ڈاکٹر صہیب مراد، درجہ شہادت پر فائز!

ڈاکٹر صہیب مراد، درجہ شہادت پر فائز!

حادثاتی موت بھی شہادت کا درجہ رکھتی ہے۔علماء کرام کا کہنا ہے کہ اللہ کے نزدیک یہ بھی درجہ ہے۔جماعت اسلامی کے سابق نائب امیر خرم مراد(مرحوم) کے صاحبزادے اور شعبہ تعلیم میں ایک بہت بڑے نام کے حامل آئی ایل ایم اور یونیورسٹی آف مینجمنٹ اور ٹیکنالوجی کے بانی ڈاکٹر حسن صہیب مراد بھی حادثاتی وفات کا شکار ہو کر درجہ شہادت پر فائز ہو گئے ہیں،ان کی گاڑی کو پیر کے روز خنجراب پاس کے قریب حادثہ پیش آیا وہ خود اللہ کو پیارے ہوئے اور ان کے ساتھی زخمی ہو گئے۔ ڈاکٹر حسن صہیب مراد کی موت کی خبر تعلیمی اور تہذیبی حلقوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور تاسف کا اظہار کیا گیا کہ عالمی شہرت کے حامل ماہر تعلیم دُنیا سے رخصت ہو کر بہت بڑا خلاء چھوڑ گئے،ان کی خدمات کو بھلایا بھی نہیں جا سکتا کہ انہوں نے اپنی زندگی اِس مقصد کے لئے وقف کی ہوئی تھی اور تعلیم کے میدان میں ان کی کوششیں برگ و بار لارہی تھیں۔ہمارے پیارے مُلک پاکستان میں تعلیمی حالت پہلے ہی قابلِ فخر نہیں،اِس دوران ایسی ماہر اور مایہ ناز ہستی کا اُٹھ جانا اِس شعبہ اور تہذیبی دور میں بہت بڑا ناقابلِ تلافی نقصان ہے، جماعت اسلامی کے تمام اکابرین، شعبہ تعلیم کے اساتذہ، طلباء اور مرحوم کے دوستوں نے بھی گہرے دُکھ کا اظہار کیا ہے۔جماعت اسلامی کے سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم کے مطابق ڈاکٹر حسن صہیب مراد کے اہل خانہ امریکہ میں ہیں اُن کو اطلاع دے دی گئی ہے، ان کی آمد پر ہی تدفین ہو گی اور نمازِ جنازہ کے لئے وقت کا تعین کر کے اعلان کیا جائے گا۔ ادارہ پاکستان اِس ناگہانی انتقال پُرملال پر دُکھ کا اظہار کرتا اور اللہ سے اُن کے درجات کی بلندی کے لئے دُعا گو ہے، پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دُعا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