امریکی عدالت نے الخبر دھماکے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرا دیا، 104.7 ملین ڈالر معاوضے کا حکم

12 ستمبر 2018 (16:22)

جدہ (محمد اکرم اسد) امریکہ کی وفاقی عدالت نے ایران کو سعودی عرب کے شہر الخبر بم دھماکے سے جاں بحق ہونے والوں کے اعزہ کو 104.7ملین ڈالر(393ملین ریال) معاوضے کا پابند بنا دیا۔ 1996ءکے دوران سعودی شہر الخبر میں ٹرک دھماکے سے 19امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

ایران کے خلاف واشنگٹن کی امریکی عدالت کا فیصلہ الخبر ٹاورز کمپلیکس کے سامنے ہونے والے ٹرک دھماکے میں ایران اور پاسداران انقلاب کے کردار پر فیصلہ صادر ہوا۔ ابھی تک یہ نہیں پتہ چل سکا کہ مذکورہ دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کے اعزہ ایران سے مذکورہ معاوضہ کب اور کیسے وصول کریں گے۔ خاتون جج بیرل ہاﺅل نے خبررساں ادارے کو بتایا کہ دھماکے کے وقت کمپلیکس میں 15فوجی موجود تھے۔ وہ حملے سے ہونے والے ذہنی نقصان کی بنیاد پر معاوضے کے حقدار ہو سکتے ہیں۔ ان کے 24رشتے دار بھی معاوضے کے مستحق ہوں گے۔

اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لبنانی حزب اللہ کے 13ارکان کے خلاف امریکی ریاست ورجینیا میں اسکندریہ کی وفاقی عدالت نے جون 2001ءمیں فیصلہ صادر کر کے انہیں مذکورہ حملے کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ اس حملے میں 19افراد ہلاک اور 372زخمی ہوئے تھے۔ ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ نے 25جون 1996ءکو الخبرٹاور دھماکہ کیا تھا۔ وہ لبنان سے دھماکہ خیز مواد سعودی عرب لائے تھے۔ مملکت میں انہوں نے بڑا گیس ٹینکر خرید کر اسے بارودی بم میں تبدیل کر دیا تھا۔

ملزمان میں عبدالکریم حسین الناصر، احمد المغسل،علی سعید الحوری، ابراہیم صالح الیعقوب اور لبنان کے ایک نا معلوم شخص نے 1996ءکے ماہ جون کے اوائل میں ٹینکر خریدا تھا او ر2ہفتے کے دوران اسے بم میں تبدیل کر دیا تھا ۔ زخمی ہونے والوں میں متعدد ممالک کے شہری شامل تھے۔ سعودی سیکیورٹی فورس نے مذکورہ واردات کے 19برس بعد اگست 2015ءکے دوران مذکورہ سعودی مطلوبین میں سے ایک کو ڈرامائی انداز میں گرفتار کر لیا تھا۔ احمد المغسل کو جو القطیف کا باشندہ اور بین الاقوامی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل تھا لبنانی سیکیورٹی کی مددسے گرفتار کیا تھا۔

سعودی حکام کو پتہ چلا تھا کہ المغسل ایران سے بیروت منتقل ہو رہا ہے۔ المغسل الخبرٹاور دھماکے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ اسے لبنان میں گرفتار کرا کر سعودی عرب لایا گیا۔ المغسل کی گرفتاری کو سعودی سیکیورٹی فورس کی بڑی کامیابی شمار کیا گیا تھا کیونکہ وہ برسہا برس سے روپوش تھا، اپنی شناخت تبدیل کرچکا تھا اور اس کی نقل و حرکت کا کسی کو علم نہیں تھا۔

مزیدخبریں