A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

افغانستان: پس منظر و پیش منظر

افغانستان: پس منظر و پیش منظر

Sep 12, 2018

لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان

کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا پاکستان میں آئے روز دھماکے ہوتے تھے۔ یہی پریکٹس اب افغانستان میں ہو رہی ہے۔ حکومت کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ اس کا کیا علاج کیا جائے۔ داعش کے موجد، عراق اور شام کے آزمودہ کاروں کو ہوائی جہازوں میں بھر بھر کر کابل،بگرام اور شیندند کے فضائی مستقروں میں لا لا کر اور پھر ان کو مطلوبہ اسلحہ و بارود سے لیس کرکے افغانستان کے طول و عرض میں خلق خدا کو ہلاک کئے جا رہے ہیں۔ لوکل طالبان بھی اس قتل و غارت گری میں برابر کا حصہ ڈال رہے ہیں۔ روزانہ خبر آتی ہے کہ فلاں صوبے میں خودکش حملہ آوروں نے درجنوں افغان شہریوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ان میں زیادہ تر وہ سیکیورٹی فورسز بھی شامل ہوتی ہیں جن کو امریکیوں نے ٹریننگ دے کر بظاہر امن و امان قائم کرنے کے لئے مختلف علاقوں میں مقیم کر رکھا ہے۔

جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں، کابل کے ’’طلوع ٹیلی ویژن‘‘ پر جسے انگریزی میں Tolo TVکہا اور لکھا جاتا ہے، فارسی زبان میں یہ بریکنگ نیوز نشر ہو رہی ہے کہ ملک کے چار شمالی صوبوں میں طالبان نے حملے کرکے 52 اراکینِ سیکیورٹی فورسز کو ہلاک کر دیا ہے۔

بین الاقوامی برادری میں ان کو افغان نیشنل آرمی (ANA)اور افغان نیشنل پولیس (ANP)کا نام دیا ہوا ہے۔ آرمی اور پولیس کے اسی ’’ملغوبے‘‘ کو سیکیورٹی فورسز کہا جاتا ہے۔ ان کا اسلحہ بارود، راشن پانی، قیام و طعام سب کا سب امریکی ڈالروں میں آ رہا ہے۔ کسی دن اگر بھولے سے کوئی سفید فام ہلاک ہو جائے تو گلوبل میڈیا پر اس کی تشہیر کا ایک سماں باندھ دیا جاتا ہے جس سے دنیا کو یہ تاثر دینا مقصود ہے کہ امریکی فوج اس ملک میں امن و امان کے قیام اور سیکیورٹی فورسز کو کتنی قربانیاں دے کر ٹریننگ دے رہی ہے۔ لوکل طالبان کا ایک الگ ہوّا کھڑا کیا ہوا ہے جن کے بارے میں خبریں دی جاتی ہیں کہ یہ لوگ آدھے افغانستان پر قابض ہیں ۔۔۔ سالہا سال سے یہی صورتِ حال برقرار ہے۔

چار سال ہونے کو آ رہے ہیں کہ ناٹو فورسز کو افغانستان سے نکال لیا گیا تھا۔یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ خود نکل گئی تھیں۔۔۔ امریکہ کو خوش کرنے کے لئے ناٹو ٹروپس نے جدید ترین اسلحہ جات اور ٹیکٹکس کا استعمال کرکے دیکھ لیا تھا لیکن دور دور تک ان کی اس کامیابی کا کوئی سراغ نہیں ملتا تھا کہ جس کی امید پر امریکہ ان کو ورغلا کر یہاں لایا تھا۔ دسمبر 2014ء میں اس وقت کے صدر اوباما نے جب امریکہ سمیت ناٹو ممالک کے بیشتر ٹروپس کو اپنے اپنے ملکوں میں واپس جانے کی ’اجازت‘ دے دی تو افغانستان کی اس طویل ترین جنگ کا دوسرا مرحلہ مکمل ہو گیا۔۔۔ پہلا مرحلہ اس وقت مکمل ہو گیا تھا جب امریکہ نے فیصلہ کیا تھا کہ ایساف اور ناٹو افواج کو ملا کر افغانستان کے باغی پشتونوں کو سبق سکھایا جائے۔ لیکن جب ایساف اور ناٹو کی ڈیڑھ لاکھ فوج اپنے جدید ترین ساز و سامانِ جنگ کے ساتھ ناکام ہو گئی تو گویا یہ تیسرا مرحلہ تھا جو اختتام پذیر ہوا۔۔۔۔

جنوری 2015ء سے اب چوتھا مرحلہ شروع ہے۔ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے 15ہزار سے زیادہ امریکی فوج، کابل و قندھار کے گیریژنوں میں اس مشن کے ساتھ صف بند کی ہوئی ہے کہ ساڑھے تین لاکھ افغان نیشنل آرمی اور اڑھائی لاکھ افغان نیشنل پولیس کو پروفیشنل سکھلائی دے رہی ہے۔

