” میاں نواز شریف نے وضو کیا، قرآن مجید مانگا اور نماز پڑھنے کے بعد فرش پر لیٹ کر۔۔۔“سابق وزیراعظم کے بارے میں ایسا انکشاف کہ آپ کی بھی حیرت کی انتہاءنہ رہے گی

” میاں نواز شریف نے وضو کیا، قرآن مجید مانگا اور نماز پڑھنے کے بعد فرش پر لیٹ ...
” میاں نواز شریف نے وضو کیا، قرآن مجید مانگا اور نماز پڑھنے کے بعد فرش پر لیٹ کر۔۔۔“سابق وزیراعظم کے بارے میں ایسا انکشاف کہ آپ کی بھی حیرت کی انتہاءنہ رہے گی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم نوازشریف کی اہلیہ کلثوم نواز انتقال کر گئیں ہیں اور شریف خاندان کے تینوں افراد کو اڈیالہ جیل سے پے رول پر جاتی امراءپہنچا دیا گیاہے او رتین کمروں کو سب جیل قرار دیدیا گیاہے اور کلثوم نواز کی میت کل صبح پاکستان لائی جائے گی اور جاتی امراءمیں میاں محمد شریف کے پہلو میں ہی دفن کیا جائے گا۔

نجی اخبار جنگ میں ”مرزا اشتیاق بیگ “ نے کالم لکھاہے جس میں انہوں نے بتایا کہ 13 جولائی کو جب نواز شریف کو اڈیالہ جیل لایا گیا تو انہیں جیل میں سی کلاس دی گئی، بیرک میں کوئی چارپائی اور نہ ہی کوئی گدا تھا جبکہ بیرک کے باہر باتھ روم انتہائی گندا تھا۔ بیرک میں ایک بہت پرانا پنکھا نصب تھا جو گرم ہوا پھینک رہا تھا۔ میاں نواز شریف نے وضو کیا، قرآن مجید مانگا اور نماز پڑھنے کے بعد فرش پر لیٹ کر رات گزاری۔ وہ رات بھر پسینے میں شرابور رہے اور دوسرے دن جب شریف فیملی کے افراد ملاقات کیلئے آئے اور انہوں نے نواز شریف کی یہ حالت دیکھی تو یہ بات میڈیا پر لیک ہوئی تو نواز شریف کو بی کلاس میں منتقل کیا گیا جہاں انہیں ایک چارپائی کی سہولت حاصل تھی جبکہ کمرے سے منسلک ایک باتھ روم بھی تھا جو انتہائی بدبو دار تھا۔ نواز شریف کو کھانا جیل کا ملتا تھا مگر وہ جیل کا پانی نہیں پیتے تھے جس کے باعث انہیں گردے کا مرض لاحق ہوگیا اور ان کی طبیعت تشویشناک حد تک بگڑگئی اور ڈاکٹروں کے مطابق گردے کسی وقت بھی فیل ہوسکتے تھے، اسپیشلسٹ نے میاں نواز شریف کو اسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا مگر جیل حکام نے ہدایت پر عمل کرنے سے انکار کردیا۔ الیکشن کے بعد میاں نواز شریف کی طبیعت مزید بگڑتی چلی گئی، یہاں تک انہیں ہارٹ اٹیک ہوا اور ڈاکٹرز نے انہیں اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی مگر نواز شریف نے اسپتال شفٹ ہونے سے صاف انکار کردیا۔ بعد ازاں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے اصرار پر نواز شریف کو پمزاسپتال کے سی سی یو میں منتقل کیا گیا۔ کچھ روز بعد جب نواز شریف کی حالت بہتر ہوئی تو وہ اس بات پر بضد رہے کہ وہ اسپتال میں نہیں رہنا چاہتے اور انہیں جیل منتقل کیا جائے۔ اس طرح میاں نواز شریف کو دوبارہ جیل پہنچا دیا گیا۔

مزید : قومی