غیرمعیاری میڈیکل کالج سے آنیوالے ڈاکٹرزکوبلڈپریشردیکھنانہیں آتا،چاہتے ہیں کم اخراجات میں اچھے ڈاکٹرسامنے آئیں:چیف جسٹس

غیرمعیاری میڈیکل کالج سے آنیوالے ڈاکٹرزکوبلڈپریشردیکھنانہیں آتا،چاہتے ہیں ...
غیرمعیاری میڈیکل کالج سے آنیوالے ڈاکٹرزکوبلڈپریشردیکھنانہیں آتا،چاہتے ہیں کم اخراجات میں اچھے ڈاکٹرسامنے آئیں:چیف جسٹس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پرائیویٹ میڈیکل کالجزکی زائدفیس وصولی سے متعلق کیس کی سماعت میں چیف جسٹس نے ریگولیشنزکامعاملہ آئندہ پیرتک طے کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ غیرمعیاری میڈیکل کالج سے آنیوالے ڈاکٹرزکوبلڈپریشردیکھنانہیں آتا،چاہتے ہیں کم اخراجات میں اچھے ڈاکٹرسامنے آئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پرائیویٹ میڈیکل کالجزکی زائدفیس وصولی سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی۔اس موقع پر چیف جسٹس ثاقب نثارنے ریمارکس دیئے کہ غیرمعیاری ڈاکٹربنیں گے توہماراعلاج کون کرے گا؟غیرمعیاری میڈیکل کالج سے آنیوالے ڈاکٹرزکوبلڈپریشردیکھنانہیں آتا،چاہتے ہیں کم اخراجات میں اچھے ڈاکٹرسامنے آئیں،نجی کالجز کے بغیرمیڈیکل کاشعبہ آگے نہیں چل سکتا،عدالتی کارروائی کامقصدیہی ہے کہ کوتاہی کودورکیاجائے اورنجی کالجزمیں داخلہ فیس کامعاملہ طے ہوگیاہے، میڈیکل کالجزداخلہ فیس 9 لاکھ 50 ہزارروپے میں طے ہواہے،درخواست ہے فیس 9 لاکھ مقررکرلیں۔جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ فیس 9 لاکھ 50 ہزار سے کم کرناممکن نہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ چلیں 9 لاکھ 50 ہزار ہی طے کر لیتے ہیں،دوسری طرف میڈیکل کالجزمیں داخلے بھی شروع ہیں،ریگولیشنزکامعاملہ آئندہ پیرتک طے کرلیں۔جس پرسپریم کورٹ نے سماعت پیرتک ملتوی کردی۔

مزید : قومی /جرم و انصاف /علاقائی /اسلام آباد