A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

لازوال کرپشن کی باکمال کہانی

لازوال کرپشن کی باکمال کہانی

Sep 12, 2018

سحر گلیانہ

میرا نام کرپشن ہے، کار سازِ حیات نے جب مجھے تخلیق کیا تو جانے کیا ٹھانا ہوگا؟شاید میرا وجود تکمیل حیات کے لئے ناگزیر ہوگا، زندگی کی جولانیوں میں نئے رنگ لانے کے لئے جیسے آگ اور پانی مل کر زندگی کی گاڑی آگے پڑھاتے ہیں، میرے لئے بھی کسی آگ یا پانی جیسا کردار ادا کروانا مقصود ہوگا۔ معاملات چاہے کچھ بھی ہوں، مجھے اپنے ہونے پر ناز ہے، کیونکہ میرامقابل ہر آن مجھے زیر کرنے کی تگ و دو میں ڈوبا رہتا ہے۔مجھے بتایا گیا کہ جب میری پیدائش ہوئی تو میری اماں ’’ہوس‘‘ نے خوشی کے شادیانے بجائے، جبکہ میرا باپ کچھ یاس و نایاس تھا۔ دراصل ’’ہوس‘‘(میری اماں) میرے باپ کی دوسری بیوی تھی، جبکہ میرے باپ کی پہلی بیوی ’’حیا‘‘ تھی۔ میری سوتیلی ماں یعنی ’’حیا‘‘ کے بطن سے دو بیٹے تھے، جن کا نام ’’صداقت‘‘ اور ’’امانت‘‘ تھا۔ اس لحاظ سے ’’صداقت‘‘ اور ’’امانت‘‘ میرے سوتیلے بھائی تھے۔ گزرتے وقت کے ساتھ مجھے محسوس ہونے لگا کہ دونوں بھائی مجھ سے خائف تھے۔ عام لوگوں میں وہ اپنی شرافت و نجابت کا اظہار کرتے اور فقط اِسی چیز کو سرمایۂ افتخار سمجھتے، جبکہ میرا نام آتے ہی اُن کی پیشانیاں شکن آلود ہوجاتیں، مگر خاموش رہتے کہ بالآخر میں اُن کی سوتیلی بہن تھی۔

اُن کی اِس زہر آلود رَوش پر مَیں دل ہی دل میں خوش ہوا کرتی اور اپنی آن بان کچھ اور تراشنے، سنوارنے کے جتن کرتی رہتی اور پھر جب میری سوتیلی اماں ’’ حیا‘‘ نے اپنے بیٹوں ’’صداقت وامانت‘‘ کی نسل آگے بڑھانے کے لئے اُن کی شادیاں کردیں تو میری اماں’’ہوس‘‘ کو میرے اکیلے پن کا خیال آیا اور وہ کافی متفکر رہنے لگی اور ایسی ہی کشمکش کے دوران میں میری شادی ’’دغا باز‘‘ سے ہو گئی اور مَیں’’کرپشن‘‘ سے ’’کرپشن دغا باز‘‘ ہو گئی۔ ’’دغاباز‘‘ کے آ ملنے سے گویا مجھے نئی زندگی ملی اور میری طاقت دو چند ہو گئی، مگر یہ باتیں تو بہت پرانی ہیں، جبکہ حالات نے عجب عجب پلٹے کھائے ہیں۔پھر حالات کچھ گھمبیر ہو گئے جب ’’امانت‘‘ کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی، جس کا نام اُس کی بیوی ’’وفا‘‘ نے ’’اعتبار‘‘ دکھ دیا اور ساتھ ہی ’’صداقت‘‘ کی بیوی ’’مقدس‘‘ کے بطن سے ’’راست باز‘‘ نے جنم لیا۔

ان کے وجود میں آنے سے مَیں اور میرا شوہر ’’دغا باز‘‘ بہت سٹپٹائے اور ایک بڑی ابتلا میں پھنس گئے۔ میری اماں ’’ہوس‘‘ بیچاری یہ سب دیکھتی اور کڑھتی رہتی۔ بالآخر اُسے اس وقت چین نصیب ہوا، جب مَیں نے بھی ایک بیٹے کو جنم دیا۔میری اماں کی خوشی دیدنی تھی اور اُس نے بڑے چاؤ سے اُس کا نام ’’عیار‘‘ رکھ دیا۔ ’’عیار‘‘ تو ہماری توقعات سے بھی بڑھ کر نکلا۔ اُس نے ایسے ایسے پینتروں سے ’’اعتبار‘‘ اور ’’راست باز‘‘ کو چکمے دیئے کہ پورے ’’صادق و امین‘‘ خاندان کے چھکے چھڑا دیئے۔ مجھے تو اُس وقت وہ اور بھی پیارا (Cute) لگتا، جب وہ ’’اعتبار‘‘ اور ’’راست باز‘‘ کا روپ دھارتا اور دن بھر اُس پوری فیملی کو اپنی انگلیوں پر نچاتا اور رات کو مرے ساتھ (یعنی اپنی امی کرپشن کے ساتھ) لپٹ کر سوجاتا۔ ایسے عالم میں مجھے ’’عیار‘‘ کی عیاریاں گدگدیاں کرتیں اور مَیں اُس پر نہال ہو، ہوجاتی۔

دوستو! مدِ مقابل کو زیر کرنے کے لئے دنیا میں کیا کچھ نہیں کرنا پڑتا۔ مَیں بھی گھر گھر جاکر لوگوں کو قائل کرتی کہ ’’عیار‘‘ تمہارے لئے وہ کچھ کرسکتا ہے جو ’’اعتبار‘‘ اور ’’راست باز‘‘ کی پہنچ سے بھی باہر ہے۔ وہ لوگ تو فقط تبلیغی ٹائپ ہیں اور محض آخرت سنوارنا ہی اُن کا منتہائے نظر ہے، زندگی کی رعنائیوں سے کوسوں دور یہ ’’اعتبار‘‘ اور ’’راست باز‘‘ پاگل پن کو دھرا رہے ہیں، جبکہ میرا ’’عیار‘‘ تمہاری لذت کام و دھن کے لئے برسرپیکار ہے۔ میری کاوشیں اکثر رنگ لاتیں اور لوگوں کے دلوں میں ’’عیار‘‘ کے لئے محبت کچھ اور فزوں ہو جاتی۔۔۔ ساتھیو! یہ بھی کافی پرانی باتیں ہیں، جبکہ حالات تو ایک نئی کروٹ لینے کے لئے خود کو تیار کررہے تھے۔ معاملہ کچھ اور بگڑا جب ’’راست باز‘‘ اور ’’اعتبار‘‘ کی بیویوں ’’پاکیزہ‘‘ اور ’’متبرک‘‘ نے ’’ایثار‘‘ اور ’’وقار‘‘ کو جنم دیا۔ میرے بیٹے ’’عیار‘‘ کی فکر تو دو چند ہوگئی، یہ ’’ایثار‘‘ اور ’’وقار‘‘ تو اُس کی جان کے درپے تھے، مگر بھلا ہو میری بہو ’’فریب‘‘ کا، اُس نے بھی طبلِ جنگ بجاتے ہوئے ’’حریص‘‘ کو پیدا کر دیا۔

شروع شروع میں ’’حریص‘‘ کو کچھ خاص پذیرائی تو نہ مل سکی، مگر جب مَیں نے اماں ’’ہوس‘‘ کے فرمودات کی روشنی میں اپنے رنگ بکھیرنے شروع کئے تو عام لوگ بھی پکار اٹھے: ’’زندگی کے سبھی رنگ، کرپشن کے سنگ‘‘۔ اب ’’حریص‘‘ کی ہر طرف چاندی ہی چاندی تھی اور لوگ جوق در جوق اُس کے ہمنوا بننے لگے۔ یہ دیکھ کر ’’ایثار‘‘ اور ’’وقار‘‘ خوب تلملاتے۔ ہر روز کوئی نیا چوغہ پہن کر آتے اور لوگوں کو پارسائی کا درس دینا شروع کردیتے۔ خون تو میرا بھی بہت کھولتا جب کبھی میرے ’’حریص‘‘ کو طعن و تشنیع کا شکار بنایا جاتا اور حیرت کی بات یہ تھی کہ ساری دشتام طرازی منافقانہ انداز میں کی جاتی، جس کا مجھے پورا ادراک تھا۔

