وہ ایک چیز جو حاملہ خواتین کو ہرگز نہیں کھانی چاہیے، سائنسدانوں نے وہ بات بتادی جو پاکستانی والدین کو ضرور معلوم ہونی چاہیے

وہ ایک چیز جو حاملہ خواتین کو ہرگز نہیں کھانی چاہیے، سائنسدانوں نے وہ بات ...
وہ ایک چیز جو حاملہ خواتین کو ہرگز نہیں کھانی چاہیے، سائنسدانوں نے وہ بات بتادی جو پاکستانی والدین کو ضرور معلوم ہونی چاہیے

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ مائیں اپنے بچوں کا بچا ہوا کھانا خود کھا لیتی ہیں لیکن اب سائنسدانوں نے حاملہ خواتین کے لیے اس کا ایک انتہائی خوفناک نقصان بتا دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ”حاملہ خواتین کو نہ صرف بچوں کا بچا ہوا کھانا نہیں کھانا چاہیے بلکہ بچوں کو بوسہ دینے سے بھی گریز کرنا چاہیے، کیونکہ بچوں کے لعابِ سے ان میں ایک خطرناک وائرس داخل ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور یہ وائرس ان کے پیٹ میں موجود بچے کو پیدائشی بہرہ بنا سکتا ہے۔ “

لندن کی سینٹ جارجز یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے مزید بتایا کہ اس وائرس کا نام سائیٹومیگالووائرس (Cytomegalovirus) ہے۔ یہ بچوں کے لعاب میں موجود ہوتا ہے، جو ان کے بچے ہوئے کھانے سے اور انہیں بوسہ دینے سے خواتین میں منتقل ہو سکتا ہے اور ان کے پیٹ میں پلنے والے بچے کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔اب تک اس وائرس کے کئی کیس سامنے آ چکے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر کریسی جونز کا کہنا تھا کہ ”ہماری اس تحقیق کا مرکزی خیال یہ ہے کہ حاملہ خواتین کو ہر ممکن کم عمر بچوں کے لعاب سے بچنا چاہیے، وہ کھانے کی صورت میں ہو یا بچے کو ہونٹوں پر بوسہ دینے کی صورت میں۔ حاملہ خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو ہونٹوں کی بجائے ماتھے پر بوسہ دیا کریں۔“

مزید : تعلیم و صحت