’اس لڑکی سے دوستی اور پھر پیار ہوگیا، میں نے اپنی ماں کو تصویر دکھائی تو وہ غصے سے آگ بگولہ ہوگئیں کیونکہ۔۔۔‘ اس پاکستانی لڑکے کی پسند کو اس کی ماں نے مسترد کیوں کردیا؟ جان کر ہر پاکستانی کو بے حد دکھ ہوگا

12 ستمبر 2018 (19:59)

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)ہمارے ہاں لڑکے کا رشتہ ڈھونڈنے کی بات ہو تو والدین کمال ہی کر دیتے ہیں۔ اپنا بیٹا جیسا بھی ہو لیکن بہو ایسی چاہیے جس کی دنیا میں کوئی دوسری مثال نا مل سکے۔ افسوس کہ یہ رویہ صرف ان پڑھ طبقے میں نہیں بلکہ پڑھے لکھے لوگوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ مثال دیکھنا چاہیں تو اس نوجوان کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ دیکھ لیجئے، جو اپنی والدہ کو اعلٰی تعلیم یافتہ اور سلجھی ہوئی خاتون سمجھتا تھا، مگر جب بیچارے نے لڑکی پسند کی تو والدہ کا وہ روپ دیکھنا پڑ گیا جس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔

ویب سائٹ Pahrloکے مطابق یہ نوجوان لکھتا ہے کہ ”دو بہنوں کا چھوٹا بھائی ہونے کی وجہ سے میری بہنیں اور والدہ میری شادی کے متعلق بہت پرجوش تھیں۔ انہوں نے میری شادی کے لئے سب تیاریاں مکمل کررکھی تھیں، اب بس لڑکی کی تلاش تھی۔ میری والدہ ہمیشہ کہتی تھیں ’لڑکی بھلے گوری نہ ہو، بس پڑھی لکھی ہو! اس کا دل چاہے تو جاب کرے یا گھر میں رہے۔‘ اور میں اپنی والدہ اور بہنوں کے ایسے اچھے خیالات کی بہت تعریف کرتا تھا۔

میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کررہا تھا اور بالآخر وہیں مجھے وہ لڑکی بھی مل گئی جسے میں اپنا جیون ساتھی بنانا چاہتا تھا۔ وہ ہماری کمپنی میں انٹرن شپ کے لئے آئی تھی اور اس کی ٹریننگ میرے ذمے تھی۔ تین ماہ کی انٹرن شپ کے دوران ہمارے درمیان بہت اچھا تعلق استوار ہوگیا تھا۔ پھر جب میں نے شادی کی خواہش کا اظہار کیا تو اس نے بھی مثبت جواب دیا۔

بہت ارمانوں کے ساتھ میں نے اپنی والدہ کو اس لڑکی کے متعلق سب کچھ بتایا، لیکن میری والدہ نے کچھ ایسے سوالات پوچھے کہ میں بالکل حیران رہ گیا۔ انہوں نے پوچھا ’اس کا باپ کیا کرتا ہے؟ وہ سُنی تو ہے نا؟ تمہارے جتنا قد ہے اُس کا؟ یہ سب باتیں ہیں تو پھر دیکھیں گے کہ اُن لوگوں سے ملنا ہے یا نہیں۔‘

میرے لئے اُن کی یہ باتیں ہی کچھ کم حیران کن نہیں تھیں لیکن جب میں نے انہیں لڑکی تو کی تصویر دکھائی تو وہ کہنے لگیں ”ہائے! اس کا رنگ تو بالکل دبا ہوا سا ہے۔ تمہارے ساتھ بالکل اچھی نہیں لگے گی۔ بیٹا کوئی اور لڑکی دیکھ لو!“ میں نے ان سے مزید بات کرنے کی کوشش کی مگر وہ سننے کے موڈ میں نہیں تھیں۔ میں انتہائی مایوسی اور خاموشی کے ساتھ کمرے سے باہر آگیا۔

مجھے اپنی والدہ سے ایسی منافقت کی توقع نہیں تھی، لیکن میں ایک ایسی لڑکی سے شادی کرنے کی ہمت نہیں کرسکا جسے میری والدہ قبول کرنے کو تیار نہیں تھیں۔ میں اُسے اپنے گھر میں لاکر اُس کے لئے زندگی مشکل نہیں بناسکتا تھا۔بہرحال، اب مجھے اس بات کی سمجھ آئی ہے کہ لوگ کیوں یہ کہتے ہیں کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہوتی ہے۔“

مزیدخبریں