ٹاؤن ون ، پشاور کا ایک ارب 64کروڑ 85ہزار کا بجٹ پیش

ٹاؤن ون ، پشاور کا ایک ارب 64کروڑ 85ہزار کا بجٹ پیش

پشاور( سٹی رپورٹر)ٹاؤن ون پشاور کے لئے مالی سال 2018-19ء کا ایک ارب، 25 کروڑ،64 لاکھ، 85 ہزار روپے مالیت کا بجٹ پیش کردیا گیاہے جو اخرجات کے مقابلے میں زائد آمدن ہونے کے باعث فاضل بجٹ ہے جس میں ٹوٹل اخراجات کا تخمینہ ارب، 25 کروڑ،39 لاکھ اور19ہزار روپے ٹوٹل اخراجات ظاہر کیا گیاہے تاہم کونسل ممبران نے ناظم کی جانب سے بجٹ میں ترقیاتی فنڈ اور بیوٹیفیکشن کے 1کروڑ21 لاکھ روپے برابری کی بنیاد پر ممبران پر تقسیم کرنے کے واضح طور پر بجٹ میں درج نہ ہونے پر ممبران نے بجٹ پاس نہیں کیا جس پرکنونیئر محمد شعیب بنگش نے اگلے منگل کے روز تک اجلاس ملتوی کرتے ہوئے ناظم اور انتظامیہ سے ممبران کو ترقیاتی فنڈ برابری کی بنیاد پر تقسیم کرکے واضح طور پر بجٹ میں درج کرنے کے بعد بجٹ پاس کرنے سے مشروط کردی ہیں۔ ناظم زاہد ندیم نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہاکہٹاؤن ون کو محصول چونگی سے 33کروڑ،60لاکھ ،50 ہزار روپے آمدنی، ترقیاتی کاموں کے لئے صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ سے19کروڑ،71لاکھ ،19ہزار روپے، ٹاؤن کے لوکل فنڈ سے ذرائع آمدن 24کروڑ،46 لاکھ،77ہزار روپے، یو آئی پی ٹیکس سے 18 کروڑ،50 لاکھ روپے، دیگر آمدنی 54لاکھ،60ہزا روپے جبکہ اکاؤئنٹ میں پڑے فنڈ 28کروڑ، 81لاکھ اور79 ہزار روپے ہیں جوکہ کل آمدن ایک ارب، 25 کروڑ،64 لاکھ، 85 ہزار روپے آمدنی بنتی ہیں جبکہ ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 31 کروڑ،71لاکھ19 ہزار روپے ، غیر ترقیاتی اخراجات 80 کروڑ، 70لاکھ، 25 ہزار روپے اور نامکمل منصوبوں کو مکمل کرنے کے لئے 8 کروڑ روپے جبکہ صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ میں مالی سال 2014-15 اور2015-16ء میں صوبائی حکومت کی جانب سے نامکمل ترقیاتی کام اور دفتر کے تعیمر کے لئے 99کروڑ،77لاکھ اور 5ہزار روپے فنڈ مختص کردی ہیں جوکہ کل اخراجات1 ارب، 25 کروڑ،39 لاکھ اور19ہزار روپے ٹوٹل اخراجات بنتی ہیں۔ ناظم نیکہاکہ ٹاؤن ون کونسل پشاور کا چوتھا بجٹ عوام کے امنگوں کے مطابق بنایاہے اور بلدیاتی منتخب نمائندوں سے عوام کو بنیادی سہولیات گھروں کی دہلیز پر پہنچائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی نے بلدیاتی نظام تین بااختیار کونسلوں میں تقسیم کردیاہے جس میں دیہی وشہری کونسل، تحصیل وٹاؤنز کونسل، ضلع کونسل شامل ہیں، پشاور ٹاؤن ون پشاورکاصدر مقام اور گنجان ٹاؤن ہے جس کو ہر لحاظ سے نمبر ون رکھا ہے لیکن تلخ حقیقت بھی ہے کہ ٹاؤن ون پشاور کے مسائل دیگر ٹاؤنز کی نسبت زیادہ ہے جس کو حل کرنے کے لئے چیلنجز موجود ہے۔ بجٹ پر بحث کرتے ہوئے پی ٹی آئی ممبر عرفان سلیم نے کہاکہ پچھلے سال انتظامیہ اور ناظم کی کوتاہی سے ترقیاتی فنڈ لپیس ہوچکاہے اور موجودہ مالی کے بجٹ میں ترقیاتی بجٹ ممبران کے لئے برابری کی بنیاد پر مختص کیا جائے۔ انہوں نے کہاکپ یو آئی پی ٹیکس میں چھ لاکھ روپے اضافہ کم ہے اور ایکسائز ڈیپارنمنٹ کے ساتھ ٹاؤن ون فنانس ڈیپارنمنٹ معاملہ اٹھائے جس پر ٹاؤن فنانس آفیسر نے شوکت خان نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ یو آئی پی ٹیکس میں ایکسائز کو 15 فیصد سروس چارجز جبکہ 75فیصد ٹاؤن ون کو مل رہی ہے جس کا باقاعدہ چیکس اینڈ بیلنس کا طریقہ کار صوبائی فنانس کمیشن نے وضع کیاہے ۔ پی ٹی آئی ممبر ظاہر شاہ بنگش نے کہاکہ ترقیاتی یکمشت ٹینڈر کرکے ورک آڈر ایشوء کیا جائے تاکہ گلی کوچے اور سٹریٹ لائٹس کی تنصیب کاکام کیا جاسکے۔ نعیم اللہ نے صوبائی حکومت سے ٹاؤن ون کے لئے خصوصی فنڈ حاصل کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ اپوزیشن لیڈر ولی محمد مہمند نے کہاکہ ناظم ٹاؤن ون و پی ٹی آئی کونسل ممبران وزیر بلدیات سے ٹاؤن ون کے لئے میگا پراجیکٹ لائے تاکہ شہر کی ترقی ممکن ہوسکیں۔ عرفان سلیم نے کہاکہ ٹاؤن ون کے لیگل ایڈوائز کی تنخواہ بند کی جائے کیونکہ پردہ باغ اور آسیہ شادی ہال پر تین سال سے حکم امتناحی خارج نہ کرسکی اور 26 کنال 4مرلہ پردہ باغ کی اراضی 44ہزار روپے ماہانہ کرایہ پر کوڑیوں کے دام حکم امتناحی لینے والے ٹھیکہ دار استعمال کررہاہے۔ انہوں نے معمولی مرمت کے کام کے لئے1کروڑ،30 لاکھ روپے مختص کرنے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیاہے جس پر ٹی ایم او خضرحیات شاہ نے کہاکہ مذکورہ رقم ایمرجنسی کے لئے رکھاہے تاہم عرفان کہاکہ ترقیاتی کاموں کے لئے لوکل فنڈ استعمال کرنے پر پابندی ہے اور وہی ایمرجنسی کاموں کے لئے استعمال کرے ۔ عرفان سلیم نے کہاکہ پی ٹی آئی وفاق اور صوبوں میں برسراقتدار آگئی ہے اور نئی پاکستان کی اشروعات ہے اور پچھلے سال جو ایڈمنسریٹریوں غلطیوں سے 7 کروڑ روپے ترقیاتی فنڈ لپیس ہوگئی ہے اب ایسے کارنامے برداشت نہیں کرینگے۔ پی ٹی آئی ممبر ملک اسلم نے کہاکہ پچھلے سال بجٹ سے ایک روپے ترقیاتی کاموں میں خرچ نہ ہوسکا لیکن اس دفعہ بجٹ تب پاس کرینگے جب تک تمام ممبران کو ترقیاتی فنڈ مختص نہ ہوں۔ پی ٹی آئی ممبر سلطان زیب نے کہاکہ ٹھیکہ دار کو ٹھیکہ لینے کے بعد مقررہ وقت میں کام مکمل کرنے کا پابند کیا جائے اور ناظم ونائب ناظم ایک سال کی تنخواہ ڈیم بنانے کے لئے عطیہ کرے۔ ناظم زاہد ندیم نے پردہ باغ حکم امتناحی تین سال میں خارج نہ کرنے پر وکلاء پر کونسل کا اعتماد نہیں ہے اور لوکل کونسل بورڈ سیکرٹری سے لیگل ایڈوائز فارغ کرنے پر بحث کردی ہے اور کونسل کے پاس اختیار ہے کہ لیگل ایڈوائز فارغ کرے۔ انہوں نے کہاکہ سابق صوبائی حکومت کچی آبادی کے لئے 3 کروڑ روپے فنڈ دینے کا اعلان کیاہے جو فائل ابھی زیر گردش ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بلدیاتی الیکشن کے پہلے دو سال ہر ممبر نے ڈیڑھ ڈیڑھ کروڑ فنڈ لگایا ہے جبکہ تیسرے سال کی پی ایف سی قسط 60 فیصد فنڈ کے استعمال سے صوبائی حکومت نے مشروط کیا تھا جس کی وجہ سے پی ایف سی فنڈ نہ مل سکا اور جب فنڈ ریلیز ہوا تو عام اتنخابات کی وجہ سے ترقیاتی فنڈ کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی جس کے باعث ممبران کے ترقیاتی کام نہ ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ ممبران گلی کوچوں کی تعمیر کی بجائے شہر کی خوبصورتی پر ترقیاتی فنڈ خرچ کرے۔ پی ٹی آئی خاتون ممبر نازک بی بی نے ترقیاتی فنڈ میں خواتین ممبران کے لئے فنڈ مختص کرنے کا مطالبہ کیاہے جبکہ ایک کروڑ 21 لاکھ روپے بیوٹیفیکشن فنڈ تمام ممبران پر برابری کی بنیاد پر تقسیم کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ اقلیتی ممبر چرن سنگھ نے ترقیاتی فنڈ میں اقلیتی برادری کے مسائل کے حل کے لئے فنڈ مختص کرنے کا مطالبہ کیاہے ۔ پی ٹی آئی ممبر عزیزصافی نے کہاکہ بیوٹیفیکشن کے لئے وزیراعلیٰ اور وزیراعظم سے خصوصی فنڈ لیں اور بیوٹیفیکشن کی بجائے گلی کوچوں کی تعمیر کے لئے فنڈ دیا جائے۔ پی ٹی آئی ممبر عرفان سلیم نے کہاکہ بیوٹیفیکشن کے نام پر ہر ممبر کے ترقیاتی فنڈ سے چار چار لاکھ روپے کاٹے گئے ہیں وہ واپس کیا جائے پی اینڈ ڈی گائیڈ لائن کے مطابق پی ایف سی فنڈ کے پانچ فیصد بیوٹیفیکشن فنڈ تمام یونین کونسلوں میں برابر تقسیم کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ بیوٹیفیکشن کا یہ حال ہے کہ ملک اسلم نے شاہی باغ میں پودے لگائے جو مالیوں کی غفلت سے ضائع ہوگئے۔ تمام ممبران ترقیاتی فنڈ برابری کی بنیاد پر تقسیم کے لئے ڈٹ گئے جس پر کنونیئر محمد شعیب بنگش نے اگلے منگل کے روز بجٹ پاس کرنے زیر التواء رکھ کراس سے قبل بجٹ میں تمام ممبران کو برابری کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے احکامات جاری کی اورکونسل اجلاس آئندہ منگل 18 ستمبر تک ملتوی کردیاہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر