A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

سیاسی مخالفت کو قومی مفاد سے دور رکھیں

سیاسی مخالفت کو قومی مفاد سے دور رکھیں

Sep 12, 2018

نسیم شاہد

کالا باغ ڈیم کو تو سیاست نگل گئی ہے، مگر اب بھاشا اور دیا میر ڈیمز پر بھی عجیب و غریب سیاست ہو رہی ہے، پوری قوم اس بات پر کمر بستہ نظر آتی ہے کہ پاکستان میں ڈیمز بنیں، اس موقعہ کے لئے سپریم کورٹ اور حکومت نے مل کر جو فنڈ قائم کیا ہے، اُس میں حصہ ڈالنے کا سلسلہ پوری دنیا میں جاری ہے۔ جب چیف جسٹس ثاقب نثار نے چند ماہ پہلے اس فنڈ کے قیام کا اعلان کیا تھا، تو سبھی نے اس کی تعریف کی تھی، لیکن جونہی وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اس فنڈ میں حصہ لینے کی اپیل کی، گویا ایک گناہ ہوگیا۔ مسلم لیگ (ن)، اے این پی اور جے یو آئی، مخالفت پر اُتر آئیں یہ سوچے بغیر کہ اس کا ملک کو فائدہ ہے یا نقصان؟ بغضِ عمران خان میں ڈیمز کے لئے چندہ مہم کی مخالفت شروع کردی۔ کوئی کہہ رہا ہے ملک کو بھکاری بنا دیا ہے، کسی کو اعتراض ہے کہ یہ ڈیمز چندے سے کیوں بنائے جارہے ہیں اور کوئی اسے قومی غیرت کے منافی عمل قرار دے رہا ہے۔

لگتا ہے یہ غیرت صرف انہی لوگوں میں ہے، جو ڈیمز بنانے کی اس مہم کے خلاف کھڑے ہیں، دوسری طرف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج کی طرف سے ایک ارب 59لاکھ روپے ڈیمز فنڈ میں دے کر واضح کردیا ہے کہ یہ سب سے بڑا قومی کاز ہے، جس کے لئے فوج کے افسروں اور جوانوں نے دل کھول کر حصہ لیا ہے، اب احسن اقبال جیسے پڑھے لکھے لوگ بھی صرف عمران خان کی مخالفت میں عجیب و غریب دلیلیں لا رہے ہیں،اُن کا یہ کہنا کہ ہم نے موٹرویز بنائیں، میٹرو بسیں چلائیں، فلائی اوورز اور انڈرپاسز بنائے، کسی سے کوئی امداد نہیں لی نہ ہی چندہ مہم چلائی۔ کیا خوب موازنہ کیا ہے انہوں نے۔ سو دو سو ارب روپے کے منصوبوں کو وہ 1400 ارب روپے کے منصوبے سے ملا رہے ہیں، اُن سے یہ بھی پوچھنے کو جی چاہتا ہے کہ اگر ڈیم بنانا اتنا ہی آسان تھا تو مسلم لیگ (ن) نے اس کی شروعات کیوں نہیں کیں؟ پھر جس ملک پر 28ہزار ارب روپے کا قرضہ چڑھا ہو، وہ کیسے اپنے وسائل سے اتنی بڑی رقم نکال سکتا ہے۔ وہ اپنے روز مرہ اور پُرانے قرضے اُتارے یا ڈیمز بنائے؟ شہبازشریف کا دعویٰ ہے کہ بھاشا ڈیم کے لئے زمین نواز شریف دور میں خریدی گئی، چلیں جی مان لیتے ہیں کہ زمین خریدی گئی، پھر اُس کے بعد آگے پیش رفت کیوں نہیں ہوئی، کیوں معاملہ ایک انچ آگے نہیں بڑھا؟

