A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

کلثوم نواز اور سوشل میڈیا 

کلثوم نواز اور سوشل میڈیا 

Sep 12, 2018 | 14:07:PM

عمارہ کنول

پاکستان میں پہلی بار تین بار خاتون اوّل رہنے والی بیگم کلثوم نواز خوبصورت اور نڈر خاتون تھیں ۔ انکے خون میں گاما پہلوان جیسے رستم زماں کا خون گردش کرتا تھا پس وہ بہادری اور حوصلہ لیکر پیدا ہوئیں اور اپنے نانا کا بھی نام اونچا کیا ۔ اپنی موت و زندگی کا آخری دنگل وہ گیارہ ستمبر کو لندن کے ایک ہسپتال میں میلوں دور ناکردہ جرم کی سزا کاٹتے شوہر اور بیٹی کی غیر موجودگی میں ہار گئیں۔کیا اسے اتفا ق کہنا چاہئے کہ گیارہ ستمبر کے نام ایک اور پاکستانی لیڈر کا نام نتھی ہوگیا ہے ۔قائد اعظم کی رحلت کے بعد کلثوم نوازجیسی آئرن لیڈی نے بھی اس دن کو یہ اعزاز بخشا ہے۔کہ جب بھی یہ دن طلوع ہواکرے گا،ان کی یادیں آئیں گی۔

میں نے بہت سے کم ظرف لوگوں کوسوشل میڈیا پر کلثوم نواز کی بیماری اورموت پر ہنستے دیکھا ہے ،اسکو سیاسی ڈرامہکہا گیا،ایک کمزور ترین مسلمان کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہونا چاہئے ۔جانے والے کی برائیاں نہیں کرنی چاہئیں لیکن کلثوم نواز توشرافت کا نمونہ تھیں،سیاسی عیاریوں سے پاک ۔۔۔سوشل میڈیا پر ان کے بارے طنزیہ باتیں پڑھ کر میرا دکھ اور بڑھ گیا ہے ۔میں بیٹی ہوں،ماں کا دکھ سمجھتی ہوں ۔ماں بیٹی کا بہت بڑا سہارا ہوتی ہے ۔مجھے یاد ہے جب کلمہ شہادت کا ورد کرتی میری ماں نے اشارے سے دوا کی پرچی میرے ہاتھ میں دی ، میں دوا لیکر دوبارہ وارڈ میں داخل ہوئی تو وہ جا چکی تھیں۔ میری ماں کی موت کے بعد سوشل میڈیا کے دوستوں نے مجھے سہارا دیا۔لیکن اسی سوشل میڈیا پر میں نے بیگم کلثوم نواز کی بیماری اور پھر موت پر کچھ بے حس لوگوں کو تماشہ بناتے دیکھا تو خون کے آنسو رونے کو دل چاہا ہے ۔

یہی وہ لوگ ہیں جو ایک روپیہ پرچی فیس والے سرکاری ہسپتالوں کا بھی مذاق اڑاتے ہیں ۔وہ ہسپتال کہ جہاں مشینری اور فری ادویات ہیں،ایسی سہولتیں باہر موجود کسی میڈیکل سٹور یا پرائیویٹ ہسپتال میں نہیں ہوں گی۔ ایسے میں لیڈر کو مورد الزام ٹھہرانا کہ سرکاری ہسپتالوں میں غریبوں کی غربت کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور ہسپتال سہولیات سے خالی ہیں،محض ناقدین کی کینہ پروری کے سوا کچھ نہیں ۔یہ لوگ کبھی جائیں تو ان ہسپتالوں میں۔۔ آپ اور ہم جیسے لوگ جن کے پاس چار پیسے ہیں،اس لئے آپ پرائیویٹ ڈاکٹر کے پاس جانے کو ترجیح دیتے ہیں کہ وہاں پروٹوکول مل جاتا ہے ۔قطاروں میں نہیں لگنا پڑتا۔ آپ جیسے احساس سے عاری لوگ اس حقیقت کو کبھی نہیں سمجھ سکیں گے کہ موت و پیدائش کا جو وقت جدھر مقرر ہے وہ ادھر ہی آئیگا۔سہولیات کا رونا روتے روتے ہم مرجاتے ہیں او رجو مل رہی ہوتی ہیں ان کا شکر ادا نہیں کرتے ۔ جا کر کبھی سرکاری ہسپتال کے عملے سے ملیں ،انتہائی تعاون کرنے والے لوگ وہاں بھی موجود ہیں ،بات یہ ہے کہ ہم ایسے ناقدین نوابی مزاج لیکر ان ہسپتالوں میں جاتے ہیں۔ ان ہسپتالوں میں تو مریضوں کو فری کھانا بھی ملتا ہے ۔داد دیں کہ ہسپتال کا عملہ اور ڈاکٹر دن رات ان ہسپتالوں میں مہلک جراثیم کے درمیان رہتے اور علاج کرتے ہیں ۔ آپ اور مجھ جیسے چند لوگوں کوتو الرجی ہو جاتی ہے ان ہسپتالوں میں۔ہسپتالوں کا یہ معیار ن لیگ کے دورمیں بلند ہوا ہے ۔کبھی حقائق اور سچائی کیساتھ ان باتوں کا جائزہ لیں گے تو آپ کو نہ سرکاری ہسپتالوں پر تنقید کرنا اچھا لگے گا نہ ان سیاستدانوں پر جو ملک سے باہر علاج کراتے ہیں ۔

۔

 نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں