یکم محرم، خلیفہ دوم حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا یوم شہادت

یکم محرم، خلیفہ دوم حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا یوم شہادت
یکم محرم، خلیفہ دوم حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا یوم شہادت

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک)آج خلیفہ دوم حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یوم شہادت ہے،فاروق اعظم کا لقب پانے والے خلیفہ دوم کے اسلام قبول کرنے سے مسلمانوں کو نئی قوت حاصل ہوئی۔

خلیفہ دوم حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو مرادرسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کا اعزاز حاصل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہوتے‘‘۔

ان کی کئی آراء کو ایسی قبولیت حاصل ہوئی کہ ان کی تائید میں آیات قرانی کانزول ہوا، جن میں مسجد حرام میں مقام ابراہیم پر نماز پڑھنے، شراب کو حرام قرار دینے اور پردے کے حوالے سے آراء شامل ہیں۔

نظام عدل، زرعی و مالیاتی اصلاحات، جیلوں، سراؤں اورآبپاشی کے نظام سمیت درجنوں شعبوں کی بنیاد اور ترقی کا سہرا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سر ہے۔

ان کے دورِ خلافت میں قانون کی حکمرانی اور عدل و انصاف کا یہ عالم تھا کہ دنیا میں ان کی پہچان حق و باطل میں فرق کرنے والے فاروق کے نام سے ہوئی۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سجدے کی حالت میں تھے کہ حملہ آور نے خنجروں کے وار کر کے ان کو زخمی کیا اور یکم محرم الحرام کو فاروق اعظم اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

انہیں آقائے دوجہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں ابدی نیند سونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

مزید : قومی