زکریا یونیورسٹی ، ڈسپلن کمیٹی ان ایکشن پر تشدد واقعہ می ں ملوث 11سٹوڈنٹس ، سکیو رٹی گارڈ معطل

12 ستمبر 2018

ملتان ( سٹاف رپورٹر)بہاالدین زکریا یونیورسٹی کی ڈسپلن کمیٹی نے پرتشدد واقعہ میں ملوث 11طلبا اورغفلت کے مرتکب سکیورٹی (بقیہ نمبر40صفحہ7پر )

گارڈ کو معطل کر دیاہے ۔وی سی نے یونیورسٹی کی بدنامی کا باعث بننے والے واقعہ پر سخت ترین فیصلوں اور کارروائی کا فیصلہ کرلیا ۔تشدد پسند طلبا کے سرپرستوں کے خلاف بھی شکنجہ کسنے کی تیاریاں کرلی گئیں ۔تفصیل کے مطابق زکریا یونیورسٹی انتظامیہ نے گورنر پنجاب و چانسلرکوبھجوائی گئی پرتشدد واقعات کی رپورٹ میں لڑائی کی وجوہات بتائیں اور کارروائی کے بارے میں آگا ہ کیا ہے ۔گزشتہ روزڈسپلن کمیٹی نے جھگڑے میں ملوث طلبا کو 15 دن کیلئے معطل کردیا اور انکوائری کمیٹی کے روبرو پیش ہونے کے لئے نوٹس جاری کر دئیے ۔رولز کے مطابق ان طلبا کو 15 روز سے ز ائد معطل نہیں کیاجاسکتا۔انہیں ذاتی شنوائی کا موقع دیاجائے گا اور پھر ان کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کیاجائے گا۔ وی سی پروفیسر ڈاکٹر طاہر امین گزشتہ روز یونیورسٹی آئے اور یونیورسٹی کے سکیورٹی معاملات پر فوکس کیا ۔ انہو ں نے سکیورٹی معاملات پر کسی بھی قسم کا کمپرومائز نہ کرنے کا حکم دیا اور اس سلسلے میں درپیش مشکلات سے گورنر و چانسلر کو آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ یونیورسٹی میں پر تشدد واقعات کی روک تھام کے سلسلے میں کل بروزجمعرات ڈسپلن کمیٹی کا پھر اجلاس ہوگا۔رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر عمر چوہدری لاہور کیمپس کیس کے سلسلے میں ہائیکورٹ پیشی کے سلسلے میں گزشتہ روز لاہور روانہ ہو گئے ۔ وہ آج واپس آجائیں گے اور کل ڈسپلن کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔ بتایا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں پرتشدد واقعہ کے حوالے سے گزشتہ روز بھی طلبا وطالبات خوف و ہراس میں مبتلا رہے ۔ خصوصاً بہیمانہ تشدد و سلوک کے حوالے سے احساس عدم تحفظ میں مبتلا رہے۔ اس بارے میں طلباو طالبات نے کہا ہے کہ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں نئے تعلیمی سیشن کا آغاز ہوتے ہی لڑائی جھگڑوں کے فسادات رونما ہونا یونیورسٹی سکیورٹی پر سوالیہ نشان ہے جس کی وجہ سے عام طلبہ میں شدید خوف مبتلا ہوگئے ہیں لڑائی جھگڑوں کے واقعات دیکھ کر داخلوں پر بہت بْرا اثر پڑے گا ۔آج طالب علم پر بدترین تشدد اور تذلیل کی گئی ہے ۔ کل کو یہاں قتل ہو جائیں گے تو اس کا کیا حل ہے ۔یاد رہے ہرسال جب بھی ایڈمیشن شروع ہوتے ہیں لڑائی جھگڑوں کے واقعات رونما ہونے شروع ہوجاتے ہیں جوکہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوتے ہیں لڑائی جھگڑوں میں ملوث طلبہ کی اکثریت کو یونیورسٹی انتظامیہ پہلے ہی یونیورسٹی سے خارج کرچکی ہے اور ان کے یونیورسٹی میں داخلہ پر پابندی ہے مگر سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ ایسے طلبہ یونیورسٹی میں کیسے آجاتے ہیں۔ ان کو یونیورسٹی کی سکیورٹی کیوں نہیں روک پاتی ۔یونیورسٹی اوپن ہوئے ایک ماہ کا عرصہ ہوا ہے اور لڑائی جھگڑوں کے ایک درجن سے زائدواقعات رونما ہوچکے ہیں جو یونیورسٹی کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے جب یہی بدمعاش طلبہ عام طلبہ کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں تو جب یونیورسٹی انتظامیہ کو درخواست دی جاتی ہے تو انتظامیہ کا موقف ہوتا ہے کہ انتظامیہ ان طلبہ کو یونیورسٹی سے پہلے ہی خارج کرچکی ہے۔ اب مزید کوئی کارروائی نہیں کر سکتی پھر کیا عام طلبہ کو ایسے مجرمانہ ذہنیت کے حامل طلبہ کے رحم وکرم پر چھوڑدیا جائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے یونیورسٹی میں تصادم کی رپورٹ لینا خوش آئند ہے ۔ طلبا وطالبات نے مطالبہ کیا کہ طلبہ جن کا تعلیم سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں‘ ان سے یونیورسٹی کو پاک کیا جائے اور طلبہ طالبات کو پرامن تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے۔ یاد رہے لڑائی جھگڑوں میں ملوث طلبہ کئی معصوم طلبہ پر تشدد میں ملوث ہیں۔ بہاالدین زکریا یونیورسٹی میں بدمعاش طلبا اور آؤٹ سائیڈرز کی جانب سے طالبات کے ساتھ بدتمیزی کے متعدد واقعات بھی پیش آچکے ہیں ۔طالبات پر آوازے کسے جاتے ہیں۔قوم کی بیٹیوں کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات پر بھی یونیورسٹی میں طلبا کے مابین کئی خونیں جھگڑے ہو چکے ہیں لیکن ایسے واقعات کی روک تھام نہیں ہو سکی ہے۔ بیشتر طالبات اپنی عزت کی خاطر خاموشی اختیار کرلیتی ہیں کیونکہ بدمعا ش طلبااور آؤٹ سائیڈرز کا آج تک کوئی حل نہیں نکالا جاسکاجن کے لمبے ہاتھ ہیں ۔ سیاسی پشت پناہی کے باعث وہ قانون کو ہاتھ میں لینے کے عادی ہیں۔یونیورسٹی میں 400کے لگ بھگ سکیورٹی گارڈز ہیں ۔ ان کی موجو دگی میں عام طلباوطالبات خود کو بے آسرا اور عدم تحفظ کا شکار محسوس کرتے ہیں اور خوف کی فضا میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔بہاالدین زکریا یونیورسٹی میں شرپسند طلبا اور آؤٹ سائیڈرز کی ’’مرمت‘‘ کی تجویز پیش کر دی گئی ۔ بتایاگیا ہے کہ یونیورسٹی کے ایک ذمہ دارآفیسر نے تجویز پیش کی ہے کہ ادارے کا ماحول تباہ کرنے والے شرپسند عناصر کو سبق سکھانے اور دوسروں کے لئے عبرت کا باعث بنانے کے لئے شرپسند طلبا اور آؤٹ سائیڈرز کی سکیورٹی گارڈز کے ذریعے موقع پر ہی ’’دھلائی ‘‘ کرائی جائے ۔ان پر لاٹھی چارج کیاجائے کیونکہ غنڈہ عناصر تشدد کرکے بھاگ جاتے ہیں اور پھر قوانین میں سقم کی آڑ لیتے ہیں ۔موثر کارروائی نہ ہونے کے باعث ان کے حوصلے بلند ہیں۔ تشدد کا واقعہ ہونے پر آنسو گیس کے استعمال کی اجازت لینے کی تجویز بھی زیر غور ہے ۔کیونکہ سکیورٹی گارڈز کو اسلحہ کے استعمال کی اجازت نہیں ہے نہ ہی وہ غنڈہ عناصر پر تشدد کر سکتے ہیں۔

معطل

مزیدخبریں