بیگم کلثوم نواز کا شادی سے پہلے کیا نام تھا اور انہوں نے اردوادب میں کس عنوان پر مقالہ لکھا تھا ؟ایسی تفصیلات سامنے آگئیں کہ آپ بھی حیران رہ جائیں گے 

بیگم کلثوم نواز کا شادی سے پہلے کیا نام تھا اور انہوں نے اردوادب میں کس عنوان ...
بیگم کلثوم نواز کا شادی سے پہلے کیا نام تھا اور انہوں نے اردوادب میں کس عنوان پر مقالہ لکھا تھا ؟ایسی تفصیلات سامنے آگئیں کہ آپ بھی حیران رہ جائیں گے 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ محترمہ کلثوم نواز کے انتقال سے ملکی سیاست سوگوار ہو چکی ہے،3مرتبہ سابق خاتون اول کا اعزاز حاصل کرنے والی بیگم کلثوم نواز کے بارے میں بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ شادی سے پہلے وہ کس نام سے شناخت رکھتی تھیں اور انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے اردو ادب کے لئے کس عنوان پر مقالہ لکھا تھا ؟۔

نجی ٹی وی چینل ’’سما نیوز ‘‘ کے مطابق سابق خاتون اول محترمہ بیگم کلثوم نواز ایک انتہائی وفا شعار اور دبنگ خاتون تھیں جنہوں نے دور آمریت میں اپنے شوہر کی قید کے دوران ایسا جرآت مندانہ کردار ادا کیا کہ ان کے شوہر کے سخت ترین حریف بھی ان کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے۔نے 29مارچ 1950ء کو برصغیر کے معروف کشمیری پہلوانوں کے خاندان میں رستم ہند امام بخش پہلوان کی صاحبزادی کی کوکھ سے جنم لینے والی مرحومہ بیگم کلثوم نواز کو اردو ادب سے گہرا لگاؤ تھا، انہوں نے 1971ء میں پنجاب یونیورسٹی سے اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی اور اسی سال ان کی میاں نواز شریف سے شادی ہوئی ۔شادی سے پہلے مرحومہ کلثوم نواز کا نام ’’کلثوم ریحانہ ‘‘ تھا اور ان کی تعلیمی اسناد میں بھی یہی نام درج ہے جبکہ انہوں نے اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے ’’رجب علی بیگ سرور کا تہذیبی شعور‘‘ کے عنوان سے ایک تفصیلی مقالہ لکھا جس میں انہوں نے کئی پہلوؤں کو اجاگر کیا ، 1985ء میں ان کے مقالے کو کتابی شکل دی گئی، سابق خاتون اول نے اپنا تھیسز ڈاکٹر سہیل احمد خان کی زیر نگرانی مکمل کیا تھا جبکہ ان کا لکھا گیا مقالہ آج بھی پنجاب یونیورسٹی میں ’’کلثوم ریحانہ ‘‘ کے نام سے موجود ہے۔واضح رہے کہ محترمہ کلثوم نواز نے 2007ء میں’’جبر اور جمہوریت‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی تحریر کی تھی جس میں مشرف دور میں ان کے خاندان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات اور اپنے شوہر کی رہائی کے لئے کی جانے والی سیاسی جدوجہدکے حوالے سے واقعات کو صفحہ قرطاس پر منتقل کیا گیا ہے ۔

مزید : قومی