اصل جنگ دو افغان دھڑوں کے مابین ہو رہی ہے۔ اس جنگ کو فارسی بولنے والے اور پشتو بولنے والے افغانوں کے درمیان ’باہمی جنگ‘ کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک افغان کو دوسرے افغان سے لڑایا جا رہا ہے اور خود چھاؤنیوں میں محصور و محفوظ ہو کر پیشہ ورانہ پلاننگ اور ایگزی کیوشن کا ’کارِخیر‘ انجام دیا جا رہا ہے۔ مزہ یہ ہے کہ دونوں فریقوں میں اسلحہ بارود کی سپلائی کا منبع بھی ایک ہے اور انصرامی (Logistic) ضروریات بھی ایک ہی وسیلے سے پوری کی جا رہی ہیں۔

افغانستان کی اس 17سالہ جنگ کے دو سٹرٹیجک مقاصد تھے۔ ایک یہ ہے کہ افغانوں کو باہم لڑوا کر ان کی قوتِ مدافعت ختم کر دی جائے اور دوسرے ہمسایہ ملک پاکستان کے جوہری اثاثوں (نیوکلیئر وارہیڈز اور ڈلیوری سسٹم) کو ٹھکانے لگا دیا جائے۔۔۔ ان دونوں مقاصد (Missions) کو پاکستان کی مسلح افواج نے اپنے ہزاروں فوجی اور قوم نے سول پاکستانیوں کی قربانی دے کر ناکام بنا دیا ہے۔ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے منصوبے کو ناقابلِ عمل قرار دے دیا گیا تھا لیکن اب وہی منصوبہ بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد جب امریکہ کا آخری حربہ بھی فیل ہو جائے گا تو وہ اِکاّ دُکاّ چھاپہ مار حملے بھی ختم ہو جائیں گے جو آجکل ہمارے بلوچستان کے علاقوں میں بلوچستان نیشنل آرمی (BNA)وغیرہ کروا رہی ہے۔

امریکہ داعش کو افغانستان میں لاکر ایک اور ناکام تجربہ کررہا ہے۔ کرائے کے یہ سپاہی افغان طالبان سے تولڑ سکتے ہیں لیکن ایک ریگولر آرمی سے نہیں لڑسکتے۔ عراق میں اسی داعش کو استعمال کرکے دیکھا جا چکا ہے ۔لیکن ایران کی حمائت یافتہ ریگولر عراقی آرمی نے ان کو وہاں سے نکال باہر کیا تو یہ بدبخت شام میں چلے گئے۔ وہاں ان کو روسی اور ترک ٹروپس کا سامنا ہوا تو آجکل یہ افغانستان میں آئے ہوئے ہیں (یا آرہے ہیں۔)۔۔۔ لیکن کب تک؟۔۔۔

مشرق وسطیٰ اور افغانستان و پاکستان کی اس جنگ کو تاریخ میں ایک ایسی جنگ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس میں سٹیٹ آف دی آرٹ اسلحہ اور سامانِ جنگ کے ساتھ مسلح، امریکی افواج اور ان کے تربیت یافتہ افغان اور داعش ٹروپس کو نیم مسلح افغانوں کے ہاتھوں عبرت ناک شکست کا سامنا ہوا۔ کوریا 1950-53)ء( اور ویت نام 1964-74)ء( کی جنگوں میں امریکی فوج کے جانی نقصانات کے مقابلے میں 21ویں صدی کی اس طویل ترین امریکن وار میں اگرچہ امریکی ٹروپس کی ہلاکت کی شرح کم رہی لیکن زخمی فوجیوں کی تعداد کوریا اور ویت نام سے زیادہ تھی۔یہی وجہ ہے کہ امریکی عوام اس جنگ سے عاجزآچکے ہیں لیکن اس کے جرنیل اور ان کا کمانڈر انچیف کہتا ہے کہ : ’’اگر یہ جنگ ہم جیت نہیں سکتے تو ہار بھی افورڈ نہیں کرسکتے!‘‘۔۔۔یہ ایک ایسی نئی اور نرالی منطق ہے کہ دنیا کی طاقتور ترین فوج نے ’گھڑ‘ کر دنیا کے سامنے پیش کردی ہے کہ ہم درویش صفت افغانوں سے ہار جانے کا الزام اپنے سرلے کر کابل وقندہار سے واپس نہیں جا سکتے۔۔۔ دنیا کیا کہے گی؟

ڈھونڈ رہا ہے فرنگ، عیشِ جہاں کا دوام

وائے تمنائے خام! وائے تمنائے خام!!