’’ایثار‘‘ اور ’’وقار‘‘ کی بدمعاشیاں اب مجھ سے برداشت نہیں ہو پارہی تھیں۔ ہر چند مَیں نے ’’حریص‘‘ کے ہمنواؤں میں خوب اضافہ کیا تھا، مگر معاملہ سوانیزے پر آگیا، جب ’’ایثار‘‘ اور ’’وقار‘‘ نے ’’انصاف‘‘ کو ساتھ ملا گیا۔ ’’انصاف‘‘ کو تو مَیں ایک عرصہ سے جانتی تھی اور کئی بار میری چمک دمک سے مرعوب بھی ہوچکا تھا، مگر اس بار اُس کے تیور کچھ بگڑے بگڑے سے لگ رہے تھے۔ مَیں نے اپنے اثر ونفوذ کو ہر طرح سے آزمالیا، مگر محسوس ہو رہا تھا کہ ’’حالات‘‘ نازک ہوچکے۔ اُس کم بخت نے ایک بھی نگاہِ التفات نہ ڈالی۔ میرے لئے یہ کوئی تائید غیبی تھی کہ میرے بیٹے ’’عیار‘‘ کی دوستی میرے ہمسائے ’’مکار‘‘ سے ہوگئی تھی، حالانکہ وہ میرا ہمسایہ تھا، مگر مَیں نے کبھی اُسے درخور اعتنا نہیں سمجھا تھا اور پھر اُس وقت میں خوشی کے ساتویں آسمان پر پہنچ گئی،جب اُس نے میرے کان میں سرگوشی کی کہ عالم انسان کا ’’غدار‘‘ اُس کا یارِ غار ہے اور اُس ’’غدار‘‘ جیسا شہسوار اِس دنیامیں کوئی نہیں۔

دنیا کی ہر ٹیکنالوجی پر اُس کی دسترس ہے۔ اُس کے زیرِ سایہ مجھ جیسی کئی کرپشن کی دیویاں متحرک ہیں۔ ہر چند کوئی راست باز ہو، وقار ہو یا انصاف ہو، سب اُس کے زیر نگین ہیں۔یہ سن کر میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہا، مَیں نے ’’مکار‘‘ سے کہا کہ ’’غدار‘‘ کے ساتھ مل کر ہمیں ’’انصاف‘‘ کی دست برد سے بچانے کا کوئی راستہ نکالے۔۔۔دوستو! میرے معزز کرم فرما ’’مکار‘‘ نے مجھے ’’غدار‘‘ سے مدد دلوانے کا وعدہ کرلیا ہے۔ ابھی مَیں زندہ ہوں اور رہوں گی۔ دنیا کی کوئی طاقت مجھے زیر نہیں کرسکتی۔ ویسے بھی زندگی ہر رنگ میں جینے کا خراج ادا کیا کرتی ہے اور مَیں نے خود کو اس کام کے لئے تیار کرلیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ ’’عادل‘‘ اور ’’ایثار‘‘ اگر ہماری زندگی کے درپے میں تو انہیں بھی کئی خراج ادا کرنا پڑیں گے۔آپ دعا کریں کہ ’’غدار‘‘جو کہ اس عالمِ فانی کا شہسوار ہے، میرا خراج قبول کرلے تاکہ مَیں ایک نئی سج دھج کے ساتھ دوبارہ جلوہ گر ہوسکوں۔

مزیدخبریں