستان آرمی وہ سب سے بڑی رکاوٹ ہیں مثلاً روس افغان جنگ میں امریکہ پاکستان کو افغانستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتا تھا، جواب میں پاکستان میں امریکہ کو ہی روس کے خلاف استعمال کرلیا۔

روزنامہ خبریں نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے حوالے سے لکھا کہ روس افغان جنگ کی آڑ میں آئی ایس آئی نے پاکستان کا جوہری پروگرام مکمل کیا جس پر امریکہ آج تک سرپیٹتا ہے۔ امریکہ افغانستان کے جنگجو سرداروں سے رابطے بڑھا کر مستقبل میں انہیں اپنے لئے استعمال کرنا چاہتا تھا، آئی ایس آئی نے یہ بھی ناکام بنا دیا۔ اپنے زمینی حقائق کے مطابق آئی ایس آئی نے امریکہ کی سیاسی مداخلت کو پاکستان میں کبھی اعلانیہ اور کبھی خفیہ طور پر روکا۔ پاکستان کے مخالفین کیلئے نظریہ پاکستان اس ملک کا بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ یہ نظر یہ پاکستان ہی ہے جس کی وجہ سے پاکستانی نہ صرف ہندوستان بلکہ تمام غیر مسلم اقوام سے جدا ہوکر اپنی الگ انفرادی شناخت بناتے ہیں۔ یہ انفرادی شناخت ایک طرف گلوبل ازم کے خواب دیکھنے والوں کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے تو دوسری طرف بھارت سے  تعلقات کیلئے ایک حد مقرر کرتی ہے۔ اس نظریہ کو مسخ کرنے کیلئے عالمی سطح کی گئی کوششوں کو ہمیشہ سے آئی ایس آئی نے ناکام بنایا۔ امریکہ نے دنیا بھر کی اقوام کو یہ باور کروایا کہ پاکستان افغانستان کے اسلام پسند دہشتگردوں کو مدد دےر ہا ہے۔ آئی ایس آئی نے صرف ایک حرکت کی اور  عالمی سطح پر اس تاثر کو عام کیا کہ گورے جن کو اسلام پسند دہشتگرد کہہ رہے ہیں وہ اپنی آزادی کیلئے لڑرہے ہیں۔ آئی ا یس آئی نے دنیا بھر کو دہشتگردی، انتہا پسندی اور جنگ آزادی کے درمیان واضح فرق بناکر دئیے۔ بالآخر دنیا کو تسلیم کرنا پڑا کہ نہیں بالکل ویسا نہیں جیسا امریکہ بتارہا ہے کچھ پاکستان کی بھی سنو۔

رپورٹ کے مطابق  یہی چال بھارت نے کشمیر کے حریت پسند جنگجوﺅں کے متعلق چلی اور کہا کہ پاکستان جیش محمد اور لشکر طیبہ کے دہشتگردوں کی مدد کرتا ہے۔ یہ آئی ایس آئی تھی جس نے بتایا کشمیر میں لڑنے والے بھارت کی بربریت کی وجہ سے کھڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے متعلق عالمی سطح پر امریکہ اور یورپی یونین کے ممالک نے اتنا شور مچایا کہ گماں ہونے لگا کہ دنیا ایک چلتے ہوئے ٹائم بم کے اوپر رکھی ہے جو کسی بھی وقت پھٹے گا اور دنیا تباہ ہوجائے گی۔ کہا گیا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار عنقریب دہشتگردوں کے قبضے میں چلے جائیں گے اور گورے صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گی۔ یاد رکھئے گا آئی ایس آئی پاکستان کے دفاع کی پہلی اور آخری لائن ہے۔ خدانخواستہ اگر آئی ایس آئی کو درمیان سے ہٹادیا جائے تو نہ آپ کا ایٹم بم محفوظ ہے، نہ آپ کا نظریہ محفوظ رہتا ہے اور نہ ہی آپ کا جغرافیہ اور سرحدی وجود سلامت رہتا ہے۔ آئی ایس آئی پاکستان کے دشمنوں کی جھنجھلاہٹ، گھبراہٹ اور ندامت کی علامت ہے۔ پاکستان کے خلاف حیلے بہانے کرکے نقصان دینے والے عناصر جب اپنے مقاصد میں ناکام ہوئے تو رخ پاکستان سے ہٹاکر آئی ایس آئی کی طرف موڑلیا۔ پاکستان کے ذہین ترین دماغوں اور عالمی منصوبہ سازوں کے درمیان ایک جنگ جو ابھی جاری ہے۔

مزید : برطانیہ