’مجھے توقع نہ تھی کہ۔۔۔‘ القاعدہ میں شمولیت کے لئے امریکہ سے بھاگ کر افغانستان جانے والے شخص نے مایوس ہوکر ایسی بات کہہ دی کہ ہر کوئی حیران پریشان رہ گیا

’مجھے توقع نہ تھی کہ۔۔۔‘ القاعدہ میں شمولیت کے لئے امریکہ سے بھاگ کر ...
’مجھے توقع نہ تھی کہ۔۔۔‘ القاعدہ میں شمولیت کے لئے امریکہ سے بھاگ کر افغانستان جانے والے شخص نے مایوس ہوکر ایسی بات کہہ دی کہ ہر کوئی حیران پریشان رہ گیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)34سالہ برینٹ نیل وینس نامی امریکی شخص القاعدہ میں شامل ہونے کے لیے بھاگ کر افغانستان چلا گیا، کئی سال القاعدہ کے ساتھ رہنے کے بعد وہ امریکی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہو کر جیل پہنچ گیا۔ اب رہائی کے بعد اس نے اپنے القاعدہ کے ساتھ گزرے سالوں کے بارے میں ایسی بات کہہ دی ہے کہ ہر سننے والا دنگ رہ گیا۔ میل آن لائن کے مطابق برینٹ نیل وینس نے کہا ہے کہ ”بطور دہشت گرد میری زندگی انتہائی ’بور‘ اور اکتا دینے والی تھی۔ میں جہاد کے متعلق جس طرح کی پرجوش زندگی اور مہم جوئی کے بارے میں سوچ کر گیا تھا، وہاں ویسا کچھ بھی نہیں تھا۔افغانستان میں جو دن سب سے زیادہ پرلطف تھے وہ ٹریننگ کیمپ کے دن تھے۔ ٹریننگ کے دوران جب مجھے فائرنگ کرنے کی اجازت دی گئی تب میں بہت زیادہ خوش تھا تاہم مجھے کبھی کسی انسان پر فائرنگ کرنے کا موقع نہیں ملا۔ مجھے صرف ایک بار ایک مشن پر بھیجا گیا جو ناکام ہو گیا تھا۔ میں نے کئی بار خودکش حملے کے لیے رضاکارانہ طور پر اپنے آپ کو پیش کیا لیکن میرے سینئرز نے میری پیشکش ہر بار مسترد کر دی اور مجھے خودکش حملے کے لیے بھی نہیں بھیجا گیا۔ ایک سال سے زائد وقت جو میں نے القاعدہ کے ساتھ گزارا، اس میں زیادہ تر میں بیکار ہی رہا۔“

برینٹ نیل نے بتایا کہ ”افغانستان میں ہم مٹی کی کچی اینٹوں سے بنے گھروں میں رہتے تھے۔ وہاں ہمیں انتہائی ناقص کھانا ملتا تھا۔ زیادہ تر کھانے میں چاول اور آلو ہوتے تھے۔ہم میں جو عرب شہری تھے وہ امیر تھے۔ وہ اپنے لیے بھیڑ، بکریاں اور مرغیاں وغیرہ خریدتے اور ان کا گوشت کھاتے تھے۔القاعدہ میں موجود زیادہ تر لوگ ہمہ وقت فراغت کی زندگی سے بیزار رہتے تھے۔ رپورٹ کے مطابق برینٹ نیل ستمبر 2007ءمیں امریکہ سے بھاگ کر افغانستان گیا اور القاعدہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ 2008میں اسے ایک آپریشن کے دوران امریکی فوج نے گرفتار کرکے واپس امریکہ بھیج دیا جہاں اس پر مقدمہ چلایا گیا اور اسے قید کی سزا سنا دی گئی۔ 2017ءمیں وہ امریکہ کی فیڈرل جیل سے رہا ہوا اور اب نیویارک میں بے روزگاری کی زندگی گزار رہا ہے۔

مزید : بین الاقوامی