سی پیک کے خلاف پروپیگنڈے سے چوکس رہنے کی ضرورت

سی پیک کے خلاف پروپیگنڈے سے چوکس رہنے کی ضرورت

پاکستان نے چین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ سی پیک منصوبہ ہماری قومی ترجیح ہے، پاکستان اِس منصوبے پر کامیاب عمل درآمد کے لئے پُرعزم ہے، سی پیک کے مستقبل کے حوالے سے پاکستان اور چین کے درمیان مکمل اتفاق رائے ہے، دونوں ممالک کی قیادت نے حالیہ ملاقاتوں میں سی پیک کو تعاون کے نئے شعبوں تک پھیلانے پر اتفاق بھی کیا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سی پیک کے حوالے سے پاکستانی ترجیحات سرفہرست ہوں گی، چین دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی مدد کرتا رہے گا،دونوں ممالک نے دفاعی اور سیکیورٹی تعاون مزید مستحکم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔اسلام آباد میں چینی سفارت خانے نے بھی برطانوی اخبار کی رپورٹ پر نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ناپاک ارادے پر مبنی یہ رپورٹ مسخ شدہ تفصیلات پر مشتمل ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رپورٹ دینے والے شخص نے سی پیک اور پاک چین روایتی پارٹنر شپ کو مکمل طور پر نظر انداز کیاہے، چین اور پاکستان کے درمیان یہ اتفاق پایا جاتا ہے کہ سی پیک باہمی مفاد پر مبنی منصوبہ ہے اور دونوں ممالک اِس منصوبے کو پاکستان کی ضروریات اور پاکستان کی ترقی کے مطابق جاری رکھیں گے۔ برطانوی اخبار ’’ فنانشل ٹائمز‘‘ نے وزیراعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد کے حوالے سے کہا ہے کہ سی پیک کے منصوبوں پر ایک سال کے لئے عملدرآمد روک دینا چاہئے، ایسے معاہدے ازسر نو کئے جائیں گے، جن سے چینی کمپنیوں کو ناجائز فائدہ پہنچ رہا ہے۔ عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ اُن کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔

سی پیک کے آغازہی میں پاکستان میں اس کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی اور اس کے لئے کالا باغ ڈیم کے پیٹرن پر کام شروع کیا گیا تھا ،جو ماہرین کے مطابق تو ہر لحاظ سے قابلِ عمل منصوبہ ہے اور اس پر جو جو اعتراضات تھے وہ بھی دور کر دیئے گئے ہیں، مثال کے طور پر ڈیم کی اونچائی کم کر دی گئی تھی پھر ماہرین اس سے متفق تھے کہ صوبہ خیبرپختونخوا کو اس کے پانی کا جو حصہ دریائے سندھ سے ملنا تھا وہ اسی صورت استعمال ہو سکتا تھا جب کالا باغ ڈیم بنے اور اس میں سے نہریں نکالی جائیں،لیکن اسے اِس حد تک متنازعہ بنا دیا گیا کہ کے پی کے اپنے اس مفاد سے بھی صرفِ نظر کرنے لگا اور اب ڈیموں کی تعمیر کے جوش و غلغلے میں بھی کوئی بھول کر اِس ڈیم کا نام نہیں لیتا،حالانکہ اب بھی یہ ڈیم سب سے پہلے مکمل ہو سکتا ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم اگر آج شروع ہو جائے تو بھی اسے مکمل ہونے میں کم و بیش دس سال لگیں گے۔

