مشرف کی آمریت کو شکست دینے والی ڈاکٹر کلثوم موت سے ہا ر گئیں

12 ستمبر 2018

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف کی اہلیہ ڈاکٹر کلثوم نواز 11ستمبر منگل کے روز لندن کے ہارلے سٹریٹ کلینک میں انتقال کر گئیں ۔ان کی رحلت کی خبر جیسے ہی پاکستان میں پہنچی تو ہر سطح پر افسوس کا اظہار کیا گیا ۔ مرحومہ کے بڑے بیٹے حسین نواز نے اپنی والدہ کے خالق حقیقی سے جا ملنے کی اطلاع سوشل میڈیا پر دی جبکہ مرحومہ کے دیور میاں شہباز شریف نے اپنی بھابھی کے انتقال کی تصدیق کی ، ان کا کہنا تھا کہ بیگم کلثوم کا جسد خاکی جمعرات کو لاہور لایا جائے گا اور ان کی تدفین جمعتہ المبارک 14ستمبر کو جاتی عمرہ رائے ونڈ میں کی جائے گی۔ اگرچہ بیگم کلثوم نواز کی سیاسی زندگی طویل عرصے پر محیط نہیں تاہم میاں محمد نواز شریف کی حکومتوں کی دو بار تحلیل کے دوران ان کی جدوجہد ایک لازوال داستان ہے ۔

کلثوم نواز کی زندگی کے سفرپرنگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے یکم جولائی 1950ء کو اندورن لاہور کے ممتاز کشمیری گھرانے میں حفیظ بٹ کے ہاں آنکھ کھولی۔یہ خاندان پہلوانوں کا گھرانہ بھی کہلاتا ہے اور بیگم کلثوم نواز رستم زماں گاماں پہلوان کی نواسی تھیں جنہوں نے ابتدائی تعلیم مدرستہ البنات ہائی سکول لاہور سے حاصل کی، جبکہ میٹرک لیڈی گریفن اسکول لاہور سے کیا پھر اسلامیہ کالج سے ایف ایس سی اور1970ء میں بی ایس سی کی ڈگری بھی اسی کالج سے حاصل کی۔ ادب سے گہرا لگاؤ ہونے کے باعث انہوں نے 1972ء میں فارمین کرسچین کالج لاہور سے اردو لٹریچر میں بی اے آنرز بھی کیا ۔بعدازاں انہوں نے اردو شاعری میں جامعہ پنجاب سے ایم اے کیا۔ کلثوم نواز نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی تھی۔

2 اپریل 1971ء کو بیگم کلثوم کے ہاتھوں میں مہندی اور نواز شریف کے ماتھے پر سہرا سجا اور دونوں نے زندگی کے نئے سفر کا آغاز کیا۔ نوازشریف اور بیگم کلثوم نواز کے دو بیٹے حسن اور حسین نواز، جبکہ دو بیٹیاں مریم نواز اور اسماء نواز ہیں۔ 6 نومبر 1990ء کو نوازشریف کے پہلی مرتبہ وزیراعظم کا منصب سنبھالنے پر بیگم کلثوم نواز کو خاتون اول بننے کا اعزاز حاصل ہوا، جو 18 جولائی 1993ء تک برقرار رہا۔ وہ 17 فروری 1997ء کو دوسری مرتبہ خاتون اول بنیں۔ 12 اکتوبر 1999ء کو سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم نواز شریف حکومت کا کا تختہ الٹ دیا اور انہیں جیل بھیج دیا گیا۔

نواز شریف سے عہدہ چھنا تو جہاں کئی مبینہ جانثار فصلی بٹیروں نے بھی آشیانے بدل لیے وہاں امور خانہ داری نمٹانے والی خاتون بیگم کلثوم نواز کو تنہا اپنے شوہر کے حق میں آواز اٹھانا پڑی۔ انہوں نے نہ صرف شوہر کی رہائی کیلئے عدالت سے رجوع کیا بلکہ مسلم لیگ (ن) کی ڈوبتی کشتی کو بھی سہارا دیا۔ بیگم صاحبہ نے 1999ء میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت سنبھالی، لیگی کارکنوں کو متحرک کیا اور جابر آمر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئیں۔ حکومت کے خاتمے سے پہلے محترمہ سیاست سے الگ تھلگ تھیں تاہم مسلم لیگ کی حکومت ختم ہونے کے بعد وہ سیاسی خلا پر کرنے کی خاطر میدان سیاست میں اتریں اور وہ بھرپور کردار ادا کیا کہ ان کی جدوجہد کے نتیجے میں میاں محمد نواز شریف کے بیرون ملک جانے کا راستہ ہموار ہوا بیگم کلثوم کی جدوجہد نے یہ بھی ثابت کیا کہ اگر وہ کارگزار سیاست میں قدم نہ رکھتیں تو میاں محمد نواز شریف کو سزا سنا دی جاتی جس طرح آج وہ اپنی صاحب زادی مریم نواز کے ساتھ پابند سلاسل ہیں اسی طرز پر 2000ء میں بھی جیل کی ہوا کھانا پڑتی اور وہ سعودی عرب نہ جا سکتے ۔اس وقت کے فوجی حکمرانوں کو یہ محسوس ہو گیا تھا کہ بیگم کلثوم جس شد و مد سے سرگرم ہوئی ہیں ان کی تحریک زور پکڑ سکتی ہے اور فوجی حکومت کے لئے خطرناک بھی ہو سکتی ہے اس لئے انہوں نے میاں نواز شریف کو بیرون ملک بھجوانے میں ہی اپنی سلامتی سمجھی۔ شریف خاندان کے سعودی عرب کے منتقل ہونے کے بعد 2002ء میں محترمہ کلثوم نواز پارٹی قیادت سے الگ ہو گئیں۔ نواز شریف حکومت تحلیل کئے جانے کے بعد محترمہ کو سیاست میں آنے اور تحریک چلانے کی باقاعدہ اجازت بڑے میاں صاحب یعنی میاں محمد شریف نے دی تھی ، جس کے بعد وہ پورے ملک میں متحرک ہو گئیں اور فوجی حکمران نواز شریف کو باہر بھیجنے پر مجبور ہوئے ۔

