حسن اور حسین نوازکا والدہ کی تدفین کیلئے وطن نہ آنے کا فیصلہ

حسن اور حسین نوازکا والدہ کی تدفین کیلئے وطن نہ آنے کا فیصلہ

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹوں حسن اور حسین نواز نے اپنی والدہ بیگم کلثوم نواز کی والدہ کی تدفین کیلئے پا کستا ن نہ آنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔بیگم کلثوم نواز لندن کے ہارلے سٹریٹ کلینک میں آج انتقال کر گئیں جس کے بعد ان کا جسد خاکی پاکستان لانے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا جبکہ حکومت نے شریف خاند ا ن کو تمام سہولیات دینے کا اعلان کر دیا۔ایون فیلڈ ریفرنس میں قید سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر نے پرول پر رہائی کیلئے درخواستیں دینے کافیصلہ کر لیا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے بھی ان درخواستوں کو منظور کئے جانے کی بات کی جا چکی ہے تاہم حسن اور حسین نواز کی قانونی مسائل کے باعث پاکستان واپسی پر کشمکش جاری تھی اور اب خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں نے پاکستان نہ آنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔حسن اور حسین نواز کیخلاف نیب میں متعدد ریفرنسز دائر ہیں اور دونوں کو اشتہاری بھی قرار دیا جا چکا ہے اس لئے اگر دونوں واپس آئے تو قانون کے مطابق انہیں گرفتار کر نا ہو گا البتہ اگر حفاظتی ضمانت دیدی جائے تو پھر گرفتاری عمل میں نہیں لائی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا جس کے بعد حسن اور حسین نواز نے اپنی والدہ بیگم کلثوم نواز کی تدفین میں شرکت کیلئے پاکستان نہ آنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

حسن،حسین فیصلہ

اسلام آباد (این این آئی) سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے کہاہے بیگم کلثوم نواز شوہر اور بیٹی کی جیل میں قید سے لاعلم تھیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے انکشاف کیا ہے بیگم کلثوم نواز آخری وقت تک اپنے شوہر نوازشریف اور بیٹی مریم نواز کے جیل میں ہونے کے بارے میں لا علم تھیں ، جب سے ان کو ہوش آیا تھاوہ اشاروں میں بات کرنے کے قابل ہوگئی تھیں، وہ اکثر مریم اور نواز شریف کے بارے میں پوچھا کرتی تھیں اور کہتی تھیں وہ بات کیوں نہیں کرتے ۔ انہوں نے کہا انتقال سے ایک روز قبل بھی والدہ نے نواز شریف اور مریم نوازکے بارے میں پوچھا تھا۔

مزید : صفحہ اول