A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

یہی میرے منصف ہونے کی بڑی دلیل ہے کہ عاصمہ جہانگیرمیری بہن تھیں لیکن میں نے کبھی انہیں ریلیف نہیں دیا،چیف جسٹس ثاقب نثار

یہی میرے منصف ہونے کی بڑی دلیل ہے کہ عاصمہ جہانگیرمیری بہن تھیں لیکن میں نے کبھی انہیں ریلیف نہیں دیا،چیف جسٹس ثاقب نثار

Sep 12, 2018 | 14:13:PM

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ یہی میرے منصف ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے،عاصمہ جہانگیرمیری بہن تھیں لیکن میں نے کبھی انھیں قانون سے ہٹ کرریلیف نہیں دیا،اعتزازصاحب میری مجبوری ہے کہ آپکی شکل دیکھ کر ریلیف نہیں دے سکتا،آپ فارم ہاوسزوالوں کیلئے ریلیف مانگ رہے ہیں کچی آبادی والوں کا کیا قصورہے؟۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے اسلام آباد میں ایگرو فارمز پر غیر قانونی گھروں کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کی،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایگرو فارمز کسی اورمقصد کےلئے بنائے گئے تھے ان کی جگہ محل بن گئے،آپ چاہتے ہیں کہ سب پلاٹس پر کنسٹرکشن کر دی جائے،یہ چھوٹے لوگوں کو دیا گیا تھا کہ اس میں سبزیاں اگائیں،مگر وہاں بڑے بڑے لوگوں نے قبضہ کر لیا ہے،بتائیں کہ ماسٹر پلان کیا تھا کہ کتنی کنسٹرکشن ہو سکتی ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ ہرپلاٹ میں اسی فیصد فارم اوربیس فیصد کنسٹرکشن ہوسکتی ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اس مقدمے میں فریق نہیں تھے،اعتزاز احسن نے کہا کہ ہم متاثرین ہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جس مقصد کےلئے ایگروفارم دیئے گئے وہ وہیں کا وہیں رہا،ان فارمز پرمحل تعمیر ہوگئے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ اسی معاملے پرغلط فہمی دور کرنے کی ضرورت ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ یہ توامیروں کو مزید امیر کرنے والی بات ہے،اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ پلاٹ متاثرین کودیئے گئے تھے،ان پلاٹس کی نیلامی نہیں ہوئی ۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اعتزاز صاحب آپ جاکر تو دیکھیں وہاں کیا کیا بنا دیا گیا ہے،آپ پرانی تعمیرات کی منظوری دکھا دیں،اعتزاز احسن نے کہا کہ 80 فیصد زمین فارم کیلئے اور 20 فیصد تعمیرات کی اجازت تھی،جنتی تعمیرات کی اجازت تھی اس کا مقصد بھی دیا گیا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اس میں مالی اور منیجر وغیرہ کے گھر شامل ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ چھوٹے چھوٹے کسان جووہاں فارمنگ کررہے ہیں ان کے نام توبتا دیں،میں نے نام گنوانے شروع کئے تو آپ کو بھی احساس ہوگا،ہم آپ کو منصف مقرر کر دیتے ہیں،ہم نے امیر آدمی کا ہی تحفظ کرنا ہے کیا؟بتا دیں ماسٹر پلان میں کیا تھا اور اب کیا ہے؟۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہی میرے منصف ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے،عاصمہ جہانگیرمیری بہن تھیں لیکن میں نے کبھی انھیں قانون سے ہٹ کرریلیف نہیں دیا،اعتزازصاحب میری مجبوری ہے کہ آپکی شکل دیکھ کرریلیف نہیں دے سکتا،آپ فارم ہاوسزوالوں کیلئے ریلیف مانگ رہے ہیں کچی آبادی والوں کا کیا قصورہے؟ ۔

اعتزاز احسن نے کہاکہ میرے لیے کچی بستی والے اور فارم ہاوسز والے برابر ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ پھرایسا کرتے ہیں کچی بستی والوں کوفارم ہاوسزاورفارم ہاوس والوں کوکچی بستی بھیج دیتے ہیں،کبھی معاشرے کے محروم طبقوں کےلئے بھی بات کیجیے،میں چہرے دیکھ کر ریلیف نہیں دیتا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر قانون کے اندر رہ کر کوئی جگہ کو رہائش کیلئے بنائے تو یہ غلط نہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ 9500 اسکوائر فٹ سے اوپر کی تعمیرات کو سپریم کورٹ نے گرانے کا حکم دیا،ہو سکتا ہے کفایت شعاری کرنے والی حکومت تعمیرات گرانے کا حکم دے،قانون سازی کیلیے یہ معاملہ حکومت کو بھیج دیتے ہیں،مشورہ کرکے ہمیں آج ہی بتائیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فارم ہاو¿سزکا مقصد بڑے بڑے گھر بنانا نہیں بلکہ ایگرو ضروریات پوری کرنا تھا،اعتزاز احسن نے کہا کہ اسلام آباد کو کافی مقدار میں پھل اور سبزیاں ان فارمز سے ملتی ہیں،جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے،چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہم ان تمام فارمزکوماسٹر پلان کیخلاف قراردیں توآپ کہاں کھڑے ہونگے؟یہ کچی آبادیوں کے لوگ نہیں ہیں۔

چیف جسٹس نے اعتزاز احسن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا احترام اپنی جگہ ہے،اعتزاز احسن نے کہا کہ آپ نے ریلیف درخواست گزاروں کو دینا ہے،مجھے نہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی کچھ دیر قبل سکول کے بچے ڈیم فنڈ میں چندہ دے کر گئے ہیں، ڈیمز بن کررہیں گے۔

مزیدخبریں