چودھری پرویز الٰہی سے وابستہ چند توقعات

چودھری پرویز الٰہی سے وابستہ چند توقعات
چودھری پرویز الٰہی سے وابستہ چند توقعات

  

میاں نواز شریف کے نااہل ہونے کے بعد شاہد خاقان عباسی نے وزارتِ عظمیٰ سنبھالی تو انھی دنوں نئی حکومت کے بارے میں بہت سی غیر مصدقہ اطلاعات آ رہی تھیں۔کبھی کہا جا رہا تھا کہ جوڈیشل مارشل لاء لگے گا۔ کبھی ٹیکنوکریٹس کو اقتدار میں لانے کی خبر اڑائی جاتی۔

کبھی کہا گیا کہ قاف لیگ کو دوبارہ میدان میں اتارا جائے گا۔ یہاں تک بھی کہا گیا تھاکہ عمران خان کی حکومت ہرگز نہیں بنے گی، بلکہ پنجاب میں قاف لیگ کے ذریعے نون کے جنون کو ختم کیا جائے گا۔

لاہور کے سابق ناظم میاں عامر محمود کا نام پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے لئے لیا جانے لگا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دن سپریم کورٹ میں پیشی کے دوران میں اینکرپرسن ڈاکٹر شاہد مسعود نے میاں عامر محمود کو مخاطب کرکے کہا تھا: ’’آپ اب پنجاب کے وزیراعلیٰ نہیں بن رہے‘‘۔

اس جملے سے یہ مطلب اخذ کیا گیا کہ شاید کہیں ان کے بارے میں ایسا سوچا جا رہا تھا لیکن بعد میں فیصلہ تبدیل ہو گیا۔ البتہ ایک بات طے ہوتی نظر آئی تھی کہ اور کچھ ہو نہ ہو، پنجاب میں قاف لیگ ہی برسرِ اقتدار ہو گی۔

شاید مقتدر قوتوں کی نظر میں قاف لیگ ہی نون کا توڑ ہو سکتی تھی۔

انتخابات کے بعد پنجاب میں بظاہر پی ٹی آئی کی حکومت ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اصل اقتدار مسلم لیگ قاف ہی کے پاس نظر آ رہا ہے۔ثبوت یہ ہے کہ بہت تھوڑی سیٹیں حاصل کرنے کے باوجود چودھری پرویز الٰہی، سپیکر شپ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اگر علیم خان پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے کامیاب ہو کر سینئر وزیر بن گئے ہیں تو سمجھیے کہ وہ بھی قاف لیگ ہی کے آدمی ہیں، کیونکہ مشرف دور میں وہ قاف لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے تھے اور کامیاب ہو کر صوبائی وزیر بنے تھے۔

اسی طرح پی ٹی آئی کے موجودہ صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال بھی اصل میں قاف لیگ ہی کے نمائندے ہیں۔ وہ بھی علیم خان کی طرح، مشرف دور میں صوبائی وزیر رہے ہیں۔ اس ضمن میں کئی اور وزراء کا نام بھی لیا جا رہا ہے جو ماضی میں قاف لیگ میں تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پنجاب کے موجودہ وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار بھی مسلم لیگ قاف سے تعلق رکھتے تھے۔

پی ٹی آئی کا جھنڈا تو انھوں نے تازہ تازہ اٹھایا ہے۔ میرے خیال میں انھیں بہت سوچ سمجھ کر وزارت اعلیٰ سونپی گئی ہے۔ جنھوں نے سوچا تھا کہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ قاف لیگ کو دی جائے گی انہوں نے سردار عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنا کر اپنی بات بھی پوری کر لی اور پی ٹی آئی کو بھی خوش کر دیا۔

تو قارئین! آپ ہی کہیے کہ ان حالات میں کیوں نہ چودھری پرویز الٰہی ہی کو اصل وزیراعلیٰ سمجھا جائے؟

چودھری پرویز الٰہی صاحب نے اپنی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں بہت سے اچھے کام کئے جن کی وجہ سے وہ آج بھی اچھے لفظوں میں یاد کئے جاتے ہیں۔