چیف جسٹس ثاقب نثار کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے اس اہم ایشو کو زندہ کردیا، وگرنہ یہاں کسی کو بھی فکر نہیں تھی کہ آنے والے دور میں قحط سالی سے بچنے کے لئے اس منصوبے کا سنجیدگی سے آغاز کرے، اب شہباز شریف کہتے ہیں کہ بھاشا ڈیم بھی مسلم لیگ (ن) ہی بنائے گی، گویا وہ یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگلے پانچ برسوں تک اس حکومت کے دور میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں، کوئی ڈیم کی تعمیر شروع کرنے کی کوشش کرے تو اُس کی ڈٹ کر مخالفت کی جائے۔ کیا یہ واقعی اتنا غیر سنجیدہ کام ہے، یہ ماہرین جو کہہ رہے ہیں کہ 2025ء تک پاکستان خشک سالی کا شکار ہو جائے گا۔ کیا ہم اُسے کوئی اہمیت نہیں دیں گے؟ ڈیم کوئی راتوں رات بننے والی چیز تو ہے نہیں، اس پر آٹھ دس برس تو لازمی لگتے ہیں، گویا یہ اب آخری موقع ہے کہ ہم ڈیم کی تعمیر کو ہنگامی بنیادوں پر شروع کرا دیں تاکہ 2025ء کے لگ بھگ ہم ڈیم کا 80 فیصد حصہ مکمل کر چکے ہوں۔ لیکن اپوزیشن کی باتوں سے لگ رہا ہے کہ وہ ابھی مزید دس برس تاخیر سے اس کی تعمیر شروع کرانا چاہتی ہے یا کم از کم اس وقت تک کہ جب موجودہ اپوزیشن اقتدار میں آ جائے۔

یہ ایسا مذاق ہے جس کی کوئی ذی شعور پاکستانی تائید نہیں کر سکتا۔ عجیب بات ہے کہ آج دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پاکستانیوں سے ڈیم فنڈ کے لئے چندہ لینے پر ایسے اعتراض کیا جا رہا ہے جیسے اس سے بڑھ کر پاکستان کے لئے نقصان دہ اور کوئی چیز نہیں اگر حکومت ورلڈ بینک کے پاس اس منصوبے کی فنانسنگ کے لئے جاتی تو پھر بھی اعتراضات کی بھرمار ہونی تھی۔ اس صورتِ حال میں کوئی بتائے کہ پاکستان میں کوئی نیا ڈیم کس طرح بن سکتا ہے؟۔ 22 کروڑ افراد پر مشتمل ایک ملک جس کی افرادی قوت دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے اور یورپ اور امریکہ میں رہنے والے پاکستانی تو بہت متمول بھی ہیں اگر انہیں ساتھ ملا کر پاکستان کو خشک سالی، پانی کے بحران اور بجلی کی کمی سے نمٹا جا سکتا ہے تو اس سے زیادہ خوش قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے۔

ایک اہم نکتہ جسے نظر انداز کیا جاتا ہے وہ اس بات سے متعلق ہے کہ اگر ہم خود پیسے اکٹھے کر کے ڈیم بنانا چاہیں گے تو جلد بن جائے گا۔ لیکن اگر ہم سرمائے کے لئے یورپ اور امریکہ کی طرف دیکھیں گے ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور امریکی امداد کی طرف دیکھیں گے تو ان کی طرف سے اتنی کڑی شرائط لگائی جائیں گی جنہیں پورا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ پھر یہ بھی ہے کہ ورلڈ بینک سے قرضہ لینے کی صورت میں اس ڈیم کی ایک ایسی فزیبلٹی رپورٹ بنانا پڑے گی، جسے بھارت بھی قبول کرے۔ اگر بھارت اس ڈیم کو بنانے کی مخالفت کرتا ہے تو پھر ورلڈ بینک اس کی شرائط پوری کرنے کے لئے پاکستان پر دباؤ ڈالے گا۔ یہ معاملہ طول کھینچ سکتا ہے اور ہمارے مزید کئی سال ضائع ہو سکتے ہیں، جبکہ اس وقت ہمیں پانی کی اشد ضرورت ہے اور ہمارا زیر زمین ذخیرہ بہت کم رہ گیا ہے، اس لئے اس کا بہترین حل یہی ہے کہ دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانیوں کو اس ڈیم کے لئے وسائل فراہم کرنے کی خاطر متحرک کیا جائے۔

یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے خاص طور پر بیرون ملک رہنے والے 90 لاکھ پاکستانیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قومی کاز کی کامیابی کے لئے آگے آئیں، اس کا بہت اچھا ردعمل ہوا ہے اور دنیا سے ڈیم فنڈ کے لئے عطیات آ رہے ہیں اب اس کی مخالفت کیسے کی جا سکتی ہے۔ ایک طرف اپنی قوم سے حصہ ڈالنے کی اپیل ہے اور دوسری طرف بڑے فنانشل اداروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا ہے۔ وہ اپنی شرائط پر امداد نہیں کریں گے بلکہ کڑی پابندیوں کے ساتھ قرض دیں گے جس پر مارک اپ بھی اپنی مرضی کا رکھیں گے۔ کیا یہ مناسب ہوگا؟ قوم کو بھکاری بنانے کا طعنہ دینے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ قوم تو چندہ دے رہی ہے، وہ بھکاری کیسے بن گئی؟ بھکاری تو اس وقت بنتی ہے جب غیروں کے آگے کشکول پھیلانا پڑتا ہے۔ بھکاری تو ہمیں ان قرضوں نے بنایا ہے جو بے تحاشہ لئے گئے اور شرح سود کو کم کرانے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی گئی۔ آج ہماری نسلیں قرض کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں اور بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرضوں کے سود پر خرچ ہو جاتا ہے۔

ہماری سیاست بہت ظالم ہے۔ اس میں قومی مفاد کبھی نہیں دیکھا جاتا، بس یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح حکومت میں بیٹھے ہوؤں کے لئے مسائل پیدا کئے جائیں۔ کہنے کو اپوزیشن کی طرف سے یہ بڑھک ضرور ماری جاتی ہے کہ حکومت کے اچھے کاموں میں اس کا ساتھ دیں گے، مگر حقیقت یہ ہے کہ حکومت کے اچھے کاموں ہی کی سب سے زیادہ مخالفت کی جاتی ہے مثلاً ڈیم بنانا ایک ایسا کام ہے جس کی مخالفت کرنے کے لئے بڑا حوصلہ چاہئے، کیونکہ ملک اس وقت شدید آبی بحران کا شکار ہے اور آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ ہمیں خانہ جنگی تک لے جا سکتا ہے، جب لوگ پانی کی بوند بوند کو ترسیں گے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مسلم لیگ (ن) اپنی تمام رنجشیں اور اختلافات بھلا کر کم از کم ڈیم بناؤ مہم کے یک نکاتی ایجنڈے پر حکومت کا کھل کر ساتھ دیتی۔ اس سے مسلم لیگ (ن) کے سیاسی قد میں اضافہ ہوتا اور یہ الزام بھی نہ لگتا کہ مسلم لیگ (ن) حکومت کی مخالفت میں کسی حد تک بھی جا سکتی ہے۔

پیپلزپارٹی نے ایک مرتبہ پھر سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے اور ڈیم بنانے کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اندھے کو بھی نظر آ رہا ہے کہ اس وقت ملک کے آئینی ادارے بھی ڈیم بنانے کی ضرورت کو اولیت دے چکے ہیں حکومت، فوج، عدلیہ اور عوام اس حوالے سے یکجان نظر آتے ہیں، ایسے میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا ڈیم بناؤ مہم کی مخالفت کرنا سمجھ سے بالا تر ہے۔ اس وقت یہ سیاسی کریڈٹ لینے کی دوڑ نہیں بلکہ قومی ضرورت ہے۔ کوئی مخالفت کرے بھی تو اب یہ سلسلہ نہیں رکنے والا کیونکہ عوام کو یہ بات سمجھ آ چکی ہے کہ پہلے کالا باغ ڈیم کو سیاسی ایشو بنا کر تیس سال ضائع کئے گئے ، اب دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے وقت اس کی چندہ مہم کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے، حالانکہ یہ بھی کوئی متنازعہ بنانے والی بات ہے۔ اللہ ہمارے سیاسی قائدین کو چھوٹے چھوٹے اعتراضات سے بالا تر ہو کر قوم و ملک کے لئے سوچنے کی توفیق دے۔ خاص طور پر جو معاملات قومی سلامتی اور خوشحالی سے تعلق رکھتے ہیں انہیں صرف اس وجہ سے رد نہ کیا جائے کہ ان کا کریڈٹ حکومتِ وقت کو مل جاے گا۔ کریڈٹ ملتا ہے تو ملتا رہے، قوم کے مسائل تو حل ہوں گے جو ایسی ہی سیاسی محاذ آرائیوں کی وجہ سے رائی سے پہاڑ بنتے رہے ہیں۔

مزیدخبریں