صوبائی دارالحکومت میں ہیلمٹ کے بغیر موٹرسائیکل چلانے پر پابندی، 22ستمبر کے بعد ایک ہزار جرمانہ ہوگا

صوبائی دارالحکومت میں ہیلمٹ کے بغیر موٹرسائیکل چلانے پر پابندی، 22ستمبر کے ...

لاہور(کرائم رپورٹر) صوبائی دارلحکومت لاہور میں 22 ستمبر کے بعد بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں چیف ٹریفک پولیس آفیسر لاہور نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ٹریفک پولیس اہلکار بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے والوں کو موقعہ پر ہی ایک ہزار روپیہ جرمانہ کر سکیں گے واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے بھی موٹر سائیکل سواروں پر پابندی کو لازم قرار دیتے ہوئے پابندی پر عملدرآمد کا حکم دے رکھا ہے۔سٹی ٹریفک پولیس لاہور نے عدالتی احکامات کی روشنی میں شہریوں کے محفوظ سفر کو یقینی بنانے کیلئے آگاہی مہم میں تیزی کر دی ہے،سی ٹی او کیپٹن (ر)لیاقت علی ملک نے روڈ سیفٹی یونٹ،روڈ سیفٹی آفیسرزاورڈی ایس پی صاحبان سمیت تمام افسران کو ہدایت کہ کی وہ ہیلمٹ کے استعمال کی افادیت بارے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ایجوکیٹ کریں،کا لجز ، یونیورسٹیز اور اکیڈمیز میں خصوصی لیکچرزکا اہتمام کیا جائے۔ اس کے علاوہ شہر کی مساجد میں نماز جمعہ کے وقت بھی شہریوں کو ہیلمٹ کے حوالے سے خصوصی پیغام دیا جائے۔الیکٹرانک میڈیا،پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ شہریوں کو آگاہی دی جائیگی،چوکوں میں موجود وارڈنز سگنلز پر کھڑے شہریوں کو ہیلمٹ کے استعمال کو یقینی بنائیں گے،شہریوں میں آگاہی پمفلٹس تقسیم کئے جائیں گے،سی ٹی او کیپٹن(ر)لیاقت علی ملک کا کہنا تھا کہ نویں ،دسویں محرم الحرام کے بعد 23ستمبر کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا جائیگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شہری اپنی سہولت کیلئے موٹر سائیکل تو خرید سکتے ہیں مگر اپنی حفاظت کیلئے ہیلمٹ کیوں نہیں،حادثات میں سر میں چوٹ لگنے سے اموات کی شرح سرفہرست ہے۔ہیلمٹ سر پر چوٹ لگنے سے محفوظ رکھتا ہے ۔

،شدید حادثہ کی صورت میں چوٹ کی شدت میں کمی کا باعث بنتا ہے ،سیفٹی ہیلمٹ کا استعمال گردن کی ہڈی کو ٹوٹنے سے محفوظ رکھتا ہے ،موسمی اثرات سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے ،ہیلمٹ کا استعمال سفر کو پْر اعتماد بناتا ہے ،انہوں نے کہاکہ ہیلمٹ کا استعمال MVO کی دفعہ 189 کے تحت لازمی قرار دیا گیاہے جبکہ ہیلمٹ کا استعمال MVO کی دفعہ 189-A کے تحت پچھلے سوار پر لازمی قرار دیا گیا ہے ۔

مزید : علاقائی