اکتوبر2001ء میں شروع ہونے والی اس ’افغان وار‘ کو مشرق و مغرب کی نشریاتی نیوز ایجنسیاں کور (Cover) کررہی ہیں۔ الجزیرہ، بی بی سی، انڈی پنڈٹ، نیو یارک ٹائمز، نیوز 24، رائٹر،اے ایف پی (AFP)، ایشیاء نیوز اور یو ایس اے ٹو ڈے وغیرہ کے درجنوں نمائندے بڑے بڑے شہروں میں بھاری بھرکم کیمرے اٹھائے پھر رہے ہیں۔ ان کو اگرچہ امریکی محافظت حاصل ہے لیکن اس کے باوجود یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ آغازِ جنگ سے لے کر آج تک 11صحافی موت کی نیند سو چکے ہیں۔ آج افغانستان میں میڈیا کے درجنوں چینل ہیں (پرنٹ میڈیا کا بھی یہی حال ہے)جو دن رات فارسی، انگریزی اور پشتو زبانوں میں پل پل کی خبریں دے رہے ہیں۔

اہلِ مغرب اور انڈیا نے مل کر میڈیا نیٹ ورک کا یہ کھلواڑ اس لئے قائم کیا تھا کہ جب ایک دو برس میں افغانستان مطیعِ فرمان ہو جائے گا تو دوسری اور تیسری دنیا کے ممالک میں ہماری عسکری برتری کی دھاک بیٹھ جائے گی۔ ان کو کیا خبر تھی کہ افغانستان کے ننگ دھڑنگ مجاہدوں نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دینا ہے اور ثابت کر دینا ہے کہ:

اگر لہو ہے بدن میں تو خوف ہے نہ ہراس

اگر لہو ہے بدن میں تو دل ہے بے وسواس

ملا جسے یہ متاعِ گراں بہا، اس کو

نہ سیم و زر سے محبت ہے، نے غمِ افلاس

کوریا اور ویت نام کی جنگوں میں تو چین اور روس، کوریائی اور ویت نامی ٹروپس کی پشت پر تھے اور اس خطے کے زرد فام بونوں نے بھی سروقد امریکیوں کو چھٹی ساتویں وغیرہ کا دودھ یاد دلا دیا تھا لیکن پھر بھی یہ امریکی قوم ایک ایسی ’اُوت قوم‘ ہے جس کا کوئی سر پیر نہیں، طاقت کے نشے میں اندھی ہے اور نہیں دیکھتی کہ آگے گڑھا ہے یا کھائی اور کود جاتی ہے۔ پھر وہاں سے زخم زخم ہو کر نکلتی ہے تو دوسرے گڑھے اور دوسری کھائیاں تلاش کرنے پر کمر کَس لیتی ہے۔ ذرا ان کے صدر محترم کو دیکھیں کہ جو کچھ منہ سے بولتے ہیں، اسے تو لتے نہیں اور انجام کار تھوکا چاٹنا پڑتا ہے۔

اس جنگ میں، جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں۔ ہزاروں امریکی ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ اس کا سالانہ خرچہ 76 ارب ڈالر ہے اور آغازِ جنگ سے لے کر اب تک ایک ٹریلین 1000)بلین) ڈالر اس جنگ کی بھٹی میں جھونکے جا چکے ہیں۔ اندازہ کیجئے اگر پاکستان آرمی کو یہ بجٹ دے دیا جاتا اور کہا جاتا کہ افغانستان جیسے کسی ملک سے پاکستان دشمنوں کا خاتمہ کیا جائے تو اس کو 17برس نہیں، صرف 17ہفتے لگتے۔۔۔۔ذرا اس بات پر بھی غور کیجئے کہ آج پاکستان تقریباً دیوالیہ ہو چکا ہے یا ہونے والا ہے لیکن پھر بھی اس کا ٹوٹل قرضہ کتنے ارب ڈالر ہے؟

کسی نے بالکل سچ کہا ہے کہ غریبی بھی ایک نعمت اور ایک ایسا محرک (Catalyst) ہے جو انسان کی امکانی قوتوں کو مہمیز کرتا اور اسے ایسی عجب لذتِ آشنائی عطا کردیتا ہے جو اس کے دل کو دو عالم سے بیگانہ کر دیتی ہے۔۔۔۔ اور ہاں کسی نے یہ بھی بالکل سچ کہا ہے کہ جرات اور دولت دو ایسے پھول ہیں جو ایک ہی شاخ پر نہیں کھلتے۔ پاکستانی قوم کو اسی حقیقت کا سامنا ہے۔ لیکن ہمارے قومی شاعر نے جو فرما رکھا ہے تو ہمیں کیا غم؟

جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی

کھلتے ہیں غلاموں پر، اسرارِ شہنشاہی

مزیدخبریں