مردانہ عضو کے بغیر پیدا ہونے والے 45 سالہ شخص کا بالآخر ڈاکٹروں نے ایسا علاج کردیا کہ جان کر عقل دنگ رہ جائے

مردانہ عضو کے بغیر پیدا ہونے والے 45 سالہ شخص کا بالآخر ڈاکٹروں نے ایسا علاج ...
مردانہ عضو کے بغیر پیدا ہونے والے 45 سالہ شخص کا بالآخر ڈاکٹروں نے ایسا علاج کردیا کہ جان کر عقل دنگ رہ جائے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) پیدائشی خواجہ سرا کے لیے غیرممکن ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی سرجری کے ذریعے اپنی جنس کا ازسرنو تعین کر سکے لیکن اب برطانیہ میں ڈاکٹروں نے ایک ناممکن کو ایسے طریقے سے ممکن بنا ڈالا ہے کہ سن کر آپ کے لیے یقین کرنا ممکن نہ ہو گا۔ میل آن لائن کے مطابق برطانوی شہر مانچسٹر کا اینڈریو وارڈل نامی یہ 44سالہ شخص پیدائشی خواجہ سرا تھا تاہم اس کی خواہش تھی کہ وہ مردانہ خصوصیات کا حامل ہو۔اب ڈاکٹروں نے 50ہزار پاﺅنڈ (تقریباً 80لاکھ 39ہزار روپے) کی لاگت سے ایک آپریشن کرکے اس کی یہ خواہش پوری کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں نے اینڈریو کے بازو اور ٹانگ سے گوشت کاٹ کر اس سے مردانہ عضو بنایا اور اسے اینڈریو کے جسم کے ساتھ لگا دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے خصیوں کی جگہ دو الیکٹرک پمپ نصب کیے ہیں جو ایستادگی میں مدد دیں گے۔ ان پمپس کے ذریعے عضو میں ہوا بھر جائے گی اور وہ ایستادہ ہو جائے گا اور جب پمپ بند کیے جائیں گے تو واپس سکڑ جائے گا اور اینڈریو جب چاہے یہ پمپ آن یا آف کر سکتا ہے۔اینڈریو کا کہنا ہے کہ ”میں نے اپنی پوری عمر جنسی عمل کے بغیر گزاری ہے۔ میری ایک گرل فرینڈ بھی ہے جس کا نام فیڈرا ہے۔ ہم 6سال سے ایک ساتھ ہیں۔ میں بہت خوش ہوں کہ اب میں بھی ایک بھرپور مردانہ زندگی گزار سکوں گا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