جامعہ زکریا ، نامزد ملزم بدستور آزاد ، پولیس سے ڈیل کے بعد 5سٹوڈنٹس کی عبوری ضمانت منظور

جامعہ زکریا ، نامزد ملزم بدستور آزاد ، پولیس سے ڈیل کے بعد 5سٹوڈنٹس کی عبوری ...

ملتان(وقائع نگار) ضلعی پولیس کی ناقص حکمت عملی جامعہ زکریامیں طلباء کی تنظیموں کے مابین تصادم کے واقعہ میں نامزد ملزمان میں سے ایک بھی ملزم 96گھنٹے گزرنے کے باوجود گرفتار (بقیہ نمبر52صفحہ7پر )

نہ ہوسکا۔بااثر ملزمان نے پولیس سے ڈٖیل کر لی5طلباء نے عدالت سے عبوری ضمانت منظور کروالی۔جبکہ ایس پی سمیت پولیس کی بھاری نفری بہاوالدین زکریا یونیورسٹی میں صرف ڈیوٹی ٹائم پہاس کرنے میں مصروف آنے لگے۔واضح رہے کہ جمعہ کے روزبہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں کرسی پر بیٹھنے کے تنازعہ پردو طلباء تنظیموں کے مابین جھگڑا ہوگیا۔جس پر طلباء مہر نوید،وقاص گجر،رمضان ہراج سمیت 23افراد نے مل کر خلیل احمد کو بیہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور اس تمام واقعہ کی تصاویر اور ویڈیو کلپ بھی بنالیاگیا۔عمر ہال میں مذکورہ طلباء نے مسلح ہو کر توڑ پھوڑ بھی کی ،خوف وہراس پھیل گیا۔لڑائی کے دوران سریوں کے وار کر کے زخمی کیاگیا۔اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئیں ۔جنہوں نے موقع پر سے شواہد اکٹھے کیے اور واقع میں ملوث 23افراد کے خلاف 337-F-337Aاور 148/149کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔مذکورہ کا نوٹس وزیراعلی پنجاب اور گورنر پنجاب نے بھی لیا۔جس کے بعد سی پی او ملتان منیر مسعودمارتھ نے جی ٹی ٹی کے ذریعے عمرہال اور عثمان ہال ودیگر متعلقہ ملحقہ ڈیپارٹمنٹس کا سرچ آپریشن بھی کروایا۔جبکہ اس قبل ملزمان گرفتاری کے خوف سے موقع سے فرار ہوگئے۔یہاں پولیس ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کے ایک انتظامی عہدے پر فائز افسر اعلی یونیورسٹی حکام کو بلیک میل کرنے کیلئے بلوچ طلباؤتنظیم کی سرپرستی بھی کرتا ہے،جو جان بوجھ کر ایک ہفتہ کے اندر اس طرح کے 3واقعات رونما کروا چکا ہے۔یہ ہی افسر بی زیڈ یو کے اندر کا ماحول خراب کرانے پر تلہ ہوا ہے۔کیونکہ یہ افسر اپنی اجارہ داری چاہتا ہے اور مقدمہ میں نامزد ملزمان کو گرفتاری سے قبل بھی انکو اطلاع دیکر فرار ہونے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ضلعی پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ نے ابتدائی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی اپنی رپورٹ وزیراعلی اور گورنر کو بھجوائی ہے۔جبکہ مقامی پولیس اور ایس پی صرف بی زیڈیو میں امن امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں ۔بااثر ملزمان گرفتار نہ ہوے بلکہ پولیس کی مبینہ ملی بھگت کے باعث قانونی پیچیدگیوں کا فائدہ اٹھانے کی غرض سے عدالت سے عبوری ضمانتیں منظور کروالیں ہیں اور تفتیش کا سلسلہ جاری ہے

مزید : ملتان صفحہ آخر