جون 2013ء میں انہیں تیسری مرتبہ خاتون اول ہونے کا اعزاز حاصل ہوا جو صرف 28 جولائی 2017ء تک ہی قائم رہ سکا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر نوازشریف کو نہ صرف وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ وہ تاحیات نااہل بھی ہو گئے۔ ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری ہوا تو مسلم لیگ (ن) نے نوازشریف کی اہلیہ کو میدان میں اتار دیا۔ بیگم کلثوم نواز علیل ہونے کے باعث 17 اگست کو لندن روانہ ہوئیں جس کے باعث این اے 120 سے انتخابی مہم چلانے کا بیڑہ بیٹی مریم نواز نے اٹھایا۔محترمہ نے صرف اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرائے اور علاج معالجہ کی خاطر لندن چلی گئیں ۔اس نشست پر بیگم کلثوم نواز کا مقابلہ پاکستان تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد سے ہوا اور بیگم کلثوم نواز یہ الیکشن 15ہزار سے زائد ووٹوں سے جیتنے میں کامیاب ہوئیں تاہم وہ بیماری کے باعث پاکستان آسکیں اور نہ حلف اٹھا سکیں۔ سابق وزیرِاعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز طویل علالت کے بعد 68 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مختلف فورسز نے بیگم کلثوم نواز کو یہ ضمنی الیکشن ہروانے کی بہتیری کوشش کی لیکن کامیابی نہ ہوئی ۔اسی حلقے این اے 120میں پی ٹی آئی کی ڈاکٹر یاسمین راشد کو مسلم لیگ ن کے میاں وحید عالم نے 25جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں شکست دی ۔یہ ڈاکٹر یاسمین راشد کی ہار کی ہیٹ ٹرک تھی۔تاہم وہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہو گئیں اور آج کل صوبائی وزیر صحت ہیں ۔

خیال رہے کہ بیگم کلثوم نواز کافی عرصے سے علیل تھیں اور انہیں علاج کے لیے لندن منتقل کیا گیا تھا۔22 اگست 2017ء کو لندن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کے گلے میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔بعد ازاں یکم ستمبر 2017ء کو لندن میں کلثوم نواز کے گلے کی کامیاب سرجری مکمل ہوئی تھی۔جس کے بعد 20 ستمبر کو سابق وزیر اعظم کی اہلیہ کی لندن میں کینسر کے مرض کی تیسری سرجری ہوئی تھی۔اس کے بعد کلثوم نواز کی طبیعت کچھ بہتر ہوئی تھی تاہم رواں سال میں ان کی طبیعت ایک مرتبہ پھر خراب ہوگئی تھی۔رواں سال جون کے مہینے میں کلثوم نواز کو اچانک دل کا دورہ پڑا تھا، جس کے بعد انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا۔سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم بیگم کلثوم نواز کی عیادت کرنے اور ان کے ساتھ عید منانے لندن پہنچے تھے۔ابتدائی طور پر کلثوم نواز کے صاحبزادے حسین نواز نے کہا تھا کہ ان کی والدہ کی طبیعت میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم بعدازاں ان کی حالت پھر سے بگڑ گئی تھی اور وہ وینٹی لیٹر پر ہی زیر علاج تھیں۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان ، افواج پاکستان کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ ، سابق صدر آصف علی زرداری ، پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر ممتازسیاسی و عسکری شخصیات نے بیگم کلثوم نواز کی وفات پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ خاندان سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے مرحومہ کے درجات میں بلندی کی دعا بھی کی ہے۔ سیاسی قائدین نے مرحومہ کی ملک و قوم کے لئے خدمات اور تحریکی سیاست کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین بھی پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ ایک با کردار، باوفا اور مخلص خاتون تھیں جنہوں نے نامساعد حالات میں بھی مسلم لیگ اور اس کے کارکنوں کو سہارا اور حوصلہ دیا ۔ قوم دکھی اور شریف خاندان افسردہ ہے۔

مزیدخبریں