وہ وقت جب دور آمریت میں شریف خاندان جیل میں ڈال دیا گیا لیکن کلثوم نواز ڈٹ گئیں اور تحریک شروع کردی، انتظامیہ نے ان کو گاڑی سمیت ہی کرین سے اٹھا لیا تھا اور پھر۔۔۔

وہ وقت جب دور آمریت میں شریف خاندان جیل میں ڈال دیا گیا لیکن کلثوم نواز ڈٹ ...
وہ وقت جب دور آمریت میں شریف خاندان جیل میں ڈال دیا گیا لیکن کلثوم نواز ڈٹ گئیں اور تحریک شروع کردی، انتظامیہ نے ان کو گاڑی سمیت ہی کرین سے اٹھا لیا تھا اور پھر۔۔۔

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان کی تین مرتبہ خاتون اول بننے کا اعزاز حاصل کرنے والی محتر مہ کلثوم نواز گزشتہ روز لندن میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئی ہیں جن کی نماز جنازہ لندن کے ریجنٹ پلاز ہ میں ادا کی جائے گی اور اس کے بعد ان کا جسد خاکی کل صبح پاکستان لایا جائے گا اور اس کے بعد ان کی نماز جنازہ دوبارہ یہاں پر بھی ادا کی جائے گی ۔کلثوم نواز کو جاتی امراءمیں ہی میاں محمد شریف کے پہلو میں دفن کیا جائے گا ۔

تفصیلات کے مطابق پرویز مشرف نے نوازشریف کی حکومت کا تختہ الٹا تو خاندان کے تمام افراد اور سینئر رہنماﺅں کو گرفتار کر لیا گیا اب نوازشریف کیلئے سڑکوں پر نکل کر انصاف کا مطالبہ کرنے والا کوئی نہیں تھا تو بیگم کلثوم نوازنے آمریت کو للکارا اور آمریت کے خلاف ثابت قدم رہیں۔ ان کی اسلام آباد میں سرگرمیاں نمائیاں رہیں ، انہوں نے کارکنوں اور پارٹی ورکروں کا حوصلہ بلند کرنے کیلئے جلسے اور ریلیاں نکالیں تاہم انہوں نے f-10کے بنگلے میں رہائش اختیارکی جو کہ آمریت مخالف سرگرمیوں کا مرکز رہا ۔ جس وقت بڑے بڑے سیاستدان خوفزدہ تھے اس وقت کلثوم نواز فوجی آمریت کا بے خوفی اور بہادری کے ساتھ مقابلہ کرتی رہیں ۔ وہ 1999 سے 2002 تک مسلم لیگ ن کی صدر بھی رہیں ۔

اس سیاسی جدو جہد کے دوران ایک مشہور واقعہ بھی پیش آیا جسے بین الاقوامی میڈیانے بھی شہہ سرخیوں میں شائع کیا ، کلثوم نواز کو 8 جولائی 2000 میں ریلی کی قیادت کرنی تھی اور اسے روکنے کیلئے ان کے گھر کے باہر اور دیگر مقامات پر سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی نفری تعینات کی گئی تھی تاہم کلثوم نواز اپنی سفید رنگ کی کرولا گاڑی میں گھر سے نکلیں اور پولیس نے انہیں روک لیا لیکن بیگم کلثوم نواز نے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا اور وہ اپنی گاڑی میں تقریبا 10 گھنٹے تک بیٹھی رہیں ۔

کلثوم نواز کو گاڑی سے باہر نکالنے کیلئے ہر حربہ اپنایا گیا لیکن انہوں نے اپنی گاڑی کو اندر سے لاک کر رکھا تھا تاہم ان کی گاڑی کو وہاں سے ہٹانے کیلئے کرین منگوائی گئی اور اس کے ساتھ باند ھ کر اٹھایا گیا اور اسے قریب ہی واقع آرمی کی بیرک میں لے جایا گیا جہاں گاڑی کے دروازے کو کھولنے کیلئے مکینک کو بھی بلایا گیا لیکن وہ بھی گاڑی کے لاک کو کھولنے میں ناکام رہا تاہم بعد ازاں گاڑی میں شدید گرمی کے باعث اہلکاروں کی جانب سے ایک ایمبولینس بھی منگوائی گئی ۔اس تمام صورتحال کے باوجود بھی کلثوم نواز نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا تھا تاہم وہ کسی طریقے سے وہاں سے رات گئے نکلیں اور گھر پہنچیں ۔

مزید : قومی