نفاذِ اسلام کی جدوجہد مفقود کیوں؟

12 ستمبر 2018

مجاہدالحسینی

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مذہبی رہنما حصول اقتدار کے لئے بڑے مستعد ہیں، خصوصاً جمعیۃ علمائے اسلام کی سرگرمیوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے سربراہ مولانا فضل الرحمن جس مستعدی اور فکر مندی کے ساتھ اپنے لئے صدارتی عہدہ حاصل کرنے میں کوشاں رہے ہیں، اسی مستعدی اور اہتمام کے ساتھ پاکستان میں اسلامی نظام کے لئے کوشاں نظر نہیں آتے، جبکہ اس جماعت کے اسلاف میں سے حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانامفتی محمود، مولانا عبیداللہ انور اور دیگر شخصیات نے حتی المقدور جدوجہد کی جس کے نتیجے میں 1973ء کو پاکستان کا دستور اسلامی قرار پایا ہے، اس دستور میں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ دس سال کے اندر اندر پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کردیا جائے گا۔

نفاذ اسلام کے سلسلے میں ایک اچھی بنیاد فراہم کردی گئی ہے، اس سلسلے میں اگر مذہبی رہنما اپنی ذمہ داری محسوس کریں تو آسانی کے ساتھ منزل مقصود تک رسائی مل سکتی ہے،دینی جماعتوں کے رہنما اگر خواب غفلت سے بیدار نہ ہوئے تو حصولِ مقصد مشکل ہوگا، ہمارے اسلاف نے اس سلسلے میں بڑی جدوجہد کی ہے، اگر اسی بنیاد پر ازسرِنو کوشش بروئے کار آجائے تو اس کے نتائج حوصلہ افزا ہوں گے، بغیر جدوجہد دنیا میں کہیں کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی، دینی جماعتوں کے رہنماؤں کو حالات کی نزاکت کا ضرور احساس کرنا چاہیے۔دورِحاضر میں مکمل اسلامی دستور کے نفاذ کا مسئلہ مذہبی جماعتوں کی باہمی کشمکش کی وجہ سے مشکل نظر آتا ہے، اگر جزوی طور پر اسلام کا ایک آدھ قانون ہی نافذ کردیا جائے تو اس کے اثرات دوررس ہوں گے، مثلاً چوری، ڈکیتی وغیرہ کے ارتکاب کی سزا شرعی قوانین کے مطابق نافذ کی جائے تو معاشرے سے چوری ڈکیتی کے واقعات پر قابو پایا جاسکتا ہے، اس سلسلے میں سعودی عرب میں رائج شرعی سزاؤں کے واقعات شاذو نادر رہ گئے ہیں جو ایک مثال ہے۔

92۔ اخبار اور ٹی وی چینل

92۔ ایسا عنوان ہے جو ہر چیز کو محیط ہے، لیکن وجدان سے معلوم ہوتا ہے کہ 92 کے نام سے اخبار اور ٹی وی چینل کا عنوان قائم کرنے والے حضرات نے سیدنا محمدﷺ کے اسم مبارک کے عدد(92) کو ملحوظ رکھا ہے، جبکہ 92 عدد توہر چیز پر مشتمل ہے۔ آپ کسی چیز کے بھی عدد نکالیں 92 ہی ہوں گے۔ بایں معنی یہ ایک بے مقصد عنوان ہے، سیدنا رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کی مناسبت سے اخبار اور ٹی وی چینل کا نام مدینہ، ارض طیبہ، ارض الحرمین، زمزم یا کوئی اور نام رکھا جاتا یا ان کے عدد نکال کر نام تجویز ہوتا تو ایک مبارک کوشش ہوتی، یہ اردو اخبار کا نام انگریزی میں 92 بے مقصد اور نظرثانی کا متقاضی ہے، اس سے تو اخبار اور ٹی وی چینل 786 رکھا جاتا تو بہتر تھا جو بسم اللہ کے عدد ہیں۔ امید ہے کہ اخبار کے مالکان اس پر ضرور نظرثانی کریں گے۔

کھیت سے گھاس کاٹنے پر تشدد کیوں؟

شجاع آباد کی ایک خبر ہے کہ کھیت سے گھاس کاٹنے پر زمیندار نے غریب شخص پر زبردست تشدد کیا ہے، اسلامی تعلیمات کے مطابق گھاس چونکہ کسی کے ’’بونے‘‘ سے پیدا نہیں ہوتا، بلکہ یہ قدرتی پیداوار ہے اور کھیتی باڑی کو نقصان پہنچائے بغیر ہر شخص کو گھاس لینے کی اجازت ہے۔ جس زمیندار نے ایک غریب پر صرف گھاس کاٹنے پر تشدد کیا ہے، وہ ظالم اور شرعی اعتبار سے قابل گرفت ہے۔ قرآن کریم کی آیت کریمہ ہے:کیا تم اسے کاشت کرتے ہو یا ہم کاشت کرتے ہیں؟اسلامی احکام کے مطابق غریبوں اور ضرورت مندوں کو حق حاصل ہے کہ وہ کھیتی کو نقصان پہنچائے بغیر گھاس وغیرہ کھودسکتا ہے، اس پر کسی قسم کا تشدد ظلم ہے اور ظالم کو دنیا میں بھی اور آخرت میں سنگین سزا دی جائے گی۔

ملتان میں نوجوان لڑکی موٹر مکینک

ایک خبر ملاحظہ کریں کہ ملتان میں ایک لڑکی ورکشاپ میں موٹر مکینک کی حیثیت سے کام کررہی ہے، اگرچہ یہ کام قابل اعتراض نہیں، لیکن نوجوان لڑکیوں یا عورتوں سے بچوں کی صحیح پرورش اور نگہداشت کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت کا کام لینا چاہئے۔ عورتوں کی معاشی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر ان سے سستی لیبر کی حیثیت سے کام نہیں لینا چاہئے۔

صدر اور وزیر اعظم کو پن ہیگن کا سائیکل پردورہ

کوپن ہیگن کی خبر ہے کہ فرانسیسی صدر اور ڈنمارک کے وزیر اعظم نے سائیکل پر مختلف علاقوں کا دورہ کیا،وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ پروٹوکول کے لئے گاڑیوں کا جلوس نہیں ہونا چاہئے، یہ ایک اچھی مثال ہے۔

مزیدخبریں