سی پیک کو بھی اسی طرح متنازعہ بنانے کے لئے پورے جوش و خروش سے کام شروع کیا گیا تھا، کبھی اس کے ایک روٹ پر اعتراض ہوتا تھا اور کبھی دوسرے پر، کبھی ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کو اعتراض ہوتا تو کبھی دوسرے صوبے کو، یہاں تک کہ ایک بار تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو چین لے جایا گیا،جہاں چینی حکام نے اُنہیں سی پیک کے منصوبوں کے بارے میں تفصیلی معلومات دیں اور وہ بظاہر مطمئن لوٹے اس کے بعد اندرون مُلک تو اعتراض کم ہو گئے تاہم بیرون مُلک بھارت اور اس کے حامی ممالک اِس منصوبے پر کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی اعتراض کرتے رہتے۔ ’’فنانشل ٹائمز‘‘ کی حالیہ رپورٹ بھی ایسی ہی مہم کا شاخسانہ لگتی ہے، تاہم اس میں یہ تجویز مضحکہ خیز ہے کہ سی پیک کے منصوبوں کو منجمد کر دیا جائے،ایسی تجویز کو منصوبہ کھوہ کھاتے ڈالنے کا نقطہ آغاز ہی کہا جا سکتا ہے،تاہم عبدالرزاق داؤد کا یہ کہنا کہ اُن کا انٹرویو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے،اِس بات کا متقاضی ہے کہ وہ وضاحت سے بتائیں کہ وہ درحقیقت کیا کہنا چاہتے تھے اور اخبارمیں کون سی بات سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی گی ہے،کیونکہ اُنہیں یہ گلہ تو بہرحال رہا ہے کہ اُن کی کمپنی نے سی پیک کے پانچ منصوبوں کے لئے بڈنگ دی تھی،لیکن اسے ایک کا ٹھیکہ بھی نہیں ملا،وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ تمام منصوبوں کے لئے چینی کمپنیوں کو ترجیح دی گئی اور پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کیا گیا۔ چینی کمپنیاں افرادی قوت بھی چین سے لے کر آئیں، مزید ایسی ہی شکایایت بھی تھیں جن کا تعلق چینی کمپنیوں کے ساتھ ترجیحی سلوک سے تھا، لیکن انہوں نے شکایت کرتے وقت اِس ضمن میں اِس بات کو مدنظر نہیں رکھا کہ ان منصوبوں میں تمام تر سرمایہ کاری چین کر رہا تھا اور فنانسنگ کا انتظام بھی چینی ادارے کر رہے تھے ایسی صورت میں اگر منصوبوں پر عملدرآمد میں چینی کمپنیوں کو ترجیح دی جا رہی تھی تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی،دُنیا بھر میں جو بھی مُلک کسی دوسرے مُلک میں اس طرح کی سرمایہ کاری کرتے ہیں اور سو فیصد فنانسنگ کا اہتمام اُن کی جانب سے ہوتا ہے،وہاں اس مُلک کی کمپنیوں کو ہی ترجیح دی جاتی ہے۔یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہئے کہ چین نے اربوں، ڈالر کی سرمایہ کاری ایک ایسے وقت میں کی جب کوئی دوسرا ملک پاکستان میں معمولی سرمایہ کاری کے لئے تیار نہ تھا اور یہاں سے سرمایہ پرواز کررہا تھا۔

ایسے محسوس ہوتا ہے کہ سی پیک منصوبے کے خلاف پروپیگنڈے کرنے والی جو لابیاں گزشتہ دِنوں سو گئی تھیں یا اُونگھ گئی تھیں اب نئی حکومت کے آتے ہی انہوں نے از سر نو انگڑائی لی ہے اور ایک بار پھر اُن کے پرانے زخم ہرے ہو گئے ہیں۔اگرچہ حکومتِ پاکستان، چینی وزارتِ خارجہ اور چینی سفارت خانے کی طرف سے سی پیک کو اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ ان منصوبوں میں کوئی رکاوٹ نہیںآنے دی جائے گی تاہم مخصوص ماحول مں یہ بہت ضروری ہے کہ اس گیم چینجر منصوبے کے خلاف پروپیگنڈے کے خدوخال سے پوری طرح آگاہ رہا جائے اور دشمنوں کے عزائم پر نظر رکھی جائے جو یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کی اقتصادی حالت خراب ہی رہے اور یہ کسی بھی طریقے سے ترقی کا سفر طے نہ کر سکے،چونکہ سی پیک میں یہ پوٹینشل موجود ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کو پاؤں پر کھڑا کرنے میں ممد ثابت ہو سکتا ہے اِس لئے پاکستان کی اقتصادی ترقی کے مخالفین اس کے خلاف طرح طرح کا پروپیگنڈہ کرنے میں لگے رہتے ہیں، کبھی اس کے ’’مہنگے قرضوں‘‘ کا تذکرہ ہوتا ہے تو کبھی چینی افرادی قوت پر اعتراض کیا جاتا ہے اور ’’ایک سال کے لئے منصوبہ منجمد کرنے‘‘ کی جو تجویز آئی اگرچہ اس کی تردید کر دی گئی ہے تاہم یہ بات مدنظر رہنی چاہئے کہ منصوبے کے مخالفین ٹھنڈے ہو کر بیٹھ نہیں گئے وہ پھر کسی نہ کسی طرح اس پر حملہ آور ہوں گے اور سی پیک کے اندر سے کچھ ’’نئے نقائص‘‘ تلاش کر کے سامنے لائیں گے۔تحریک انصاف کی حکومت میں بھی چونکہ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے عناصر جمع ہو چکے ہیں،جنہیں ملک کے حقیقی مسائل کا ادراک بھی نہیں اور ان کے اپنے مقاصد ہیں، اِس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنے اردگرد اُن لوگوں سے باخبر رہیں،جنہوں نے ایک قادیانی ماہر معاشیات کو بڑی ہوشیاری سے اُن کی ٹیم میں شامل کرا دیا تھا اور اس کی اہلیت کے حق میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جا رہے تھے،ایسی وارداتیں کرنے والے آئندہ بھی شرارتیں کریں گے اور ان کا ہدف سی پیک جیسے منصوبے ہوں گے ان سے ہوشیار رہنے اور ملکی مفاد کے منصوبوں کو یکسوئی سے مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /اداریہ