ان کے طرزِ حکمرانی کا خاصا یہ تھا کہ ہر شخص ، ہر طبقے، ہر جماعت اور ہر ادارے کی عزت کرو اور ان سب سے اپنی عزت کراؤ۔ مجھے نہیں یاد کہ کبھی انھوں نے بیورو کریسی کے کسی نمائندے کو کبھی ہتھکڑی لگوائی ہو یا انھیں کھڑے کھڑے معطل کر دیا ہو۔

ادیبوں شاعروں کی وہ بہت عزت کرتے تھے، مجھے یاد ہے کہ ان کے عہدِ اقتدار میں پنجاب کے ایک سرکاری افسر نے مجلسِ ترقی ء ادب کی گرانٹ بند کر دی تو (اس وقت) مجلس کے ڈائریکٹر احمد ندیم قاسمی صاحب استعفا دے کر گھر چلے گئے۔ جب پرویز الٰہی صاحب کو اس صورتِ حال کے بارے میں بتایا گیا تو انھوں نے نہ صرف یہ کہ مجلسِ ترقی ادب کی گرانٹ بحال کی بلکہ قاسمی صاحب سے معذرت بھی کی۔ یہ تو تھی ایک بہت بڑے ادیب کی عزت افزائی کی کہانی۔ مجھ خاکسار کی بھی سن لیجیے۔ میں ان دنوں بائیسکل سوار تھا۔ میوہسپتال پارکنگ کے ٹھیکیدار نے مجھ سے بدتمیزی کی۔ چودھری پرویز الٰہی کو جب اس معاملے کی اطلاع ملی تو انھوں نے ٹھیکے دار کا ٹھیکہ ہی منسوخ کر دیا اور اس وقت تک بحال نہ کیا جب تک ٹھیکے دار نے مجھ سے معذرت نہ کرلی۔ ادیبوں شاعروں کی محبت چودھری صاحب کے دل میں حسن رضوی نے پیدا کی تھی۔

انھوں نے نوے کی دہائی کے آغاز میں گجرات کے نت ہاؤس میں ایک عالمی مشاعرہ منعقد کیا تھا۔ میں اس کی مجلسِ استقبالیہ میں شامل تھے۔ اس مشاعرے میں خمار بارہ بنکوی، جگن ناتھ آزاد، منیرنیازی ، احمد ندیم قاسمی ، امجد اسلام امجد، عطاء الحق قاسمی، جمشید مسرور بھی تھے۔

اب مجھے توقع ہے کہ چودھری پرویز الٰہی صاحب اپنے پچھلے دور کے رُکے ہوئے منصوبوں پر توجہ دیں گے۔

ان میں سرفہرست پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن ہے۔2004ء میں شروع ہونے والے اس شاندار منصوبے کو بعد میں آنے والی حکومتوں نے نظر انداز کیا۔

ملازمین کی رقم جمع ہوتی رہی لیکن اس پر منافع لگنا بند ہو گیا۔ شہبازشریف دور میں ایک آئینی ترمیم کے ذریعے فیصلہ کیا گیا کہ ملازمین کو ریٹائرمنٹ پر مکان نہیں صرف پلاٹ دیا جائے گا۔ لوگوں کو ریٹائر ہوئے کئی کئی سال ہو چکے ہیں لیکن انھیں مکان تو کیا پلاٹ بھی نہیں ملا۔

چودھری صاحب سرکاری ملازمین کی اس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے معاملات کو ذاتی طور پر دیکھیں تو شاید پنجاب کے سرکاری ملازمین کی سُنی جائے۔

اسی طرح ڈبل ون ڈبل ٹو اور ٹریفک وارڈنز کے معاملات کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ باقی رہ جانے والے خلا پُر ہو سکیں۔ سنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی نئی بلڈنگ کی تعمیر کا کام جون 2019تک ہر حال میں مکمل کر لیا جائے گا۔

یہ منصوبہ بھی چودھری پرویز الٰہی نے شروع کیا تھا اس لئے نون لیگ نے اس پر کام روکے رکھا تھا۔ چودھری صاحب سے میں نے کچھ توقعات وابستہ کرلی ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ کب پوری ہوتی ہیں؟

مزید : رائے /کالم