دور آمریت میں کلثوم نواز سے میری پہلی ملاقات

دور آمریت میں کلثوم نواز سے میری پہلی ملاقات
دور آمریت میں کلثوم نواز سے میری پہلی ملاقات

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کلثوم نواز سے میری پہلی ملاقات اٹک کے سابق ایم این اے شیخ آفتاب احمد کی رہائش گاہ پر ہوئی تھی۔ ان دنوں مشرف کا اقتدار سوا نیزے پر تھا۔ معزول وزیر اعظم نواز شریف اٹک قلعہ میں بند تھے۔ کیسا اتفاق ہے ،نوازشریف اس وقت بھی اندر تھے اور وہ میدان سیاست میں تھیں اور میاں نواز شریف اب بھی جیل میں ہیں جب وہ میدان حشر کا زاد سفر سمیٹ کر رخصت ہوگئی ہیں۔مشرف دور میں ایک آمر کا خوف اس قدر تھا کہ سیاست دان اپنے سایے سے بھی ڈرنے لگے تھے۔ شیخ آفتاب احمد کے ساتھ میرے تعلقات کبھی بھی خوش گوار نہیں رہے لیکن اس نازک ترین دور میں جب لیگی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے تھے انہوں نے میاں خاندان کی میزبانی کرکے بلاشبہ انتہائی دلیری کا ثبوت دیاتھا۔ شیخ آفتاب کی اس ہمت اور استقامت کا مآخذ ان کی زوجہ بیگم خالدہ آفتاب تھیں جنہوں نے مشکل کی اس گھڑی میں اپنے محسنوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا اور ہر خمیازہ بھگتنے کیلئے تیار ہوگئیں ۔بیگم کلثوم نواز ان سے بہت محبت کرتی تھیں اور یہ قربانی میاں خاندان آج تک بھلا نہیں سکا۔

کلثوم نواز کے ساتھ پہلی نشست میں ہم گنے چنے صحافی تھے ۔میں نے ایک دو چھبتے ہوئے سوال بھی کئے ۔میرا خیال تھا کہ ایک گھر یلو عورت کو تیکھے سوالوں سے چراغ پاکیا جاسکتا ہے اور خبر تب ہی بنتی ہے جب گفتگو کرنے والا غصے کی چادر اوڑھ لے مگر اس پہلی ہی ملاقات میں وہ مجھے ایک زیرک سیاست دان دکھائی دیں جو اپنے مقصد سے رتی برابر ادھر اْدھر نہ ہوئیں ۔انہوں نے اپنا بیانیہ بغیر کسی خوف کے ہم تک پہنچایا۔ بعد میں انہوں نے مجھے بلایا میرا نام پوچھا اور انتہائی شفقت سے کہا ’’نوجوان میں پہلوانوں کے خاندان سے ہوں داو پیچ خوب جانتی ہوں‘‘

پھر سب نے دیکھا ایک گھریلو خاتون نے تن تنہا اپنے شوہر ،پارٹی اور جمہوریت کی جنگ لڑی ۔اس دور میں کلثوم نواز سے رابطہ بھی جرم تھا۔ راولپنڈی کے چوہدری تنویر نے اپنے گھر میں جلسہ رکھ لیا ۔انتظامیہ نے ان کا جلوس نکال دیا چوہدری تنویر نے بھی پھر برسوں اس وفاداری کا قرض چکایا۔

میاں خاندان کی سعودی منتقلی سے قبل بارہا بیگم کلثوم نواز سے ملاقات رہی مشکلات کی آندھیوں کے سامنے پوری استقامت کے ساتھ کھڑی اس عورت کے ساتھ عقیدت کا رشتہ استوار ہوگیا ۔میں اکثر برملا کہا کرتا تھا کہ کلثوم نواز نے مشرقی عورت کے وقار کو بلند کیا جب اس کے مجازی خدا پر مشکل گھڑی آئی وہ گھر کی چاردیواری سے نکلی اور اس طاقت سے لڑی کہ وقت کے آمر کے بھی پسینے چھوٹ گئے۔ اس نے اپنی حکمت سے شوہر کو مشکل سے نکال لیا۔میرا یہ ماننا ہے کہ آج مسلم لیگ (ن) جن دگرگوں حالات کا شکار ہے اگر کلثوم نواز بستر مرگ پر نہ ہوتیں تو شاید حالات اس قدر بدتر بھی نہ ہوتے۔ مریم نواز اپنی والدہ کا عکس ہیں ہمت اور دلیری میں بالکل اپنی ماں پر گئی ہیں لیکن ان کا انتہائی جذباتی پن ان کیلئے مشکلات کے نت نئے راستے کھولتا رہتا ہے کاش وہ اپنی ماں سے حکمت اور تدبر بھی سیکھ لیتیں۔

کلثوم نواز آج ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کی شجاعت ہمیشہ زندہ رہے گی ان کی شفقت میرے لیئے اثاثہ ہے ۔برسوں بعد بھی جب ان سے سامنا ہوا ۔انہوں نے ہمیشہ انتہائی محبت کا ثبوت دیا۔ آخری بار اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ایک تقریب کے دوران ان سے آمنا سامنا ہوا۔ انہوں نے نام لے کر کئی صحافی دوستوں کی خیریت دریافت کی۔ انہوں نے مشکل دور میں ساتھ دینے والے تمام ساتھیوں کو آخری سانس تک یاد رکھا ۔چونکہ پارٹی کے معاملات میں بالکل دخل نہیں دیتی تھیں اس لیئے شاید بہت سارے لوگوں کو ان کا جائز مقام نہ دلوا پائی ہوں مگر ان کی کوشش اور خلوص میں کبھی کمی نہیں دیکھی۔

مجھے دکھ ہے کہ اس عظیم عورت نے زندگی کے آخری لمحات بہت تکلیف میں گزارے جب وہ موت اور زندگی کی جنگ لڑرہی تھی تو نواز شریف اور مریم کو ان کے پاس رکنے نہ دیا گیا اور جب وہ زندگی کی آخری سانسیں ہاررہی تھیں تو ان کا شوہر اور بیٹی قید و بند میں تھے۔ لیکن ہماری تاریخ سیاست کے ایسے ہی گھناونے کھیلوں سے عبارت ہے ۔بیگم کلثوم نواز کی وفات نے جہاں ہم سے جمہوریت کے ایک اور داعی کو چھین لیا ہے ،وہیں نظام کی بے رحمی کو بھی کھول کر رکھ دیا ہے۔

 نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